تیسری عالمی جنگ ؛بھارت اورامریکہ، چین کے مد مقابل (پہلی قسط)۔

اقلیتی امیر برادری دنیا پر قابض ہوچکی ہے ،اکثریتی رائے کی حیثیت تارِعنکبوت سے بھی زیادہ کمزورہے ۔شور،احتجاج ،دھرنے کب ،کہاں کیسے دیئے جائیں گے یہ فیصلے اقلیتی امیربرادری کے تھنک ٹینک کرتے ہیں۔قلیل اشرافیہ دنیا کے نظام کوکنڑول کرچکی ہے۔دنیا منصوبہ سازوں کی چنگل میں پھنس چکی ہے ۔ترقی اورخوشحالی کا خوشنمانعرہ ،اظہارِ رائے کی آزادی کا طبل ،حقوق نسواں کی آڑمیں میرا جسم میری مرضی کا فروغ ،انفرادی خود نمائی اوربے حیائی کے جدید سوشل میڈیائی آلات ۔مستقبل کے معماروں کی فکری پستی اور نسل نو کا کیمرے کے سامنے منفی اعمال کا ارتکاب صہیونیوں کی مضبوط منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے ۔

1940میں امریکہ طاقتور موٹا اورخوشنما بلا بن چکاتھا۔دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی مربوط اورمضبوط منصوبہ بندی نے دنیا کی دوسری بڑی پاور خلافت عثمانیہ کو تار تار کردیا ۔خلافت عثمانیہ کو پا ش پاش کرنے کے بعد امریکی تھنک ٹینک نے برطانیہ کی چھائونیوں پر گہری نظرڈالی ۔شیطانی دماغوں اور قاتل آنکھوں کی نظر عرب کے لق ودق صحرا پر پڑی جو تیل کی قوت سے مالا مال تھا۔ شیطانی قوت نے تیل کے کنوئوں تک رسائی پانے کے لیے سارے عرب کو تتر بتر کردیا۔ عرب کی مقدس سرزمین انبیاء کے جائے مسکن فلسطین کے سینے میں اسرائیل کی آبادی کاری وسہولت کاری کا راز کسی سے ڈھکا چھپانہیں ہے،اسرائیل نے امریکی پشت پناہی میں مصر پر یلغار کرنا شروع کی ایشیاء میں بھارت بمقابلہ پاکستان وچین کے کھیل کی منصوبہ سازی کی ۔1960تا 1965کے درمیان امریکہ شیطانی شطرنج کھیلتا ہوا تین محاذوں پر جنگ کروانے میں کامیاب ہوا ۔بھارت بمقابلہ چین ،بھارت بمقابلہ پاکستان،اسرائیل بمقابلہ عرب ۔

امریکہ کا معاشی انحصار اسلحہ سازی پر ہے ۔امریکہ ابلیسی ریاست کا مرکز ہے ۔قتل انسانی اس کی غذا ،شاد آباد وطنوں کی بربادی اس کی سیاحت ،نفاق اسکی خارجہ پالیسی ،امن اس کا دھوکہ اوردوستی اس کا وہ خواب ہے جس کے ذریعے یہ تباہی کے فیچر بناتاہے ۔1960سے 1980یعنی دوعشروں کے درمیان یہ خوشنما بلا دنیا کا امن تہہ بالاکرنے میں کامیاب ہوا۔پاکستان جس کی طر ف مسلمانان اسلام کی نظریں تھیں اس کا ایک بازو بھارت اورارض پاک کے نالائق حکمرانوں کے ذریعے کٹوانے میں کامیاب ہوا۔عراق کویت جنگ کا کھیل ،امریکی فوجیوں کی کویت میں تعیناتی ،ایران عراق جنگ ، بیک وقت امریکہ کی سعودی عرب اورایران سے پیار کی پینگیں بعدازاں ایران عرب مخاصمت ،خمینی انقلاب ،ایران دشمنی سے سعودی عرب دوستی کے ذریعے خوف مال کمایا گیا ، سوویت یونین کی مسلمان قوتوں کے ذریعے پسپائی ورسوائی کی منصوبہ سازی کا کامیاب کھیل رچایاگیا۔

1999امریکہ دنیائے افق پر طاقتور بھڑیا بن چکا تھا۔بیشتر ممالک میں اپنے فوجی اڈے بناچکا تھا۔ اپنے حریفوں پر گہری نظررکھتے ہوئے انہیں کمزور سے کمزور ترکرنے کی جامعہ منصوبہ بندی کررہا تھا۔ ترقی پذیر ممالک اس کے سحر میں گرفتار ہوچکے تھے۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر اچانک حملہ صلیبی قوتیں ان ایکشن اور صہیونیوں کی عالمی امن کے نام پر عالم اسلام کے خلاف نئی سازشی تھیوری دہشت گردی کو متعارف کروایا گیا اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا۔یہ وہ اسٹیج تھی جب عالم اسلام پھل پھول رہا تھا ۔

ابلیسی ،فرعونی اورصہیونی فکر نے 40سے زیادہ اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا،نتائج کے حصول میں ناکامی ،ہدف ٹو کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے جھوٹ اورفریب کی بنیادپر عراق پرجارحانہ حملہ کردیا گیا عراق کی مقدس سرزمین کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے اورصدرصدام کا تختہ الٹنے کے بعد تسلیم کرلیا گیا کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔امن کا دشمن اسلحہ کا بیوپاری تیسرا ہدف لیبیا کھنڈرات میں تبدیل کرنل قذافی کی حکومت کا خاتمہ ۔چوتھا ہدف شام بشارالاسدکے ذریعے شام کی بربادی ۔یمن میں خانہ جنگی سعودی عرب کی باغیوں پر بمباری ،ایران کی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی امریکہ دونوں طرف فساد کو پروان چڑھاتے ہوئے نئے ہدف کی تلاش اورسعودی عرب کوتاحل بڑے پیمانے پر ہتھیار فروخت کررہا ہے ۔

2007سے 2016تک ارض پاک میں خون کی ہولی کھیلی گئی ،کئی جاسوس یہاں سے گرفتار ہوئے ۔وطن کے ہرگوشہ میں دھماکے کروائے گئے ۔را،موساد،بلیک واٹر کو افغانستان میںپاکستان کے خلاف متحرک کیا گیا ۔قیادتوں کی ہم آہنگی ،مضبوط منصوبہ بندی کے ذریعے عوام ،حکومت اورافواج پاکستان نے تمام بیرونی دشمنوں ،کرائے کے قاتل خارجیوں کو شکست سے دوچار کیا ۔وہ امریکہ بلاجو 1999میں موٹااورخوشنما تھا۔ان دوعشروں میں کمزور سے کمزور تر ہوتا چلاگیا۔کوڈ 19کی وبانے اس کی معیشت کو مزید کمزورکردیا ہے۔

اب جبکہ عالمی ابلیسی ساہوکاروں کو ادراک ہوگیا ہے کہ عرب اسرائیل سے بغل گیر ہورہے ہیں تو باقی کام اسرائیل کے سپردکردیا گیا ہے۔امریکہ نئے منصوبہ کی تیاری میں محوہے ۔امریکہ کی معیشت کا انحصار اسلحہ کی فروخت پر ہے ۔سست ہوتی ہوئی معیشت کو قوت دینے کے لیے ایک طاقتور محاذ پر جنگ کاشروع ہونا امریکہ کے لیے بہت ضروری ہے ۔اب عالمی ابلیسی ساہوکار بھارت چین جنگ گرما نے کے لیے سرگرم ہیں ۔امریکہ نے بھارت کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرناہے چین کی ہمالیہ کو چھوتی ہوئی معیشت کو جام کرنے کے لیے بھارت کو استعمال کرنا ہے۔امریکی وزیرخارجہ ایشیاء میں بھارت کو اپنا اسٹریٹیجک پارٹنر قراردے چکاہے ۔

انتہاپسند مودی بھارت میں راج کررہا ہے ۔5اگست2019کو مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اورمقبوضہ وادی کو دوحصوں میں تقسیم کرنے بعد بھارتی وفاق کاحصہ بنادیا۔پاکستان اورچین نے اس اقدام کی پرزور مذمت کی ۔گزشتہ ماہ چین نے لداخ میں پیش قدمی کی سینکڑوں مربع میل رقبے پر قبضہ کرلیا۔کچھ ہی دنوں بعد ایک جھڑپ میں بھارتی میڈیا کے بقول 23 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ۔چین پیش قدمی کررہا ہے ۔بھارت مدد کے لیے امریکہ کے ترلے کررہا ہے ۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ چین کے سفارت خانے بندکرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔امریکی بحری بیڑے چین کے تجارتی راستوں کے سامنے بھارتی نیوی سمندرمیں اپنی قوت یعنی استعداد ِ کار میں روزبروز اضافہ کررہی ہیں۔بھارت بی بی سی کی خصوصی رپورٹ کے مبطابق دریائے براہماپتر کے نیچے زیرزمین سرنگیں کھودنے کے منصوبہ کا آغاز کرچکا ہے ۔اس کامقصد ہے اگر چین برہماپتر کے پلوں کو نقصان پہنچاتاہے تو زیززمین سرنگوں کے ذریعے فوج کی نقل وحمل کو یقینی بناناہے۔

چین پہلے ہی اپنی تجارت کے فروغ اورتحفظ کے لیے یورپی یونین سے معاہدہ کرچکا ہے ۔پانیوں کے ذریعے تجارتی سامان کی نقل وحرکت پرانحصار کو کم کرنے کے لیے ون بیلٹ ون روڑ جس کامرکز شاہراہ قراقرام تاکاشغر روڈہے کا آغاز کرچکاہے ۔گودار بندرگاہ کا منصوبہ کی ایک کڑی ہے ۔چین ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے بھارت کی چھٹی کرانے کے بعد ایران میں 400ارب ڈالر کی سرمایا کاری کرنے کا ارادہ

کرچکا ہے ۔امریکہ خطے میں اپنے اتحادی تلاش کررہا ہے تودوسری جانب چین ایشیاء میں سٹرانگ معاشی سٹریٹیجک پارٹنرشپ قائم کررہا ہے ۔پاک چائنا اکنامک کوریڈور میں چین ایران اورافغانستان کو شامل کرنا چاہتاہے ۔دوسری طرف بنگلہ دیش ،بھوٹان،مالدیپ اورسری لنکا کو اپنا مضبوط پارٹنر بناچکا ہے۔پاک ،بنگلہ دیش دوریوں کو ختم کرنے کے لیے بیک ڈوڈپلومیسی کاآغاز کردیا گیاہے ۔ (جاری ہے)

جواب چھوڑ دیں