بچپن کی یادیں

جی ہاں ! یہ ایک حقیقت ہے کہ بچپن کی یادیں چاہیے تلخ ہوں یا شیریں آپ کے ساتھ ساتھ رہتیں ہیں، والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے ہی یاد گار نہیں رہتے وہ رشتے بھی یادگار ہوجاتے ہیں۔

ہم بہنیں بابا کی باتیں اور ان کے ساتھ سیر تفریح والی وہ گھڑیاں آج بھی ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں گزارے ہوئے وہ لمحے ہماری حسین یادوں کی کتاب ہے۔ اسی لیے ہم نے بھی اپنے بچوں کو خوبصورت بچپن دینے کی کوشش کی اور یہ کوشش آج بھی جاری ہے اپنی پوتی پوتوں نواسے اور نواسیوں کو ہم ایسے مواقع دیتے رہتے ہیں۔ یہ بچپن کی یادیں صرف یادیں ہی نہیں بلکہ تربیت کا زینہ بھی ہوتی ہیں۔

عدینہ (پوتی)، افشاں اوراحریمہ( نواسیاں) جس دن ملتی ہیں خوب ہلا گلا کرتی ہیں، گھر ان کی شرارتوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے کبھی آنکھ مچولی کبھی کرکٹ کھیلنا کھبی ٹیچر بن کر شاگردوں کو پڑھان ، کھیل میں امی کا کردار ادا کرنا تو کبھی کسی اور کا یہ ہی نہیں بلکہ کھیلتے ہوئے گھر کی چیزوں کو ادھر سے ادھر بکھیرنے کے بعد ان کو سمیٹنا یہ ان کے دلچسپ کھیل ہیں اور کھیلوں سے بور ہوجائیں تو میرا پہلو پکڑتی ہیں کہ ہمارے ساتھ کسوٹی کھیلیں یا ہمیں کوئی کہانی سنائیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی دلچسپ اور نصیحت آموز واقعہ سناؤں یقیناً ہمارے ساتھ گزارے ہوئے یہ لمحے آنے والے وقت میں ان کے لیے بہترین یاد گار ہوں گے۔

اس تحریرکا مقصد بھی یہی ہے کہ کوشش کر کے بچوں کو بہترین بچپن دیں،  میری بیٹی اپنے بچپن کو نہ صرف اپنی کزنز بلکہ اپنے بچوں سے شیئر کر کے بھی انجوائے کرتی ہے۔ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ اور نصیحتوں سے بچے بیزار ہو جاتے ہیں کبھی کبھار اُن کو اُن کی شرارتوں پر زیادہ روک ٹوک بھی ناگوار گزرتی ہے۔ جیسے آجکل عدینہ افشاں اور احریمہ نے نیا کھیل تلاش کیا ہے کہ غباروں میں پانی بھر کر ایک دوسرے کی طرف اُچھالتی ہیں جس سے سامنے والا بچنے کی کوشش کرتا ہے اس کھیل میں غباروں کے پھٹنے سے ٹیرس میں جگہ جگہ پانی بکھر جاتا ہے یہ چیز مجھے پسند نہیں آتی ہے لیکن ایک تو ان کی خوشی کے لئے برداشت کرنا پڑتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ آخر میں ان تینوں کے ہاتھ میں وائپر اور جھاڑو تھماتی ہوں کہ اب یہ صاف کرنا آپ کا کام ہے جتنا زیادہ اچھی طرح صاف ہوگا تو انعام بھی ملے گا غرض یہ کہ انکا یہ خوبصورت بچپن ان کے دامن میں ضرور کچھ تربیت کے دانے بھی سمیٹنے کا موقع دے گا۔

ایک اور اہم چیز کہ بچپن میں گھر کا خوشگوار ماحول بچوں پر مثبت اثرات چھوڑتا ہے جبکہ پیچیدہ ماحول زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا ہے ایک خاتون جو پڑھی لکھی ہے  لیکن سسرال میں اور آس پاس کے لوگوں سے کھنچی کھنچی رہتی ہے معلوم ہوا کہ بچپن کی تلخ یادیں اسے دوسروں کے قریب جانے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں لہٰذا والدین اور گھر کے بزرگوں کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ بچوں کے سامنے منفی رویوں سے پرہیز کریں یہ ان کے بچوں کے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔

 رسول الله ﷺ جوکہ کائنات کی عظیم شخصیت ہیں، آپ ﷺ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہُ کو ان کے بچپن میں اپنے کندھوں پر سوار کراتے تھے، آپ کا ہر عمل ہم سب کے لیے باعث فخر ہی نہیں باعث سبق بھی ہے۔ سبحان الله ! ہم بھی آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اولاد کو خوبصورت بچپن دے سکتے ہیں۔