ملک کیسے چلے گا؟

ریاست کے استحکام میں قانون کی پاسداری سب سے ایم عنصر ہوتا ہے۔ جن ممالک میں لا قانونیت کا راج اور بول بالا ہوتا ہے انہیں مستحکم ریاست نہیں بلکہ منتشر معاشرہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہزار ہا سال گزرنے کے باوجود بھی ہم آج کے دور میں بھی یونان کی شہری ریاستوں کا تذکرہ بطور مثال کیوں پیش کرتے ہیں۔ اس لئے کہ عوامی حقوق کا خیال رکھا جاتا تھا۔ عوام خوش حال تصور کی جاتی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر قانون کی عملداری لوگ اخلاقی اقدار کا حصہ سمجھتے تھے۔ گویا قانون پر عمل کرنا مجبوری نہیں بلکہ فرض شناسی میں شامل کیا جاتا تھا تاکہ ریاست میں استحکام پیدا ہو سکے۔ گویا وہ لوگ اس علم سے بخوبی آگاہ تھے کہ ریاست کا استحکام اصل میں عوام فلاح کا باعث ہے۔ زمانہ ترقی کی شاہراہ پر چلا تو دنیا کے حالات بدلنا شروع ہو گئے۔خاص کر سماجی اقدار نئی نہج پر چل نکلیں۔ اس نہج کا سرا حالیہ سماجی حالات ہیں۔

اب کسی بھی ریاست کی سیاسی ومعاشی حالت کا اندازہ وہاں لوگوں کے معاشی حالات سے لگا لیا جاتا ہے۔ ان حالات کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے حکومت مختلف اداروں سے مدد لیتی ہے۔جیسے کہ تعلیم، صحت، قانون، انصاف، داخلیہ و خارجیہ وغیرہ۔اور ان تمام اداروں کو چلانے کے لئے ملک میں ایک پارلیمنٹ کام کرتی ہے جس کا کام نہ صرف ان اداروں کے منصب کار کو وضع کرنا ہوتا ہے بلکہ قانون کی بالا دستی اور ضرورت کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق بھی شامل ہوتا ہے۔

پارلیمنٹ چلانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں دو ایوانی پارلیمنٹ کو متعارف کروایا۔یعنی ایک ایوان بالا(سینیٹ)اور دوسرا قومی اسمبلی۔ان دو ایوان میں داخلیہ اور خارجیہ عماد سب سے مضبوط ستون سمجھے جاتے ہیں۔بلکہ میں نے تو یہاں قطر میں دیکھا ہے کہ سب سی زیاد ہ خوف اور ڈر دو محکموں کا ہوتا ہے۔ایک وزارت داخلیہ اور دوسرا وزارت بلدیہ۔میں جب بھی پاکستان کی سیاسی صورت حال کا تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے انتہائی دکھ محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو وزارت داخلیہ کا ملکی استحکام میں کوئی کردار اور نہ ہی وزارت بلدیہ کا کوئی مضبوط کردار دیکھتا ہوں، بلکہ یہ لکھتے ہوئے بھی دکھ محسوس کر رہا ہوں کہ بلدیہ کا کام محض صفائی اور کتوں کو مارنا رہ گیا ہے اور وہ بھی ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔آئے روز ہر شہر کے ہر علاقہ میں ابلتے گٹر حکومتوں کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں کہ میری طرف بھی کچھ توجہ ہو۔لیکن توجہ کون دے کیونکہ وہ ادارے جنہیں گراس روٹ لیول پر کام کرن اہیں ان کے پلے کچھ نہیں اور جن کے پلے بھرے پڑے ہیں انہیں اور اپنوں کے علاوہ کچھ دکھائی اور سجائی نہیں دیتا۔جو بھی آیا اس نے انھا ونڈے شیرنی مڑ مڑ اپنیاں نوں والا معاملہ کیا۔ان دو وزارتوں میں توازن ان کا مسئلہ نہیں رہا۔کیونکہ ترقی یافتہ ممالک نے اس فلسفہ کو پا لیا ہے کہ جب تک داخلیہ اور خارجہ میں توازن قائم نہیں ہوگا ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوگا۔اس لئے کہ جب تک مذکور دونوں ادارے مستحکم نہیں ہوں گے ملکی معاملات میں استحکام پیدا نہیں ہوگا بشمول معیشت،سیاست، درآمدات و برآمدات، زرمبادلہ، بیرون ملک سے سرمایہ کاری وغیرہ۔اسی لئے سمجھدار ممالک ان دو اداروں میں منصب سونپنے کے لئے تجربہ کار سیاستدان اور سینئر بیوروکریٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔

کیونکہ بہت سے ادوار ایسے بھی آئے ہیں کہ وزارت خارجہ وزیر اعظم نے اپنے پاس ہی رکھی۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ کیوں رکھی، ہاں اس پر ہمیشہ سے اعتراض رہا ہے کہ اسے کچھ زیادہ ہی سنبھال کے رکھا۔جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب وزیراعظم کو اپنی ٹیم پر اعتبار نہ ہو اور بیرون ممالک تعلقات اپنی مرضی کے مطابق چاہتا ہو۔ جب ایسا ہوتا ہے تو پھر اوورسیز کا بھی ملک میں سرمایہ کاری پر سے اعتبار جاتا رہتا ہے۔ کیونکہ جس ادارے نے خارجہ مسائل اور اس کے حل کی طرف توجہ دینی ہے وہ خود توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے ان دو اداروں پر خاص توجہ دی ہے۔جس کی گواہی علاقائی حالات ہیں۔خاص کر افغانستان،چین،روس اور ایران۔ کہ ہم علاقائی تعاون پر توجہ دے کر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں اپنا کردار ادا کیا۔اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کاوش بھی کی۔ اور خاص کر روس کا ایک عرصہ بعد پاکستان پر اعتماد کر کے مختلف اداروں میں سرمایہ کاری کے لئے ایم او یوز پر دستخط کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خارجہ پالیسی درست سمت میں جانا شروع ہو گئی ہے۔لیکن لمحہ فکریہ کیا ہے؟ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہم خارجہ تعلقات کی بہتری میں اپما بھر پور کردار ادا کرتے کرتے داخلیہ مسائل کو یکسر نظرانداز کرتے جا رہے ہیں۔ مقامی وسائل سے استفادہ اور مسائل کا حل ہم سے کوسوں دور ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام میں پس اندازی کی شرح منفی کی طرف جا رہی ہے۔ عوام کب تک اس چکی میں پستی رہے گی۔ سونے پہ سہاگہ کیا ہے کہ جو وزیر و مشیر بھی ہر شام حکومت کی ترجمانی کے لئے پریس کانفرنسز کرتے ہیں ان کے پاس عجب اور بھونڈی منطق کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ان کی دلیلیں جھوٹ کا پلندہ لگتی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ تسلی و صبر کا لولی پاپ دینے کی بجائے ملک میں لا قانونیت کی بڑھتی شرح کو قابو کرے اور اشیائے خورونوش میں مہنگائی کے مہروں کو چیک اینڈ بیلنس پالیسی سے ان کاتدارک کریں۔ تب کہیں جا کر مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔یہ صرف مہنگائی کو قابو کرنے کا ایک طریقہ ہے اشیا کی سستی فراہمی بعد کی بات ہے جو موجودہ پالیسیوں میں پایہ تکمیل ہوتے دکھائی نہیں دیتی۔ اس لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر بیان بازی دینے کی بجائے ترجیحاتی بنیادوں پر مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ تاکہ عوا م بھی سکھ کا سانس لے سکیں ۔ وگرنہ اس شعر کا عملی اطلاق ہوتا دے گا کہ.

اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو

تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔