سازکہن

ہے وہی سازکہن مغرب کاجمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیراز نوائے قیصری

مجلس آئین واصلاح ورعایات وحقوق

طب مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوری۔

یہ جو ہم بات کا آغاز شاعر مشرق کے ان اشعار سے کر رہے ہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اس جمہوری نظام کے باغی ہو گئے۔ ارے بالکل بھی نہیں۔ یوں بھی ہم ٹھہرے غریب عوام ہمارا کیا تعلق ملکی نظام سے، سوائے اس کے کہ جب ہمارے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو کچھ دن کے لئے ہم VViP ٹھہرتے ہیں بھلے ہم شہر خموشاں ہی میں کیوں نہ سکونت پذیر ہوں۔

تو جناب! یہ ملک تو ہے اشرافیہ کا انگریز سرکار کے چھوڑے ہوئے touts کا۔ انگریز نے ان کی تربیت یہ کی کہ ذہنی غلامی، حرص و طمع، دولت کی خاطر ملت فروشی، بے حسی یہ “خوبیاں” جو ہم نے تمہارے اندر پروان چڑھائی ہیں ان کا پاس رکھنا اور اپنی قوم کو ڈھور ڈنگر سے زیادہ کچھ نہ سمجھنا۔

بس پھر کیاتھا نسل در نسل ہمارے حکمران خوب عمدگی سے عمل پیرا ہیں اپنے قدیم و جدید آقاؤں سے لی گئی تعلیم وتربیت پر اور قوم کو واقعئ ڈھور ڈنگر کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ جبھی تو ایسا ہے کہ یونان حادثہ کے سیکڑوں مجبور “غریب” بے روزگار پاکستانیوں کی کسمپرسی کی حالت میں ہلاکت پہ یومِ سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ قوم کو پیغام ہے تم سوگ مناؤ اور ہم۔ ہم تو حاکم ہیں تمہارے، ہمارا کیا لینا دینا سوگ سے ۔ ہم تمہاری رہی سہی زندگی کی سکت بھی نچوڑنے کے لئے لائے ہیں ایک اور بل۔ چیئر مین سینیٹ کے لئے مزید مراعات کا بل۔ اب کر لو جو کرنا۔ اور یہ جو تمہارا نمائندہ ہے ناں سینیٹر مشتاق احمد بڑا غم ہے اسے قوم کا۔ اسمبلی ہال میں بہت بڑھ چڑھ کے بولتاہے لو اس کا مائیک ہی بند کر دیتے ہیں۔

تو قارئین! آپ اس بل بارے جانتے ہیں جس کے ذریعے چیئرمین سینیٹ کو مراعات دی گئی ہیں۔

وہ مراعات کیا ہیں؟

ہم بتاتے ہیں۔

• ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے ہاؤس رینٹ ملا کرے گا

• چارٹرڈ طیارے کی سہولت عملے سمیت

• ریٹائرمنٹ کے بعد چئیر مین سینیٹ کو 12ملازمین دئیے جائیں گے تاحیات موصوف کی “خدمت” کے لئیے

• چئیرمین سینیٹ کو فیملی سمیت علاج معالجہ کی مفت سہولیات بھی دی گئی ہیں۔

اب آپ حیران وپریشان ہورہے ہیں کہ پہلے ہی ہمارے حکمران بے تحاشا سہولیات زندگی اور بھاری تنخواہ و الاونسز وصول کرتے ہیں۔ ہم عوام بھوکے ننگے، ہمارے بے روزگار بچے اسمگلرز کے ہاتھوں خوار، علاج معالجہ، تعلیم، سیاحت سب سے ہم محروم اور یہ ہیں کہ ان کی توند بھرنے کانام نہیں لیتی۔ یہ انسان ہیں یا سخت کھردرے ڈھیٹ قسم کے پتھر۔

تو اے میری پریشان حال قوم ! سن انگریز سرکار نے یہ خطہ چھوڑنے سے پہلے یہاں ایک مکمل نظام تعلیم کاجال بچھایاتھا۔ اکسفورڈ، کیمبرج، کرسچن یہ محض چند اصطلاحات تھیں کیا؟

ارے جانتے نہیں ہوکیا؟ یہ وہ اسکولز و کالجز تھے جہاں انگریزسرکار کے ساتھ وفاداری نبھانے والے، عقلمندوں، کی اولادیں تعلیم پاتی تھیں۔ آہ۔ آج اکسفورڈ، کمبرج، کرسچنز، ایچی سن سے فارغ التحصیل ہی تو ہم پہ مسلط ہیں۔ احساس نام کی چیز انکی گھٹی میں نہیں ڈالی گئی۔ ان لوگوں کے اجداد کابڑی قریب سے مشاہدہ رہا کہ انگریز نے ہندوستانی قوم کو حشرات الارض سے زیادہ کوئی درجہ نہ دیا۔

اجداد نے وہ مشاہدہ، وہ تربیت، وہ ذہنی مرعوبیت، دماغی انحطاط اپنے بچوں میں منتقل کیا۔

وہ بچے آج ہمارے اوپر حاکم بن کے مسلط ہیں۔

بھلے انکاتعلق مسلم لیگ سے ہے

بھلے پی پی پی سے ہے

بھلے پی ٹی آئ سے ہے۔ انکی اٹھان ایک ہی فارمولے کے تحت ہوئ ہے۔

*پس چہ بائد کرد*

لوگو!

میرے پیارے لوگو!

اب کی بار ووٹ اسے دینا جو

۔۔۔۔ ذہنی طور آزاد ہو

۔۔۔۔ جس کا رہن سہن تمھارے جیساہو

۔۔۔۔ جسکی تربیت ایچی سن، اکسفورڈ، کمبرج نے نہیں کی بلکہ قرآن نے کی ہو

۔۔۔۔ جس کو عدالت نے بھی صادق و امین کالقب دیاہو

۔۔۔۔ عدالت ہی نے جسکے لئیے گواہی دے رکھی ہو کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر اگر پورا اترتا ہے تو بس یہی اک شخص ہے سراج الحق۔

اے میری پریشان حال قوم! جماعت اسلامی سے سو بار اختلاف کرو مگر خدا را یہ سوچ لو کہ اب تمہارے پاس آپشن کوئی نہیں بچاہے۔

کہیں ایسا نہ ہو حکمرانی کے تخت پہ جلوہ افروز یہ پتھر تمھارے بچوں کے گلے کاٹنے لگ جائیں کہ عالمی منڈی میں انسانی کھوپڑیوں کی بڑی مانگ ہے اپنے لوگوں کی چمڑی بیچیں گے کچھ تو دمڑی ہاتھ آئے گی ناں۔

اب ہمیں اپنے حق کے لئیے خود ہی بیدار ہوناہوگا۔