تربیت

آج کل ہمارا معاشرہ جن برائیوں، خرابیوں، اخلاقی تنزلی اور کردار کی زبوں حالی کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ تربیت کی پستی ہے۔ تربیت محض اس بات کا نام نہیں کہ والدین بچوں کو روزِاول سے نشست و برخاست کے صحیح طریقے بتائیں بلکہ اس کے ساتھ انہیں احساسِ ذمہ داری کا درس بھی دیں پھر چاہے وہ ذمہ داری انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر ہو۔ ہمارے معاشرے میں لڑائی جھگڑا، فتنہ فساد اور انتشار کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہیں بظاہر تو ہم میں اخلاقیات بہت ہے۔

دورِ حاضر کا بچہ بچہ اخلاقیات کے تمام لوازمات پہ پورا اترتا ہے ہمیں کھانے، پینے، اٹھنے، بیٹھنے اور بات کرنے کا ڈھنگ تو آتا ہے لیکن اس کے پسِ پردہ کوئی مثبت کردار کار فرمانہیں ہے بلکہ تربیت کو ایک ظاہری اور بناؤٹی شیکی مانند اپنی ظاہری شخصیت کے شو پیس میں سجا کر ہم چھوٹوں سے ہنس کر، بزرگوں سے نگاہیں جھکا کر پیش تو ارہے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کر رہیں۔ ہم بجائے اس کے کہ درست طور پہ اپنی ذمہ داریوں کو جان کر انہیں سر انجام دے کر معاشرے کو نہ صرف امن و سکون کا گہوارہ بنائیں بلکہ خود بھی اس کارِ خیر کا ذریعہ بنیں ہم اس کے برعکس ذہنوں کو منتشر کرنے کے نت نئے ایجادات میں مصروفِ عمل ہیں۔ تربیت محض ظاہری مثبت عمل یا جسمانی حرکات و سکنات کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق دل و روح کی پاکیزگی سے ہونا چایئے۔ حضور اقدسﷺ کا ارشاد مبارک ہے خبردار! بدن میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست رہے گا اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا بدن خراب ہو جائے گا خبردار! وہ گوشت کا لوتھڑا یہی دل ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دل کی صحیح معنوں میں تربیت کی جائے اسے شریعت کے تابع بنایا جائے اور حضرت عبداللہ انطاکی رحمتہ اللہ علیہ نے دل کی تربیت اور علاج کی پانچ چیزیں بتائی ہیں:

۱ بزرگوں کی صحبت۔

۲ تلاوتِ قرآن۔

۳ حرام مال سے پرہیز۔

۴ رات کے آخری پہر اٹھ کے تہجد پڑھنا۔

۵ صبح صادق کے وقت عاجزی سے دعا مانگنا۔

شریعت نے بھی ہمیں آپ ﷺ کی صورت میں ایک راستہ اور ضابطہ دیا ہے آپﷺ کی ذات مبارک جس میں ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے اگر ہم ان پر عمل پیراہوں اور معاشرے کا ہر فرد بڑا، بوڑھا، بچہ حتیٰ مرد و عورت اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو جو کہ فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کی صورت میں ہیں ان کو ادا کریں تب ہی یہ بگڑا ہوا معاشرہ سدھر سکتا ہے، لیکن افسوس کہ صورتِ حال اس کی برعکس ہے ہم جس عملی معاشرے اور فکری فضا میں سانس لے رہے ہیں ہماری سوچ و فکر کا محور و مرکز ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا تعلق نہ تو ہماری قبر سے ہے اور نہ حشر میں ہونے والے حساب و کتاب سے اس کے باوجود بھی ہم ایسی فضولیات میں مشغول ہیں کہ جن کی نہ ہم پہ ذمہ داری عائد ہے اور نہ ہی ان چیزوں کے متعلق ہم سے پوچھ گچھ ہوگی۔

ہم اس بات سے بے خبر کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیسے ان کو پورا کر کے معاشرے کا ایک معاون فرد ثابت ہوں اپنا قیمتی وقت غیر اصلاحی کاموں میں صرف کر رہے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ایک تربیت یافتہ فرد کی نشانی نہیں ہے۔ تربیت کے دیگر مدارج کی طرح احساسِ ذمہ داری بھی بچے میں ماں کی گود،جسے بچے کی اولین درس گاہ کہا جاتا ہے،سے ہی جنم لیتی ہے۔ ماں کی ذمہ داری صرف بچے کی جسمانی نشو نما نہیں ہے چونکہ بچے کی عمرکا ابتدائی اور بنیادی وقت اکثر ماں کے پاس گزرتا ہے بچوں کے نفسیات کے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ بچوں کا ذہن تختہ سفید کی مانند ہوتا ہے لہٰذا ماں جوکچھ اپنے قول و فعل سے اچھا یا برا تاثر دے گی وہی بچے کے ذہن میں نقش ہوگا۔

دنیا کا ہر اچھا اور برا انسان ماں کی گود میں پرورش پاتا ہے اس لیے ماں کو چاہیے کہ اپنے قول و فعل کا جائزہ لے اور ہمت کر کے اپنی اصلاح کرے اور خصوصی طور پر بچے کے سامنے کوئی ایسی بات یا کام سر انجام نہ دے جو شریعت کے خلاف اور اخلاق سے گرا ہوا ہو روز کی بنیاد پر بچے سے چھوٹے موٹے کام لے کر اسے عہدِ طفلی میں ہی احساسِ خود داری اور احساسِ ذمہ داری کا عملی درس دے اپنے سے جڑے رشتوں کا خیال رکھنے کی تاکید کرنے سے بچے کو اپنے حقوق و فرائض کا نہ صرف ادراک ہوگا بلکہ اسے پورا کرنے کی فکر بھی ہوگی۔ ٹوینکل ٹوینکل لیٹل اسٹار، سنو وائٹ اور ٹومن جیری جیسی واہیات قصے کہانیاں سنانے کے بجائے اگر انبیاء کرام کے تذکرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شجاعت کے سچے واقعات اور مجاہدین کی قربانیوں کے ناقابلِ فراموش کارنامے سنائے جائیں تو بیشک کل یہ بچہ بڑا ہو کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والا ایک کامل مسلمان بنے گا اور ایک مومن مسلمان کی اس سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے پیغام دوسروں تک پہنچائے اورجب تک ہم اپنے اوپر عائد ہونے والی شرعی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور بے کار کی مصروفیات میں لگے رہے تو شاید کبھی بھی ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔