راحت اندوری ایک عہد ساز شاعر

مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر

میرے جذبے کو مرے ساتھ  ہی مر جانا ہے

ہندوستان کے معروف شاعر راحت اندوری کے وصال کی خبر مجھے راویش کمار سے کچھ یوں ملی کہ میں سنتا گیا بکھرتا گیا

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے     جان  ہوتی  تو  مری  جان  لٹاتے  جاتے

اب تو ہر ہاتھ  کا پتھر ہمیں  پہچانتا  ہے      عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

اندور کے راحت اندوری اب ہم میں نہیں رہے ۔اپنی شاعری سے اندور کو ایک پہچان دی اوراپنی شہرت سے ایک بلند مقام پایا کبھی اندور کو خود سے الگ نہیں کیا ِ،آج راحت اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو الوادع کہہ گیا اک شاعر کی زندگی کا حساب آپ چلتے پھرتے ٹی وی شوز کو دیکھ کرتونہیں کرسکتے ہیں لیکن وہ تھے مزاج سے بہت ضدی لگتاتھا کہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے دنیا سے ٹکرا گئے ہیں لکھتے ہیں۔

مزہ  چکھا  کے  ہی مانا ہوں  میں  بھی  دنیا  کو

سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا دنیا کو

راحت تو مزاج اورکلام کے اعتبار سے بھی راحت تھے ۔کروڑوں لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والا راحت ،دنیا کوداغ مفارقت دے گیا۔راحت سچے جذبوں کا امین اورمرزا کی طرح ضدی،حبیب جالب کی طرح طوفانوں سے ٹکرانے والا ،مخالفین کے ہوش ٹھکانے لگاوالا،لاکھوں کے مجمع میں اپنے موقف کو اشعار میں بدلنے والا کروڑوں مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا،راحت شعراء کی مجلس کے لیے راحت تھا ،ادب کا یہ بلنددرخت اہل علم وفن کے لیے سایہ دار پیڑ تھا،وہ مشہور بھی تھا اورمعروف بھی ۔

لوگ ہر موڑ پہ رُک رُک کے سنبھلتے کیوں ہیں     اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں  ہیں

میکدہ   ظرف   کے   معیار   کا   پیمانہ   ہے      خالی شیشوں کی طرح  لوگ  اُچھلتے کیوں  ہیں

موڑ  ہوتا ہے  جوانی  کا  سنبھلنے  کے  لیئے     اور سب  لوگ یہیں  آ کے  پھسلتے  کیوں  ہیں

نیند  سے  میرا  تعلق   ہی  نہیں  برسوں  سے     خواب آ، آ کے مری چھت پہ ٹہلتے  کیوں  ہیں

میں نہ  جگنو  ہیں، دیا ہوں نہ  کوئی تار ا ہوں     روشنی  والے مرے  نام سے جلتے  کیوں  ہیں

راحت ،محبت ،امن ،بغاوت ،مزاحمت اور سبق اموز شاعری کا روشن باب تھا۔راحت جوش ملیحہ آبادی کی طرح فتنہ پردازوں کی خوب کلاس لیتا اپنے کلام کے ذریعے بھارت میں انتہاپسندانہ نظریات رکھنے والوں کی خوب کلاس لیتا۔

لگے گی آگ  تو آئیں گے گھر کئی زد میں     یہاں  پہ  صرف  ہمارا  مکان  تھوڑی  ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے     ہمارے منہ  میں تمہاری زبان  تھوڑی  ہے

 جو آج صاحبِ  مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے      کرائے دار  ہیں،  ذاتی  مکان  تھوڑی  ہے

منفی سیاست کے چال چلن کا بھرپور پوسٹ مارٹم کیا کرتے ۔اپنے انوکھے انداز اور حسین امتزاج اورشاندار کلام سے لوگوں کے من موہ لیتے ،بلاشبہ وہ اپنے ہم عصروں میں بلندپایہ مقام رکھتے تھے۔انہوں نے مشاعروں کو اپنے موجودگی سے پہچان بخشی ،ان کے بغیر انٹرنیشنل مشاعرہے ادھورے رہا کرتے ۔

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب  ہے     لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا

دو گز سہی مگر یہ مِری ملکیت تو ہے     اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کردیا

راحت مزاج کے اعتبار سے نرم دل اپنے دوست شعراء کا خاص خیال رکھتے ۔سلیم احمدکاظمی لکھتے ہیں کہ غریب شعرا کی مدد اور مرحوم شعرا کے گھر والوں خبر گیری خاموشی سے کرتے تھیـ ایک بار غالباً طویٰ کے مشاعرہ میں کمیٹی بغیر پیمنٹ دیے غائب ہو گی تھی، کی شعراکو کرایہ دیا اور کچھ رقم خاموشی سے ان کی جیب میں ڈال دی، مجھے مشاعرہ کی دنیا میں اس سے اچھا انسان نہیں ملا ـ۔

یہ  سانحہ  تو  کسی دن  گزرنے  والا  تھا

میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا

مولانا فیضی نے کہا کہ راحت صاحب نے برسوں تک اردو ادب کے گیسو سنوارنے کے ساتھ کئی نسلوں کی اس طرح تربیت کی کہ آج پوری اردو دنیا میں قدم قدم پر آپ کے ایسے پروردہ افراد نظر آتے ہیں جن کو آپ نے اردو ادب کے ساتھ چلنے کا ہنر سکھایا تھا،انہوں نے کہا کہ راحت صاحب نے تو دنیا کو الوداع کہہ دیا؛ مگر انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ انسانی برادری کے لئے جو پیغام چھوڑے ہیں وہ ہمیشہ ادب سے وابستہ افراد کو ان کی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں گے۔بلاشبہ راحت کی بے باکی اور للکار ایوانوں اور ادبی محفلوں کی رونق رہے گی ۔

گھروں کے دھنستے ہوئے منظروں میں رکھے ہیں     بہُت   سے لوگ  یہاں  مقبروں   میں  رکھے  ہیں

ہمارے  سر  کی   پھٹی   ٹوپیوں  پہ  طنز  نہ  کر     ہمارے   تاج   عجائب  گھروں  میں  رکھے   ہیں

مَیں  وہ  دریا  ہوں کہ  ہر بوند بھنور ہے جس کی     تم  نے  اچھا  ہی  کیا  مجھ  سے  کنارہ  کر کے

راحت کے اشعار میں زندگی کا ہررنگ نظرآتاہے دوستی اوردشمنی سے متعلق لکھتے ہیں ۔

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

راحت اندوری کی پیدائش یکم جنوری 1950 کو ہوئی تھی۔ اندور کے ہی نوتن سکول میں انھوں نے ہائیر سیکنڈری کی تعلیم حاصل کی اور وہیں کے اسلامیہ کریمیہ کالج سے انھوں نے گریجوئیشن کرنے کے بعد برکت اللہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ایک سنجیدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نوجوان نسل کی نبض تھامنا خوب جانتے تھے۔

مرے بیٹے  کسی سے عشق  کر      مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

وہ  گردن   ناپتا  ہے  ناپ  لے      مگر ظالم سے ڈر جانے کا نئیں

سڑک پر ارتھیاں ہی ارتھیاں ہیں      ابھی  ماحول  مر جانے کا  نئیں

وبا  پھیلی  ہوئی  ہے  ہر طرف      ابھی  ماحول  مر جانے  کا نئیں

راحت صاحب کی مجموعی شاعری میں سچائی وبے باکی کی روشن علامت ہے ۔سیدھے سادھے لفظوں سے راحت نے تلخ سے تلخ پیغام بڑے اچھوتے انداز سے دیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار مرزا،سودا،جالب اورجوش کی یاد تازہ کرتے ہیں ،ان کا اچھوتاانداز منفرد لہجہ انہیں دیگر شعرا سے ممتاز دکھاتاہے ۔

میں نہ جگنو ہیں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں

روشنی والے مرے نام سے جلتے کیوں ہیں

راحت کے وصال کی خبر عالم ادب کے لیے بجلی بن کرگری ہرخاص وعام بلادِہندسے لے کر بلادِ حجاز ومغرب سبھی راحت کے چلے جانے پر دکھی ہیں ۔

جسم  سے ساتھ نبھانے کی  مت  امید رکھو     اس مسافر کو تو رستے میں  ٹھہر جانا  ہے

موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار     میں یہی سوچ کے زندہ  ہوں کہ مر جانا ہے

جواب چھوڑ دیں