بے حیائی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں‎‎

یوں تو اچھائی پر عمل یا ترویج کے لئے کوئی دن خاص ہوتا ہے۔ کیونکہ اچھائی تو اس بیج کی مانند ہے جو سازگار حالات،مٹی،دھوپ پا کر پھلتا پھولتا ہے۔نہ ہی برائی کرنے والے دنوں کا لحاظ کیا کرتے ہیں مگر کچھ برائیوں کے لئے باقاعدہ ذہن سازی،دن مخصوص کرنا اور مسلم معاشرے میں ایک مشن کے تحت فحش پھیلانا اور برائی کی لذت کو نفس لوامہ پر حاوی کر دینا کچھ لوگوں کا مقصد زندگی ہے۔یہ لوگ شیطانی خیالات رکھتے ہیں اور حیاء کی صفت کو مسلم نوجوان میں پنپنے سے خار کھاتے ہیں۔

14 فروری بھی ایک ایسا دن ہے جس سے جو بھی داستانیں منسوب ہیں وہ بہرحال مشرکوں سے وابستہ ہیں اور مشرک اسے منائیں تو اور بات ہے بہرحال یہ مسلم معاشرے میں رواج پانا کسی طور قابل قبول نہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تہوار کے پس پردہ مسلم نوجوانوں کو بے راہ روی پر مائل کرنا ہے۔اسلامی مزاج مخلوط اجتماعات،محافل سے خار کھاتا ہے کجا کہ لڑکے اور لڑکی کی دوستی کے تصور کو پروان چڑھایا جائے۔کیا یہ دن اس بات کی کھلی علامت نہیں کہ بے حیائی کی ترویج کو مملکت اسلامیہ میں کھلی اجازت ہے۔

ایسے میں۔ جب کہ بے حیائی فروغ پا رہی ہے اور تصور حیاء کے خاتمے کے درپے ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ حیاء کے چلن کو عام کیا جائے۔کچھ مثبت کام کرنے والوں نے یوم حیاء کے نام سے یہ دن منانا شروع کیا ہے جو قابل تعریف ہے۔جب مسلمان معاشرے میں بے حیائی زور پکڑ جائے،غلط روش کے حق میں دلائل دیئے جانے لگیں اور حیاء کو نفسیاتی بیماری کا نام دیا جانے لگے تو ضروری ہے کہ بنی آدم کو شیطانی چالوں سے بر وقت آگاہ کیا جائے،اس کے وسوسوں،بہکاووں سے خبردار کیا جائے تا کہ بے لباس کرنے کی شیطانی چال ناکام ہو جائے۔شیطان اور اس کے پیروکار تو مانتے ہیں کہ جب ان نوجوانوں میں حیاء نہ رہے گی تو یہ ہمارے کٹھ پتلی بن جائیں گے،انہیں ہم اپنی مرضی سے موڑ سکیں گے لیکن ہمیں ان چالوں سے نوجوانوں کو بروقت آگاہ کرنا ہے۔

ہمارے نوجوانوں کے لئے شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں،موسیٰ علیہ السلام،محمد ﷺ،عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا،زینب اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی مثالیں ہی مشعل راہ ہیں اور یہی ان کی دنیوی ترقی کا راز بھی ہے۔کیا زندگی اسی کا نام ہے کہ اسے کھیل تماشے میں گزار دیا جائے اور سنجیدگی سے کچھ کیا ہے نہ جائے!

یقینا،دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے،مومن کو اس بظاہر چمک دمک پر ریجھ جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔اس کے لئے حیاء کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر خوشی،لطف اور سکون کے حصول کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔خاندانی نظام،نکاح وغیرہ تمام معاملات میں انسانی نفسیات کی تسکین اور لطیف پہلوؤں کا لحاظ موجود ہے۔ہمیں حقیقی اسلام اور ہندوانہ تہذیب کے اثرات سے عائد کردہ پابندیوں میں فرق کرنا ہو گا۔ہمیں نوجوان نسل کو مثبت تفریح اور منفی حصول لذت کے طور طریقوں میں فرق بتانا ہو گا۔ہم عثمان و فاطمہ بچوں کے نام رکھتے ہیں تو انہیں عثمان و فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے نقش پا سے آگاہ کرنا بھی ہم پر قرض ہے۔یقینا اس قرض کا بوجھ اٹھائے ہی دنیا سے رخصت ہو جانے کی بجائے ہم قرض کی ادائیگی پر توجہ دینا چاہیں گے۔