پاکستان اورسعودی عرب ایک جان دوقالب

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات برادرانہ ہیں۔ دوبھائیوں کے درمیان ہلکا پھلکا اختلاف کوئی غیرفطری عمل نہیں ہے۔ اسلام دشمن عناصر ہمہ وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ دو بھائیوں کے مابین کوئی تنازع کھڑا کردیا جائے جس سے دونوں اطراف نفرت کا فروغ ہو، بدقسمتی سے اسلام کو صلیبیوں سے زیادہ منافقین نے نقصان پہنچایا ہے۔صلیبیوں کی ریشہ دوانیاں اہل علم پر عیاں ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے محترم وزیرخارجہ کا عجلت میں دیا گیا بیان سیکولر طبقہ کے لیے اندھیری رات میں چراغ ثابت ہوا۔بعض الناس نے سوشل میڈیا پر جو اندھیرنگری مچائی وہ کسی صاحب دانش سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔مجھے حیرانی ہے کہ بہت سے صاحب علم بھی ناچاہتے ہوئے اس سازشی ٹولے کے بازو بنے۔بحثیت مسلمان ہمیں اس قسم کی مہم جوئی سے اجنتاب کرنا چاہیے۔

مشتشرقین تویہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اخوت کے مضبوط خیمے سے جدا کردیں،ان کے سازشیں پچھلے کئی عشروں سے بیک وقت اسلام اورمسلمانوں کو مٹانے کے لیے ہورہی ہیں۔اول الذکر تو آپ جانتے ہیں جو عراق، افغانستان، لیبیا، شام، فلسطین اورکشمیرمیں ہورہا ہے اورثانی الذکر جو بچ گئے ہیں وہاں اسلام مخالف لٹریچر، سوچ کس طرح پروان چڑھ رہی ہے۔ کس طرح مسلمانوں کو باہم لڑانے کے لیے ایک خاص بیانیہ پرموٹ کیا جارہا ہے۔سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ نئی تبدیلیوں کو لے کر ایک خاص طبقہ اپنے مذموم عزائم کھل کربیان کررہا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اسلام اوراہل اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

خارجہ امور پر مباحثہ اوررائے زنی کرنے سے پہلے بین الاقوامی خارجہ امور کا مطالعہ اورصہیونیوں کی بھڑکائی ہوئی وہ آگ جسے عرب سپرنگ کا نام دیا گیا ہے کا مطالعہ ضروری ہے۔یہ آگ تیونس،لیبیا اور مصر میں شروع ہوئی تھی اُس نے شام کے بعد خلیج فارس تک پورے جزیرہ نما عرب کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔سعودی عرب اس آگ کو بجھانے کے لیے یمن میں لشکر کشی کرچکاہے۔یمنی حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے والی قوتیں کون سی تھیں؟اپنی سرحدوں کی بقا اورتحفظ کے لیے ممالک اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں دیگر ممالک کو ان فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔تاریخ اس امر کی شاہدہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کی ہرفورم پر کھل کر حمائت کی ہے۔پاکستانیوں کی سرزمین حجاز سے محبت ایمان کا لازمی جزو ہے۔کوئی چاہ کر بھی اس محبت کو اہلیان پاکستان کے دل سے نہیں نکال سکتا۔البتہ بہت ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر انتہائی محتاط انداز میں لب کشائی کی جائے۔

پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان پہلامعاہدہ 1951میں ہوا یہ شاہ ابن سعود کا زمانہ تھا۔ستمبر1965کی جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی کھل حمائت ہی نہ کی بلکہ مدد بھی کی۔اپریل 1966میں شاہ فیصل نے پاکستان کا پہلا تاریخی دورہ کیا،اس موقع پر شاہ فیصل نے اسلام آباد میں اپنے خرچے سے تاریخی فیصل مسجدتعمیر کرنے کا اعلان کیا۔حکومت پاکستان نے پاکستان کے بڑے صنعتی شہرلائل پور کانام فیصل آباد اورکراچی کی مشہور شاہراہ کو شاہ فیصل کے نام سے منسوب کیا۔یہ اقدامات اس لازوال دوستی کے واضح ثبوت ہیں۔1967اور 1968میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون،ٹریننگ اورتربیت کے معاہدے ہوئے۔سعودی حکومت نے تربیت اورفنی مہارتوں کے حصول کے لیے پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔

1973کے سیلاب میں بھرپور مالی مددکی۔1974میں سعودی عرب کی بھرپور کاوش اورکوشش سے اُو آئی سی اجلاس کی صدارت اورمیزبانی پاکستان نے کی جوکسی اعزاز سے کم نہ تھی۔ 1975میں سوات زلزلہ سے متاثرہوا تو سعودی حکومت نے سوات کی ازسرنوتعمیروترقی کے لیے ایک کروڑ ڈالر عطیہ دیا۔پاکستان نے بنگلہ دیش کو ملک تسلیم کرلیامگر محبت پاکستان میں سعودی عرب نے اسے ملک تسلیم نہ کیا۔سویت یونین کی افغانستان میں جنگ اورمہاجرین کی پاکستان میں آباد کاری سعودی حکومت نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے اہل کفر کے دانت کھٹے کیے توبین الاقوامی دنیا پاکستان کے مخالف ہوگئی، پاکستان معاشی اعتبار سے کمزور تھا اس مشکل وقت میں سعودی عرب نے پاکستان کو یومیہ 50ہزار بیرل تیل موخرادائیگی کی بنیاد دیا۔اس مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور سیاسی،سفارتی اورمالی مدد کی۔سعودی عرب نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے مشترکہ فوج کی تشکیل کی منصوبہ بنایا تونہایت خوش آئندامریہ تھا کہ اس فوج کی کمان سابق ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے سپرد کی۔یہ تعیناتی پاکستان کے لیے اعزاز اورسعودی عرب کی پاکستان سے محبت کی بے مثال دلیل تھی۔افسوس اس وقت بھی بعض الناس نے اس تعیناتی سے اختلاف کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان جب سعودی عرب گئے توملک کے معاشی حالات دیگر گوں تھے اس مشکل وقت میں سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تین ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے دیے۔ دوسری جانب تین سال تک ہر سال تین ارب ڈالر مالیت کا تیل موخرادائیگی پر فراہم کرنے کا وعدہ کیا جس سے پاکستان مستفیدہورہا ہے۔

بعدازاں سعودی ولی عہد محمدبن سلمان پاکستان کے دورہ پرآئے،حکومت پاکستان نے تاریخی استقبال کیا اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان 20ارب ڈالر کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات سے ہی خطے میں امن اور استحکام یقینی بنایا جاسکتا ہے اور اس سے ہی تنازعات کا حل نکل سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ظلم وبربریت کی مذمت کی۔ خطے میں امن اور سکیورٹی سمیت بین الاقوامی سطح پر مسلم امہ کو درپیش مسائل، بین المذاہب ہم آہنگی اور دہشت گردی پر قابو پانے جیسے امور پر یکساں موقف اختیار کیا۔

پاک سعودی عرب تعلقات ہرگزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط ترہورہے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مزیداورموثربنائے۔تعلقات کی مضبوط اورموثربنانے کے لیے وزارت خارجہ کاکردار بہت اہم ہے۔دوست اوربرادرممالک اگر کوئی غلط اقدام کربھی لیں توانہیں گفت وشنیدسے حل کرنا چاہیے نہ کہ لفظی گولہ باری،سعودی عوام اورپاکستان عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ہزاروں طلباء سعودی عرب میں زیرتعلیم ہیں جبکہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رزق کے حصول کے لیے موجود ہیں۔سعودی حکومت اورآل سعود کی اسلام اوراہل اسلام سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

پاکستان اورسعودی عرب ایک جان دوقالب ہیں۔ تندوتیزہواؤں کے جھونکے،منافقین کی ریشہ دوانیاں،دشمنوں کی چالیں،مشرکین کا گٹھ جوڑ،صہیونیوں کی سازشیں پاک سعودی عرب تعلقات کو خراب نہیں کرسکتے۔حجاز کی محبت ہمارے سینوں میں پیوست ہے۔ہم مسلمان ہیں ہرکلمہ گوہمارا بھائی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہم سب پرہم واضح کردیا تھا کہ یہ رشتے محبتیں ہمیشہ شادآباد رہیں گی۔بقول اقبال،فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔

جواب چھوڑ دیں