صحافی ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار

ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا ریاست کے حکمرانوں کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے ۔ لیکن صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ریاست میں بسنے والے تمام شہری اور ریاست کے تمام ادارے بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیئے جاسکتے ہیں ۔

ایک پر امن معاشرے کی تشکیل میں عدل و انصاف کا ہونا نہایت ضروری ہے ۔ عدل و انصاف کے بغیر کسی بھی معاشرے میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔فرد سے افراد اور افراد سے معاشرہ اور اس طرح ایک قوم وجود پاتی ہے ۔ اور اس قوم میں بسنے والے لوگوں میں باہمی اتحاد و یگانگت اور اتحاد کی پر امن فضاءہونے سے ہی ایک پر امن معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔ریاست کے اہم ستونوں میں ایک ستون صحافت بھی ہے۔

موجودہ دور کو گلوبل ولیج اور میڈیا کا بھی دور کہا جاتا ہے ۔ موجودہ دور پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اورسوشل میڈیا کا دورہے۔ اس دور میں ہر شخص خواہ بچہ ہو یا بڑا تندرست ہو یا صحت مند ہر چیز سے سیکنڈوں اور لمحوں میں باخبر ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کمی ہے تو تربیت کی ہے اور تربیت کی کمی کو اگر کوئی دور کرسکتا ہے تو وہ صحافی ، قلم کار اور میڈیا سے وابستہ افراد ہی اپنی تحریروں ، مضامین ، اپنے انداز گفتگو ، شائستہ نرم لہجے اور اچھے مزاج سے تربیت کی کمی کو بہت حد تک دور کرسکتے ہیں۔

صحافی ایسی تحریروں ، مکالموں اور ڈائیلاگ کے ذریعے مختلف اکابرین کے اقوال ،بزرگوں اور داناؤں کی امن سے متعلق دی گئی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے مثالیں پیش کریں تاکہ مہذب و پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے اور امن اوراتحاد پیدا ہوسکے۔ صحافی اپنی تحریروں میں ایسے الفاظ یا اس طرح کے جملوں کی حوصلہ افزائی نہ کرے اور نہ ہی اس طرح کے بیانیوں کو اچھالے تاکہ معاشرے میں بدنظمی پیدا نہ ہو۔

حصہ
نوشاد احمدپرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ایک مقامی اخبار سے وابستہ ہیں،جبکہ ایک غیر سرکاری ادارے وائس میڈیا نیٹ ورک کے صحافت برائے امن کے عنوان پر تربیتی ورکشاپس میں حصہلیتے رہیں ہیں۔