ایسے قتل کا ذمہ دار کون؟

ہم اسلامی فلاحی مملکت خداداد پاکستان کے شہری ہیں جو خالصتاًمذہب کے نام پر وجود میں آیا ۔بر صغیر پاک وہند کی تقسیم کے وقت ہزاروں جانوں کے نذرانے دئیے گئے ،سیکڑوں عصمتیں تار تار ہوئیں، ننھے اور معصوم جگر گوشے مائوںکے سامنے نیزوں کی انیوں پر پرودئیے گئے،ظلم اور وحشت کا ایسا بازار گرم کیا گیا کہ جسے دیکھ کر اکثر مائیں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔

ہندوستان کے اندر وہیں پر رہ جانے والی ایک ایسی ہی اس وقت کی نوجوان اور آج کی اسی پچاسی سالہ ایک بوڑھی بدنصیب ماں جوان وحشت ناکیوں کا نشانہ بنی ،آج بھی دہلی کی سٹرکوں اور فٹ پاتھوں پر اپنے سفید بال بکھیرے ’’وہ دیکھووہ پاکستان‘‘پکارتی اور قہقہے لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تو فقط ایک مثال ہے ایسی کئی مثالیں اورزندہ لاشیں آپ کو ہندوستان اور پاکستان کی دھرتی پر موجود ملیں گی جو پاکستان کو حاصل کرنے کی محبت اور لگن میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھیں ۔پاکستان وجود میں آگیا۔ ہزاروں لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرزمین پر آکر آباد ہوگئے۔

سورج کی پہلی کرن سے آنکھ کھلی۔ ہر طرف ویرانی، اداسی اور زخموں سے رستے ہوئے خون کی بوماحول کو مزید وحشت ناک بنارہی تھی۔ اپنے بچھڑے ہووں کا غم اور اپنے پیاروں سے ہمیشہ کی جدائی آنکھوں میں طوفان بادوباراں لارہی تھی۔ خوف ودہشت کے مارے معصوم بچے، عورتیں آدھی رات کو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتے اور خوف سے چلانے لگتے۔ ان کے ذہنوں میں ان کے ساتھ ہونیوالے ظلم وجبر کی تیز آندھیاں اور خوفناک طوفان برپا تھے۔ دھن دولت سے پاک کپڑوں کے چند چیتھڑے لپیٹے یہ پاکستانی پھر بھی خوش دکھائی دے رہے تھے کہ آج وہ ایک غیر قوم اور اپنے بدترین دشمن کی غلامی سے آزاد اپنے پیارے وطن کی کھلی فضائوں میں بے خوف وخطر آزاد سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ حقیقی اورایک نمبر پاکستانی آج اپنے آزادوخود مختار پاکستان میں کس حال میں ہیں، کیا یہ واقعی اپنے ملک میں آزاد وبے خطر ہیں؟ کیا آج بھی ان کے تن پوری طرح ڈھکے ہوئے ہیں، یاوہی کپڑوں کے چند چیتھڑے ان کے بدن کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں؟ کیایہ آج اپنے بدترین دشمن کے ظلم وجبر اور ناانصافی وغلامی سے آزاد ہیں یا پھر اس سے بھی بدتر ظلم وجبر اور ناانصافیوں کا شکار ہیں؟ کیا یہ آج بھی بھوک ننگ غربت افلاس کے مارے ہوئے ہیں یا اپنے وطن میں خوشحال اور تندرست زندگی بسر کررہے ہیں؟

یہ وہ چند سوالات ہیں جن کے جواب حقیقی اور ایک نمبر پاکستانیوں کے چہروں پر اٹی ہوئی گرد اور گہری سلوٹیں ہم سے پوچھتی ہیں اورا کثر پوچھتی ہیں کہ ہم نے یہ ملک اسی لیے حاصل کیا جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، برداشت کررہے ہیں؟ اور یہ کہ آج ہم کس کے غلام ہیں؟وڈیروں کے، لیٹروں کے سرمایہ داروں کے ،جاگیرداروں کے، اپنوں کے یا غیر وں کے؟کون دشمن کون دوست ،اب تو ہم یہ پہچان بھی کھو چکے ہیں۔

اپنے ہی ملک میں اپنوں ہی کے ہاتھوں بدترین ظلم اورناانصافیوں کا شکار دردر کے دھکے اور ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔قتل وغارت گری اور عصمتیں برباد کرنے کے واقعات آئے روز اخبارات کی زینت بنے نظر آتے ہیں۔غنڈہ گردی ہر سطح پر اپنی حکمرانی قائم کئے نظر آتی ہے۔ اتنا شور، اتنا غل غپاڑہ، اتنی افراتفری اور اتنی بے لگام قوم یہ واقعی پاکستان ہے، ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ؟آج ہم بے حسی کی ایک ایسی بھیانک راہ پر چل نکلے ہیں کہ ہمیں اپنے ساتھ والے گھر تک کا علم نہیں کہ وہ اپنی زندگی کے دن کیسے بدترین طرز پر گذار رہا ہے اور پھر ہمیں پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ بھوک ننگ غربت افلاس سے تنگ آکر خود سوزی یا خود کشی کر چکا ہوتا ہے۔ غربت وانصافی کے ان ماروں کی خود کشیوں اور خود سوزیوں کی ایسی ایسی دل سوز داستانیں ہمارے سامنے ہیں جنہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

ایسا ہی ایک نوجوان جو ٹریفک سگنل کے ایک طرف کھڑا تھا، ہمارے رکتے ہی ہمارے پاس آیا اور بولا، بزرگو! آپ مجھے اچھرہ تک اتار دیں گے میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔ شکل وشباہت سے کسی اچھے گھرانے کا فرد معلوم ہوا تو میں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ میرے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر خاموشی توڑتے ہوئے بولا۔ بزرگو! آج میں نیت کرکے نکلا تھا تھا کہ کہیں پر خود کشی کر لونگا۔ میں اس کی بات پر چونکا۔ اور پوچھا کیوں؟ کہنے لگا۔ میں نے ایف ایس سی کیا ہوا ہے، معمولی سی جاب تھی زندگی گزررہی تھی مگر بیٹرہ غرق ہو، اس تبدیلی کا جس میں کروڑوں نوکریاں اور گھردینے کے جھوٹے دعوے کیے گئے تھے۔ آج اس تبدیلی کے اثرات ہم غریب بھگت رہے ہیں۔ بزرگو! یقین کریں سب کچھ کیا دھرا،عمران خان کا ہے، اس کی حکومت کے تین سال تاریخ کے بدترین سال ہیں۔ تبدیلی کے ان سالوں میں بے روزگار ہوا ہوں اور اب تک کہیں کوئی مستقل ملازمت نہیں مل سکی، ایک دوست کے ذریعے ایک سروس اسٹیشن پر گاڑیاں دھونے کاکام ملا تھا۔ گھر میں فاقوں کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے رکا لیکن دوماہ بعد ہی مالک نے حالات کی تنگدستی کا رونا روتے ہوئے وہاں سے فارغ کردیا۔ اب میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ کہاں جاؤں۔ والد صاحب فالج کے مریض ہیں اور میں تین بہنوں کا اکلوتا بڑا بھائی۔ والدہ وفات پاچکی ہیں۔ کوئی دوست کوئی رشتہ دار قریب آنے کو تیار نہیں۔ آپ اگر میری ملازمت کا کوئی بندوبست کردیں تو میں ساری زندگی آپ کا احسان مند رہونگا۔

میں نے پوچھا اس وقت رات کے گیارہ بجنے والے ہیں۔ کہاں سے آرہے ہو؟ کہنے لگا کسی نے بتایا تھا کہ پیکجز کمپنی میں ورکرز کی ضرورت ہے۔ میں وہاں گیا تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ ہمیں جتنے ملازمین چاہیے تھے وہ ہم نے رکھ لیے مزید کی گنجائش نہیں۔ میری جیب میں صرف دس روپے ہیں اور میں وہاں سے پیدل یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اسے تسلی دی اور سمجھایا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ بہتر راستہ نکالے گا۔ میں اسے گھر تک چھوڑنے گیا۔ اچھرہ کی تنگ وتاریک گلیوں میں نہایت چھوٹا ایک گھر۔ بیمار باپ اور تینوں بہنیں اس کے آنے کی منتظر تھیں۔ غالباً انہیں امید ہوگی کہ بھائی کسی خوشخبری کے ساتھ گھر آئے گااور ساتھ کھانا لائے گا۔ میری آنکھیں نم تھیں مجھے حضرت عمرؓ کا قول یاد آگیا کہ ’’دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مرگیا تواس کا جواب بھی عمر ؓ کو دینا پڑے گا‘‘مگر یہاں کتا تو درکنار ہزاروں لاکھوں اشرف المخلوقات بھوکوں مررہے ہیں۔ میرایہاں پر ایک سوال ہے کہ اگر وہ نوجوان خود کشی کرلیتا تو پھر ایسے قتل کا ذمہ دار کون ہوگا، ایسے قتل کا مقدمہ کس پر درج کیا جانا چاہیے، تمام اہل محلہ پر یا حاکم وقت پر؟۔