کشمیر بنے گا پاکستان

اگلا سوال ہے کہ یہ بتائیں مقبوضہ کشمیر میں کب سے کرفیو نافذ ہے؟ ہاتھ کھڑا کرنا ہے۔

عائشہ فاروق بریلینٹ گرلز کلاس میں بچیوں سے کشمیر کوئز کنڈکٹ کروارہی تھیں،بچیوں نے جواب دیا۔پانچ اگست 2019

میں جو اپنے کام میں مگن تھی ایک دم چونکی،انگلیوں پر گِنا،اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر، دسمبر، جنوری اور جنوری تو تقریبا ختم ہونے والا ہے اور یہ سوچتے میرے دل و دماغ میں ایک شدت کی ٹیس اٹھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہ چھ ماہ ہوگئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

72 سال سے “کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعرے لگانے والے کشمیری،تیسری نسل تک آ پہنچے۔ اپنے آباؤ اجداد سے سینہ بہ سینہ پاکستان کی محبت میں جینا مرنا سیکھا۔

اپنے عزیز ترین رشتے پاکستان کی محبت میں کھوئے۔

اپنے مال مویشی کھیت کھلیان،کاروبار، پاکستان پر وار دئیے۔

دن رات بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کے خوف میں گزارا۔

جہاں کی اٹھانوے فیصد آبادی پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔

پاکستان جس کے آبی ذخائر اور زرخیز زمینوں کا انحصار کشمیر سے آتے گلیشئیرز کے پانی پر ہے۔

اگر بھارت کشمیر کو اپنے ملک میں شامل کرلیتا ہے تو دشمن ملک کی طویل ترین سرحد پاکستان کے ساتھ مزید طویل ہوجائے گی۔

یہ تو کشمیریوں کا احسان ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں اور بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔

بھارت اسی لئے وہاں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریفرنڈم نہیں کرواتا کہ اگر کروالیا تو کشمیر کی عوام پاکستان کے حق میں فیصلہ کردے گی ۔

اور بھارت نے پاکستان میں کمزور بزدل حکومت دیکھتے ہوئے کیسا وار کیا؟

چھ ماہ کے کرفیو میں کتنی بار بھوک سے بلکتے بچوں کو ماں باپ نے یہ کہہ کر سلایا ہوگا کہ بس پاکستان ہمیں آزاد کر والے گا؟

کتنی بار بزرگ ناتواں لوگوں کو اولاد نے حوصلہ دیا ہوگا ، بس پاکستان سے ہماری مدد آنے والی ہوگی تو آپ کو ہاسپٹل لے جائیں گے دوا لا دیں گے ۔

کتنی بار گھروں سے اٹھائے جانے والے جوان بیٹیوں کی ماؤں کو یہ آس بندھی ہوگی کہ اب تو پاکستان ہمارے لیے ضرور کچھ کرے گا، وہ ہمیں اس وقت بھارت کے ظلم میں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

اور کتنی جوان بیٹیوں کی گمشدگی پر ماؤں نے آہ و بکا کی ہوگی کہ اب بس حد ہوگئی ستر سال سے ہماری قربانیوں کو پاکستان والے رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ وہ ضرور ہماری مدد کو آئیں گے۔

گھروں میں قبریں کھود کر دفنانے والوں نے کتنی بار اپنے کندھوں سے جنازے اتار کر دفناتے سوچا ہوگا کہ بس اب تو پاکستان ہمیں ضرور بھارت کے شکنجے سے نکالنے آئے گا۔

لیکن افسوس صد افسوس۔ ۔ ۔ ۔ ! ! !

ہم نے ان کے ہردن کی چڑھتی صبح کے انتظار کو سرشام ہی آگ میں جھونک دیا ۔

سوچیں بھارت شاطر کیسی چال چل گیا؟ستر سال سے زائد قربانی دینے والوں کے ایک ایک آس امید اور توقع کو مار گیا۔

خود کو رکھ کر سوچیں کہ دو مہینے تو کیا دو ہفتے کوئی آپ کو ایسے قید کردے تو اپنے رشتہ داروں اور ہمسائیوں سے کتنی امیدیں لگا کر آپ ایک ایک لمحہ اذیت میں کاٹیں گے اور اگر وہ آپکی مدد کو نہ آئیں تو آپ کا کیا حال ہوگا؟؟؟

پھر دشمن خود ہی آپ کو آزاد کردے تو آپ اپنے رشتہ داروں اور ہمسائیوں دوستوں کو گلے لگا سکیں گے؟؟؟

کہیں گے نا اس وقت کہاں مر گئے تھے جب مجھے دشمن نے قید کررکھا تھا؟؟؟

بچا لی اپنی معیشت!!! “

بچا لیا اپنا سرمایہ!!!!

بچا لیا اپنے ایٹمی ہتھیار اور اسلحہ!!!!! “

جمعہ کو آدھا گھنٹہ کھڑے ہولئے۔۔۔۔۔

اقوام متحدہ میں آگ لگی تقریر بھی جھاڑ لی۔۔۔۔۔۔

دشمن دوہری چال چل کر صدیوں کی محبت، انسیت، امید، آس کو مٹی میں ملا گیا اور کشمیر کو ہضم کرگیا۔

لیکن امید ابھی باقی ہے ۔ ہم اپنے آخری سانس تک اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولیں گے ۔

ان کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

ہمارا خون ابھی سفید نہیں ہوا۔ان۔شاء اللہ ہم کشمیریوں کی محبت کا قرض ادا کرتے رہیں گے۔ایک دن ضرور کشمیر آزاد ہوگا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔ان شاءاللہ

یہ محبت یہ جذبہ ہم مرنے نہیں دیں گے، ہم اگلی نسلوں تک ضرور منتقل کریں گے ۔

جواب چھوڑ دیں