ووٹ ہے ترازو کا

آج بچوں کو ماحولیاتی آلودگی، اس کے اسباب اور اثرات پڑھاتے ہوئے ایک مثال ذہن میں آئی میں نے بچوں سے سوال کیا، بچو!روزانہ آپ کے اسکول میں ڈھیروں بچے آتے ہیں جن کے پیروں کے ساتھ گرد اور کچرا لگ کر آتا ہے اور اسکول کے فرش گندے کر دیتا ہے۔ لیکن اسے صاف کون کرتا ہے ؟بچوں نے فوری جواب دیا: آیا (ماسی)

میں پھر انہیں سوچ پر اکسایا۔۔۔۔۔روزانہ جب آپ جاتے ہیں اسکول گندا ہوتا ہے ,لیکن اگلے دن جب آپ واپس آتے ہیں تو اسکول صاف ستھری حالت میں دکھائی دیتا ہے۔اب دیکھیے گندہ کرنے کا عمل تو بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن صاف کرنے کا عمل صرف دو ہاتھ کرتے ہیں۔گویا ماحول جتنا بھی گندہ ہو جائے ہم اسے گندہ ہی نہیں چھوڑ سکتے بلکہ صاف کرنے والے لوگ جتنے بھی کم ہوں مگر صفائی کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی۔

بچوں کو سمجھاتے سمجھاتے ذہنی رو بھٹکی اور وطن پاکستان کی ابتر ہوتی صورتحال کی طرف چلی گئی۔

الیکشن کا زمانہ ہے اور ہر باشعور ،پڑھے لکھے درد مند شہری کی طرح دل وطن عزیز کے دگرگوں حالات پر خون کے آنسو روتا ہے۔

کبھی لوگوں کی ناسمجھی کا غم کھاتا ہے اور کبھی انہی کے ووٹوں سے چنے گئے نمائندوں کی بے حسی پر دکھ ہوتا ہے۔

کبھی ہر محب وطن شہری کی طرح وطن عزیز کو برا بھلا کہنے والوں پرچار حرف بھیجنے کو دل چاہتا ہے اور کبھی پڑھے لکھے طبقے ،اسی وطن کے وظائف پر تعلیم یافتہ اور ماہر طبقے کو بیرون ملک روانہ ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

ایسے میں یہ مثال ایک امید بنی میرے لیے اور یقیناً آپ سب کے لیے بھی۔۔۔۔۔

سچ تو یہ ہے کہ اندھیرا جتنا گہرا بھی ہو، صبح تو آ کر رہتی ہے۔ رات جتنی بھی لمبی ہو ،صبح کے وجود سے انکار نہیں۔

اسی طرح ظالم کی رسی دراز ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کے کھنچنے سے انکار ممکن نہیں۔

لوگ سوال کرتے ہیں کیا کبھی کسی کے دور میں یہ اور یہ ہوا؟جو ہم اب امید رکھیں۔۔۔۔۔۔میرا جواب ہے، کیا آپ نے اور میں نے پہلے کبھی اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جو ایسا ہوتا۔

گھر کتناہی گندہ ہو جائے،کتنے ہی طوفان آکر گزر جائیں ۔۔۔۔اگر آپ نے صفائی کے ارادے سے جھاڑو اٹھا لی ہے ،تو یقیناً گھر بھی صاف ہو جائے گا۔

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو

طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

اور اللہ بھی قرآن میں یہی اصول بتاتا ہے۔

فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ،،، ترجمہ: پس جب تم کسی کام کا ارادہ باندھ لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

میری ہر صاحب عقل و شعور سے گزارش ہے کہ خدا را ملک و ملت کو برا نہ کہیں، یہ ہم سے ہے اور بے شک ہم بھی اس سے ہیں ۔۔۔۔گھر کتنا ہی پسماندہ اور ٹوٹا پھوٹا کیوں نہ ہو؟ اس کے مالک و معمار ہم ہی ہوتے ہیں۔ بھلا کوئی اپنے جھونپڑے کوبھی برا کہتا ہے؟

خدارا خود پر غور کیجئے،اس وطن کو سنوارنے میں میں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟

ہائے افسوس مجھے تو اپنے ووٹ کا ہی درست استعمال نہیں آتا۔مجھے تو کھوٹے اور کھرے کی ہی پہچان نہیں ۔

مجھے تو حق اور باطل کاپی فرق معلوم نہیں۔ میری تو سوچ ہی کنویں کے مینڈک والی ہے۔ میں تو ابھی اپنی ذات ہی کے دائرے سے نکل نہیں پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کہتا ہے میں فلاں کا وظیفہ خور ہوں ،کوئی کہتا ہے فلاں نےمیری تنخواہ بڑھا دی ،کوئی کہتا ہے فلاں نے مجھے نوکری دلا دی،کوئی کہتا فلاں مجھے راشن دیے گا۔۔۔۔۔میرا کہنا ہے جب ہم “میں” کے دائرے سے نکل کر “ہم ” کے گرد گھومنے لگے تو تبدیلی آئے گی۔

ضرورت صرف سوچ بدلنے کی ہے ،لینے کی بجائے دینے لگے تو ملک کے ہی نہیں ہمارے بھی حالات بدل جائیں گے۔

میرا ملک مالا مال ہے معدنیات اور زراعت سے ،میرے لوگ مالا مال ہیں علم اور صلاحیت سے۔۔۔۔۔۔۔۔کون کہتا ہے ۔۔۔۔۔اس ملک کے پلے کچھ نہیں ،نہ تو مدفون خزانے ختم ہو گئے اور نہ ہیں زمینیں بنجر ہو گئے اور نہ ہی لوگ مفلوج ہو ئے ہیں نہ ہی وطن کی آبادی کم ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔بات صرف عمل اور اور سوچ کی تبدیلی کی ہے

اور اس تبدیلی کی ابتدا مجھے خود سے کرنی ہے ۔میری بلا سے کوئی کرے یا نہ کرے ۔۔۔۔۔ہاں میں نے یہ کرنا ہے

چاہے مسائل کے بادل جتنے بھی گھنے ہو جائیں مجھے مایوس نہیں ہونا۔

چاہے دنیا ساری باطل کی ہمنوا ہو جائے ،مجھے حق اور سچ تلاشنا ہے۔

بھلے سارے لٹیرے بن جائیں، مجھے وطن کو بچانا ہے۔

جیسے بہت سے گند پھیلانے والوں میں ایک صفائی والے کی اہمیت مسلم ہے ایسے ہی میں نے وطن عزیز کے روشن دن لوٹانے کے لیے اپنی اہمیت سمجھ لی۔

پیارے ہم وطنو۔۔۔۔۔کیا آپ نے” اپنی” اہمیت سمجھ لی؟؟؟

اگر ہاں تو پھر ۔۔۔۔۔۔ووٹ دیجئے گا،،، ترازو کو

کیونکہ پاکستان کے روشن دنوں کا ہے

حل صرف جماعت اسلامی