استاد کیسے رہنمائی کرے؟۔

 

اللہ نے اگر آپ کو استاد کے مقام پر تفویض کردیا ہے تو یاد رکھیے حقیقی استاد اپنے شاگرد کو کبھی ضائع نہیں کرتے استاد اس روشنی کا نام جو سمندر کی لہر کو رات کے وقت چمکا دیتا ہے۔ علمی صحتمندی اس استاد کے پاس ہے جو اپنے شاگرد سے سوال لیتے ہوئے سیکھتا ہے اور جواب دیتے ہوئے علم حاصل کرتا ہے۔ شاگرد کے سوال نہ کرنے سے سیکھنے کا سلسلہ رک جائے اور استاد کے جواب نہ دینے سے علمی حصول میں روک ہوجائے گی۔اس سلسلے میں اکثر طالب علم پوچھتے ہیں کہ ہم استاد سے سوال کیا کریں؟

سوال کرنے والے اور جواب سے مطمئن ہونے والے طالب علم:

• کچھ طلبہ علم حاصل کرنے کی نیت سے سوال کرتے ہیں۔ جو بات نہیں جانتے، اس کا جواب چاہتے ہیں۔ مل جائے، تو مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اُستاد سے حاصل کردہ علم پر عمل کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ یہ طالب علم کی اچھی قسم ہے۔

کثرت سوال اک وقت میں زیادہ جوابات کی چاہ:

• کچھ طالب علم ایسے ہوتے ہیں، جو سوال کر کے اُستاد کے دماغ کی چولیں ہلا دیتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اُستاد کا سارا علم نچوڑ لیں۔ ایک وقت میں زیادہ کی طلب میں علمی ہیضے کا امکان ہے۔ تھوڑا جانیں، اُسے ہضم کریں اور پھر آگے بڑھیں۔

استاد شاگرد کے دماغ کو یکسو ہونے میں مدد دیں۔ اک وقت میں بہت علم حاصل کرنے کی تمنا کرنے والے اپنے اہداف طے کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ لمبی چھلانگ صبر اور مستقل مزاجی کو ختم کر دیتی ہے جبکہ منزل کو پانے کے لیے یہ دونوں خوبیاں مزاج کا حصہ بننا ضروری ہیں۔ انسانی دماغ کی میموری کی حدِ خاص ہے۔ اک ساتھ بہت کچھ دماغ میں محفوظ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

سوال لیکن جواب سے کوئی سروکار نہیں:

• کچھ طلبہ ایسے ہیں جو سوال کرتے ہیں اور جواب کا انتظار کے بغیر پھر دوسرا سوال کرتے ہیں۔ انھیں جواب سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ سراسر سیاسی ٹاک شوز کے اینکر پرسن والا رویہ ہے۔

استاد شاگرد کو اس طرح کے رویوں پر مثبت رویہ دے تو شاگرد اپنا ذہنی معیار خود ہی بڑھائے گا۔ استاد شاگرد سے کہے کہ وہ اک سوال کا جواب تحمل سے سنے، درمیان میں بات قطع نہ کریں اس دوران جو دوسرے سوال جنم لیں۔ تو نوٹ پیڈ پر لکھ لیں۔ اک اک کر کے جواب طلب کریں۔ کامیاب استاد شاگرد کے بار بار سوالات کرنے پر کبھی نہیں گھبراتے۔ خصوصا پرائمری کے استاد شاگرد کے سوالات پر حوصلے متانت کا مظاہرہ کریں۔

مشکل سوال:

• کچھ طالب علموں کے سوالات ان کی شخصیات کی طرح گنجلک ہوتے ہیں۔ گنجلک سوال کا جواب اُستاد کے پاس نہیں ہوتا۔ جیسے ہر کیوں کا جواب نہیں ہوتا۔

نبی کریم ﷺ کے پاس کئی ایسی شخصیات (مدینے کے منافقین اور کفار مکہ جن میں عبداللہ بن ابی، ابو جہل اور ہندہ وغیرہ) سوال کرنے آئیں جو اکل کھری اور مشکل تھیں۔ آپ ﷺسے کبھی اس علم کے بارے میں استفسار کرتے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہوتا۔ تو آپ ﷺ اس طرح جواب دیتے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ آپ ﷺ کے جواب سے سوال کرنے والا مطمئن ہوجاتا۔ نبی کریم ﷺ کا اسوقت کا رویہ حوصلہ متانت ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے ان گنجلک شخصیات کے سوال کے جواب دے کر ان کی ذہنی الجھنیں دور کیں۔ کتنی ہی ایسی شخصیات جنھوں نے نبی ﷺ سے ٹیڑھے سوالات کے ایسے جوابات پائے کہ ان کی ذات سلجھ کر خود ان کے لیے نہیں پوری دنیا کے لیے سودمند ثابت ہوئی۔

دھاک بٹھانے کے لیے سوال:

• کچھ طلبہ کے سوال میں ہی ان کا جواب ہوتا ہے۔ وہ اس بات کو جانتے بھی ہیں، مگر بس یونھی اُستاد، کلاس پر دھاک بٹھانے کے لیے سوال کردیتے ہیں۔ اس طرح سے متاثر کرنے کی کوشش یقیناً بری ہے۔

طالب علم کی نیت اگر چہ کچھ ہو استاد اپنے مقام سے اک انچ نہ ہٹیں۔ ڈانٹ ڈپٹ کر کے شاگرد کو رد نہ کریں، بلکہ ان کی

توجہ استاد کسی بھی طالب علم کی طرف سے ملنے والے بامعنی سوال کی طرف دلوائیں کہ یہ بہترین سوال تھا۔ اس طرح کے سوال کیے جانے چاہیے ۔

مدلل جواب سے بھی غیر مطمئن رہنا:

• کچھ طالب علم غیر مطمئن طبعیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اُستاد لاکھ دلیل کے ساتھ جواب دے مطمئن نہیں ہوتے۔ وقتِ سوال ان کی نیت یہ ہی ہوتی ہے کہ کسی جواب سے تشفی حاصل نہ کریں گے۔

حقیقی استاد اپنے شاگرد کے لیے گھلتا ہے میں “نہ مانوں والے اڑیل رویے” پر بھی استاد اپنی طرف سے مکمل حق ادا کر کے نتیجہ اللہ پر چھوڑیں۔ غصہ اور ضد سے کام نہ لیں۔

سوال صرف استاد کے علم کی پرکھ کے لیے:

• کچھ ایسے طالب علم بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد اُستاد کا علم پرکھنا ہوتا ہے۔ اُستاد کا علم پرکھ کر اسے چیلنج دے کر حاصل حصول کچھ نہیں ہونا، سوائے اس کے کہ آپ اُستاد کی نظر میں گرجائیں گے۔ اُستاد انسان ہے، کامل علم انسان کے پاس نہیں ہوتا۔ کامل علم صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ اُستاد کے پاس جتنا علم ہے، وہ اللہ کی مرہون منت ہے۔

استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ شاگرد کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے موضوع پر اپنی دسترس مکمل رکھنے کی کوشش کرے۔شاگرد کے ہر ممکنہ سوال کا جواب استاد کے پاس ضرور ہو۔کسی سوال کا جواب نہ دے پائیں تو شاگرد کے سوال کو غلط کہہ کر چپ نہ کروائیں۔ اس سے آپ اپنا امیج ضائع کریں گے آئیں بائیں کرنے کے بجائے لاعلمی تسلیم کر کے کہہ دیں مطالعے کے بعد جواب دیں گے۔ دانا استاد شاگرد کے سوال کا جواب ٹو دی پوائنٹ دیتے ہیں۔ ان کا جواب حق سچ پر مبنی علمی بامعنی ہوتا ہے۔

طالب علم کی آخری قسم خود سوال کریں اور نہ سوال کا جواب دیں:

• کچھ طلبہ تو نہ سوال کرتے ہیں اور نہ ہی اُستاد کے کسی سوال کا جواب دیتے ہیں۔ لیکچر کے اختتام پر جب بھی طلبہ سے استفسار کیا جائے کہ بچوں کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں ؟زور وشور سے نفی میں گردن ہلائی جاتی گویا سب سمجھ آگیا۔ دیے گئے لیکچر سے متعلق اُستاد خود ان شاگردوں سے کوئی سوال کر لے تو لطیفہ بنتا ہے۔ مثلا ،اُستاد! میں تم سے اتنی دیر سے سوال کر رہا ہوں جواب کیوں نہیں دیتے؟۔شاگرد! امی کہتی ہیں بڑوں کی بات کا جواب نہیں دیتے۔

پڑھائے گئے سبق کا امتحان لینے کا وقت آ پہنچے۔ تب کچھ طالب علم تو حیران کر دیتے ہیں۔ ان کا حال منیر نیازی کے شعر کے اک مصرعے مطابق ہوتا ہے۔

سوال کا جواب سوال میں ملا مجھے:

جن کے ذہنوں میں سوال سرے سے جنم ہی نہیں لیتا، وہ احمق اور غلام ہیں۔یہ ہمیشہ دوسروں کے کیے سوال سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور یونھی دوسروں پر انحصار کرتے رہیں گے۔

استاد شاگرد کو سوال کرنے کا بھرپور حوصلہ دے کر ان میں خود اعتمادی پیدا کرے اگر آپ کا طالب علم پر اعتماد ہو کر سوال نہیں کرسکتا تو آپ معاشرے کو ایسا ڈاکٹر دے رہے جس کے ہاتھ مریض مریں گے انجنئیرز کے ہاتھ عمارات تباہ ہونگی۔ معشیت دان کے ہاتھ دولت ضائع ہوگی۔مذہبی رہنما کے ہاتھ انسانیت تباہ ہوجائے گی اور ججز کے ہاتھ انصاف کا قتل ہو گا۔استاد اپنے شاگرد کو بتائیں کہ نمبر کے نقصان سے زیادہ نقصان دہ بات یہ ہے کہ آپ خود اعتمادی سے سوال نہ کرسکیں۔ لہٰذہ استاد شاگرد کو اپنے علم و عمل سے مکمل فیض دے ذرا چوک نہ کرے۔ پوری قوم کو ضائع ہونے سے بچائے۔