میزبانی اور بہادری کی مثال

کیسی رہی چائے؟ what a fantastic chai یہ جملہ فروری میں بہت سننے پڑھنے اور بولنے کو ملا۔

27 فروری سر پرائز ڈے کے نام سے 2020 میں بھی منایا گیا ۔ یہ وہ دن ہے جس دن ایک بھارتی فوجی ابھینندن کے منہ سے پاکستان کی چائے کو بین الاقوامی مشروب قرار دیا گیا اور یہ انڈیا کے توسط سے ہوا۔

1965 کو ناشتہ کرنے کیلیے خواب کو تعبیر نہ بخش سکے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی شکست خوردہ ہوئے ۔

27 فروری وہ دن جس دن بھارت نے اپنے پائلٹس کو پاکستان کی میزبانی دیکھنے کیلئے بھیجا ۔ بھارت کے طیارے اپنے ناپاک عزائم لے کر پاکستان میں فضا کا اتار چڑھاؤ دیکھنے آئے تھے ۔ اور اپنے اتار چڑھاؤ کی تعبیر کروا بیٹھے ۔

پاکستانی عوام نے پائلٹ کا مکے، لاتوں، گھونسوں اور چپیڑوں سے پاکستان میں گھس کے مارنے کا جواب دیا ۔ اور انڈیا کو اس کی اوقات یاد دلادی کہ 65 گز رگیا تو کیا ہوا ۔ 65 دہرانے والے ابھی بھی زندہ ہیں ۔

پاک فوج کے دلیر جوانوں کی حراست میں آنے کہ بعد ابھینندن نے عوام سے بچانے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا ۔

پاک فوج دوست تو کیا دشمن کے بھی دل جیت لیتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ ابھینندن کو چائے پلانے کے موقع پر ہوا ۔ ابھینندن سے پوچھا گیا کیسی رہی چائے ؟تو ابھینندن نے جواب میں TEA WAS FANTASTIC کے الفاظ ادا کرکے چائے کو بین الاقوامی مشروب قرار دے دیا ۔ جب دو ممالک ایک چیز پر متفق ہوں تو بین الاقوامی سطح بن جاتی ہے ۔

27 فروری کے دن کو 2020 میں بھی بھر پور طریقے اور اہتمام سے سوشل میڈیا اور دیگر کئی پلیٹ فارمز پر چائے کے ساتھ منایا گیا ۔

27 فروی کو پہلی چائے ابھینندن نے پی تھی اور اس 27 فروری کو پاکستانی عوام نے انڈیا کے منہ پر طمانچہ مارنے کیلئے ایک دوسرے کو چائے کی دعوت دی ۔ اور اس دعوت کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر خوب انجوائے کیا گیا ۔

اب بھارت کو اگر طیارے نہیں اڑانے آتے تو نہ اڑائے اور دوبارہ ایسی غلطی نہ کرے کیونکہ پاک فوج کے جوان تیار بیٹھے ہیں اور حسن صدیقی اور ایم ایم عالم جیسوں کی تعداد ہی نہیں ۔ اور کہیں ایسا نہ ہمیں کوئی اور دن منانا پڑے ۔

جواب چھوڑ دیں