ترقی اور زندگی کیلئے سرسبز راہ کا انتخاب

حالیہ برسوں میں دنیا نے دیکھا ہے کہ چین نے اپنے عملی اقدامات سے”گرین ” اقتصادی سماجی ترقی پر زور دیا ہے اور مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے 2060تک کاربن سے پاک ترقی کا عزم ظاہر کیا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں سیشن سے اپنے خطاب میں دنیا پر زور دیا تھا کہ ایک ”سبز انقلاب” کی جستجو کی جائے، ترقی اور زندگی کے لیے سرسبز راہ کا انتخاب کیا جائے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ پیرس موسمیاتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ممکن ہو سکے اور گلوبل وارمنگ جیسے سنگین مسئلے سے احسن طور پر نمٹا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ چین میں تواتر سے ایسی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ماحول دوست اور سرسبز ترقی کی وکالت کی جاتی ہے اور دنیا بھر سے ماہرین کو مشاورت اور تبادلہ خیال کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی چین کی جانب سے ماحولیاتی تہذیب پر مبنی عالمی ایکو فورم 2023 ہے جو ابھی حال ہی میں اختتام پذیر ہوا ہے۔ فورم کے دوران چائنا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن نے موسمیاتی تبدیلی پر ایک بلیو پیپر جاری کیا جس میں چین، ایشیا اور دنیا بھر میں آب و ہوا کے نئے رجحانات کا تجزیہ کیا گیا۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے چین میں 13 قدرتی ذخائر کے لیے ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کیا جنہیں تنظیم کی گرین لسٹ میں رکھا گیا تھا۔ فورم نے 42 ممالک اور خطوں سے 32 سو سے زیادہ شرکاء کو اپنی جانب متوجہ کیا، اور ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر اور سبز ترقی سے متعلق 14 امور پر اتفاق رائے پایا گیا۔مجموعی طور پر اس فورم میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کو جدید بنانے اور سبز اور کم کاربن کی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وسیع تناظر میں چین نے حالیہ برسوں میں عملی طور پر تحفظ ماحول میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، فضائی آلودگی کی روک تھام، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی انحطاط کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات متعارف کروائے گئے۔ سال 2018میں چین کے دستور میں ماحولیاتی تہذیب کا تصور شامل کیا گیا جس میں ترقی کے لیے جدید، گرین اور اشتراکی اپروچ کو اہمیت دی گئی۔ ماحولیاتی تہذیب کے تصور کو چین کے دیہی علاقوں میں بھرپور فروغ ملا جہاں زراعت اور دیہی سماج کی یکساں اور معیاری گرین ترقی کے تحت غربت میں کمی لائی گئی، معاشرتی ناہمواری جیسے مسائل حل کیے گئے اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا۔ اسی تصور کے تحت فطرت اور مادی ترقی میں ہم آہنگی کو آگے بڑھاتے ہوئے” ماحولیاتی سیاحت” جیسے نئے شعبہ جات سامنے آئے اور چین بھر میں معیشت، سماج اور تحفظ ماحول کو نمایاں فروغ ملا۔

دنیا کے سب سے بڑے ترقی پزیر ملک اور دوسری بڑی معاشی طاقت کے طور پر چین اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں ربط کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے۔ پیرس معاہدے کی روشنی میں چین توانائی کے استعمال میں کمی اور توانائی کے روایتی ذرائع مثلاً کوئلے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔چین کی کوششوں کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے اور ”ناسا” کی سترہ برس تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سال 2000سے سال2017تک دنیا بھر میں قائم کیے جانے والے نئے گرین علاقوں میں سے ایک چوتھائی چین نے تعمیر کیے ہیں لہذا چین اس اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ہے۔حالیہ عرصے میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت گرین ترقی کے لیے عالمی اتحاد بھی تشکیل دیا ہے تاکہ ایک سرسبز بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر سے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی تکمیل کی جا سکے۔

چین کی کوشش ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران کم کاربن پر مبنی شہری و دیہی ترقی کو فروغ دیا جائے، پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے تحت گرین شہر آباد کیے جائیں، ماحول دوست اسمارٹ عمارتیں اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع استعمال کیے جائیں، حیاتیاتی ماحول کے معیار اور استحکام کو فروغ دیا جائے، وسائل کے موئثر استعمال کی شرح کو بلند کیا جائے اور ایک بڑے ذمہ دار ملک کے طور پر تحفظ ماحول میں اپنے فرائض احسن طور پر سر انجام دیے جائیں۔