حج مبرور کی حفاظت‎‎

 

ہر حاجی کی حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد یہی دعا ہوتی ہے کہ اے پروردگار میرے حج کو حج مبرور کا درجہ عطا فرمانا میرے، لبوں پر بھی اکثر یہی دعا ہوتی ہے کہ مجھ گناہ گار کے حج کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمانا اور اسے حج مبرور کا درجہ عطا فرمانا، پھر آنکھیں برس پڑتی ہیں کہ میں نے تو اپنے نفس کی غلامی میں اپنے حج کی حفاظت ہی نہیں کی حج کی سعادت حاصل کرکے تو بندہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے گویا آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے جنا گیا ہو، سارے گناہ دھل جاتے ہیں جو اس نے کیے تھے سب دھل گیے اور وہ پاک ہو گی۔

لیکن میں تو ان گناہوں سے پاک ہونے کے بعد پھر ان گناہوں کی کیچڑ میں پہنچ گئی دعا تو میرے لبوں پر ہر وقت یہی ہے کہ میرے حج کو اللہ پاک حج مبرور کا درجہ عطا فرمانا، کیا صرف دعا مانگنا ہی کافی ہے؟ میں نے اس حج کے فریضہ کی کیا حفاظت کی، جھوٹ جو گناہ کبیرہ ہے میں نے اپنے دامن کو اس غلاظت سے بچایا؟ دل سے آواز آئی نہیں، تونے تو کئی بار جھوٹ بولا اور پھر دل کو تسلی بھی دی کہ مصلحتاً جھوٹ بولا تھا کسی کو نقصان تو نہیں پہنچایا، پھر باری باری میرے گناہ میرے سامنے آتے گئے غیبت بھی ہوجاتی ہے کتنی مرتبہ یہ گناہ بھی سرزد ہو چکا ہے اور پھر میری یہ ڈھٹائی کہ میں جھوٹ تو نہیں بول رہی یہ بات تو فلاں میں موجود ہےجو میں نے دوسرے سے شیئر کرلی، واہ رے کیا ڈھٹائی ہے دل کو تسلی دینے کے لئے۔ دین تو مکمل ہی حقوق العباد اور حقوق اللہ کی پیروی سے ہوتا ہے لیکن اس سلسلے میں بار بار کوتاہی پر دل کو تسلی دیتی ہوں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے نہ جانے کتنی مرتبہ میرے رویئے سے کسی کو دکھ ہوا ہوگا، میرے اس پاس نہ جانے اللہ کے کتنے بندے بھوکے، ننگے پاؤں سسکتی زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے میں نے کتنوں کا احساس کیا کتنوں کی مدد کے لئے آگے بڑھی؟ نہیں نہیں میں تو صرف اپنی زندگی کی خوشیاں حاصل کرنے میں لگی ہوں، پھر یہیں تک میری کوتاہیاں محدود نہیں بلکہ حقوق الہی میں بھی اکثر کوتاہیاں دیکھ کر دل کو تسلی دیتی ہوں کہ اللہ تو رحمان و رحیم ہے وہ معاف کردے گا اس سہارے پر غلطیوں پر غلطیاں سرزد ہوتی جاتی ہیں گناہوں کی دلدل سے اپنا دامن بچا نہیں پاتی اور لبوں پر یہی دعا ہے کہ اللہ میرے حج کو حج مبرور کا درجہ عطا فرمانا اور میری لخزشوں کو معاف کر دینا۔

اے اللہ کے بندوں جو حج کی سعادت کو حاصل کرنے کے لئے اس مقدس دھرتی پر پہنچ گئے ہو اس دھرتی پر تمہیں پہنچانا میرے رب کا ہی کام ہے یہ نہ تمہاری کوششوں کا ثمر ہے نہ تمہاری دولت کا کمال یہ تو رب العزت کی طرف سے تمہارے لیے ایک انعام ہے اور ایک موقع عطا کیا گیا ہے کہ تم اپنے پچھلے گناہوں سے پاک ہو جاو جیسے کہ بچہ ہر گناہ سے پاک پیدا ہوتا ہے لہذا اب حاجی کو اپنے حج مبرور کی دعاوں کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کو برائیوں سے بچانا ہی حج کی سعادتوں سے فیض یاب ہونا ہے رب العزت آپ سب کے ساتھ مجھ گناہ گار کو بھی اپنے حج کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بار بار اللہ یہ موقع نہیں دے گا اس لیے اسی کی طرف رجوع کرو جس نے تمہیں یہ موقع عطا کیا ہے اپنی باقی زندگی اسی کی اور اس کے رسول کی اطاعت میں گذارنا ہی اپنے حج کو مقبول و مبرور کرنا ہے رب العزت ہمیں اس کوشش میں کامیاب کرے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین