تمام آنکھیں میری آنکھیں ہیں

آنکھیں بھی کیا خوب ہیں، ایک بار کھلتی ہیں تو موت پر ہی بند ہوتی ہیں۔ کھلنے اور بند ہونے کے درمیانی عرصے میں سوتی جاگتی آنکھیں کیا کچھ اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔ یہ نہ صرف دل و ذہن کو چہرے پر لے آتی ہیں بلکہ پورا وجود ہی آنکھ کی پتلی میں سمٹ آتا ہے۔

اگر ان سے رنگ و نور کے چشمے پھوٹتے ہیں تو باہر کے رنگوں کو بھی ہر لمحہ یہ اپنے اندر سموتی رہتی ہیں۔ کبھی آسمان کی بلندی، کبھی خورشید کی تمازت، کبھی چاند کی اداسی تو کبھی سمندروں کے مد و جزر ان کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ ایک منظر کے بعد دوسرا منظر، پھر منظر کے بعد کا منظر، پھر پس منظر، گویا جسم کا یہ دروازہ ہر منظر کے لئے کھلا ہی رہتا ہے۔

 میری آنکھوں نے کیا دیکھا، کیا سمجھا، کیا کھویا، کیا پایا، کسے اپنایا، کسے ٹھکرایا، کہاں بھٹکیں، کہاں ان کی سرزنش ہوئی، کس منظر کو یاد رکھا، کسے بھلا دیا، کس سے بات کی، کس سے منہ موڑا، کہاں اٹھیں، کہاں جھک گئیں، کہاں دل بن گئیں، کہاں ذہن میں ڈھل گئیں، کہاں ان پر پیار آیا، کہاں انھیں نوچ کر پھینکنے کو جی چاہا، ایک نہ ختم ہونے والا منظر نامہ ہے جو قلم کے راستے کاغذ کی روح میں اتر گیا ہے۔

آنکھیں بند کرتی ہوں تو اندر کی آنکھ پلکیں جھپکنے لگتی ہے۔ آنکھیں کھولتی ہوں تو خود آنکھ بن جاتی ہوں۔ لگتا ہے کائنات کی سب آنکھیں میرے وجود پر آ گئی ہوں۔ ہر زاویہ نگاہوں کی زد میں آ کر انکشاف کی نئی قیامتیں توڑ تا رہتا ہے۔

باطن کی آنکھ کھل جائے تو ظاہری آنکھیں مضطرب ہو جاتیں ہیں۔ چشمِ حیراں کو دلاسا دینا چاہا مگر تلاش و جستجو میں کوئی سرا ہاتھ نہ لگا۔ دل سے پوچھا تو وہ خود آنکھ بن گیا۔ ذہن سے سوال کیا تو کئی آنکھیں اس کے اندر روشن ہو گئیں۔ روح سے پوچھا تو اس کی تابناکیوں نے نئے عالم آشکار کر دیئے۔

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا دیکھ رہی ہوں، کیا آنکھ سے اوجھل ہے اور کیا اوجھل نہیں ہے۔ جو نظر آتا ہے وہ ہے نہیں ہے، سب دھوکا ہے، باطل ہے، فریبِ نظرہے، جو ظاہر کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی وہی سچ ہے، وہی حق ہے، وہی جستجو، وہی راستہ، وہی منزل ہے، وہی خواب ہے، وہی تعبیر ہے، اندھیرا فریب دیتا ہے، آنکھ اس فریب کوسمجھتی ہے۔ اندھیروں میں بھی متلاشی آنکھیں ظلمت کا پردہ چاک کر کے وہ دیکھ لیتی ہیں جو دیکھنا چاہتی ہیں۔ اندھیرا چشمِ بینا کی راہ میں دیوار نہیں بن سکتا۔

آنکھیں راستے کی ہر دیوار گرانا جانتی ہیں۔ بشرطیکہ ہنر مند ہوں، لگن رکھتی ہوں، کیف و مستی سے سرشار ہوں، جذب کا ایسا عالم ہو کہ ہر چیز وجد میں آ جائے۔ کائنات پاؤں میں گھنگرو پہن کر محوِ رقص ہو جائے، ڈھولک کہیں اور بجے، رقص کہیں اور ہو۔ یہ آنکھ کے عرفان کی انتہا ہے۔

پیدائش اگر ایک انتہا ہے تو موت دوسری انتہا۔ ہم خاکی صورت لوگ ان انتہاؤں کے درمیان قید ہیں ، جتنے مجبور ہیں اتنے بااختیا ر بھی ہیں ،جتنی لگن ہے ، جتنی تڑپ ہے، اتنا ہی اختیار بھی ہمارے حصے میں آئے گا۔پھر سب عیاں ہو جاتا ہے ، آگہی کے در وا ہو جاتے ہیں ، پردے اٹھتے ہیں ، اصل تماشا نظر آتا ہے۔ بس جادۂ عرفاں پر چلنے کی ضرورت ہے ۔ باطن کی آنکھ ایک کے بعد ایک منظر دیکھتی ہے تو ظاہر کی آنکھ حیرتوں میں ڈوب جاتی ہے۔

یہ کائنات حیرت کدہ ہے ۔ صرف دیکھنے والی آنکھ چاہئیے۔ حیرت زدہ آنکھوں نے جب اردگرد دیکھا تو سب اپنا ہی لگا۔ ہر آنکھ اپنی آنکھ اور ہر روشنی اپنی روشنی تھی۔ میری آنکھیں، میری نہ رہیں۔ کائنات میں بکھر کر ہر منظر کے چہرے پر ثبت ہو گئیں۔ اس ادل بدل میں سب آنکھیں میری آنکھیں بن گئیں۔ سب نقش میرے تھے، سب رنگ، سب جذب، سب کیف و مستی میرے اندر ہی موجود تھی۔ رگوں میں دوڑتا ہوا لہو ثناء خوانی کر رہا تھا۔ دل کسی کی یاد میں گریہ زاری کر رہا تھا۔ ایک شور تھا جو کبھی سکوت میں ڈھل گیا تو کبھی شعروں میں اتر کر کاغذ کے وجود سے لپٹ گیا۔

حصہ
mm
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔.