فیس بک حقیقت یا جھوٹ

رومی رومی اپنے شوہر کے دوبارہ پکارے جانے پر میں تقریبا دوڑتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔تم نے میری جیب سے پیسے نکالے ہیں؟انہوں نے مجھے کڑی نظروں سے گھورا میں بغیرکوئی جواب دیئے کبھی ہاں ، کبھی نا میں گردن ہلانے لگی، دیکھو تمہارا چہرہ صاف بتا رہا ہے کہ تم نے میری جیب پر ہاتھ صاف کیا ہے تم عورتیں بھی نہ ۔ ۔ ۔ ۔

کیا مطلب ہے آپ کا؟ خود ہی اپنے پیسے کہیں بھی رکھ کر بھول جاتے ہیں اور کوئی نہ ملا تو اپنی نصف بہتر پر ہی الزام تراشی؟اپنے شوہر نامدار کا خود پر اس طرح الزام لگانا مجھے تو خوب ہی کھلا۔

مانا کے نکالتی ہوں، مگر اس وقت تو وقت ہی نہیں ملا تھا، تلاشی کی بات مزید طول پکڑ لیتی ۔ اگر بروقت انکا فون نہ بج جاتا ، ہائے بھلا ہو ان سول محکمے والوں کا۔

حد ہوتی ہے کوئی اور نہ ملا مجھ۔ صنف نازک پر مزید ظلم ڈھانے کے لئے میرے موصوف نے چہرے کی پڑھائی، فیس ریڈنگ کی ٹریننگ کروانا شروع کر دی۔ ہر کام کرنے کے بعد آئینے کے سامنے جاکر اپنے چہرے کو پڑھنا پڑتا ہےکہ کہیں کوئی تا ثرات تو نظر نہیں آ رہے؟

مگر موصوف کا سامنا ہوتے ہی میرا سپاٹ چہرہ طرح طرح کے تاثرات سے مزین ہو جاتا ہے اور کتنا ہی بچنا چا ہوں؟ پکڑی ہی جاتی ہوں۔

کچھ ہی دن ہوئے دا نش نے آ خر کار دفتری ضروریات کے بہانے انٹرنیٹ لگا ہی لیا ۔کوئی دے نہ دے۔ مگر میں تو بےشمار دعائیں دونگی اور اس چہرے کی کتاب کے موجد کو۔ کم ازکم فیس بک کے آگے بیٹھ کر موصوف جس طرح دنیا مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں، میری تو سمجھو چاندی ہو گئی۔پہلے تو گھر آتے ہی انہیں صوفے پر جمی گرد ،میرا بکھرا ہوا ہےحلیہ پھیلا ہوا گھردیکھ کر غصہ میں آ جاتے تھےاور انکشاف کرتے نظر آتے کہ دن بھر ناول کی ہیروئنوں اور پھر اپنی سہیلیوں سے گپیں مار کر فارغ ہوئی ہو؟ مگر اب دفتر سے آتے ہیں بس وہ ہوتے ہیں اور فیس بک درمیان میں ایک دو بار چائے دینے کی ذمہ داری میں بحسن و خوبی انجام دیتی ہوں کہ کسی بھی کتاب کا مطالعہ یا ڈرامہ کے دوران چائےکی ضرورت مجھے بھی محسوس ہوتی۔تاکہ ڈرامہ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

باورچی خانے کی طرف گئی تھی کے پیچھے سے دانش نے ایک کے بجائے مزید چائے کا حکم دیا کہ ان کے عزیز دوست آگئے تھے دانش اسے لے کر مہمان خانے کی طرف چلے گئے، تو میں بھی اپنا کپ تھامےکچن کی طرف پلٹ آئی، لیکن اچانک میری نظر ان کے کھلے لیپ ٹاپ پر پڑی، حسن اتفاق دیکھئے کہ موصوف اپنا لیپ ٹاپ کھلا چھوڑ گئے تھے، جہاں ان کی فیس بک اوپن تھی، ویسے تو ان باکس میں جھانکنا غیراخلاقی ہے، مگر جب بیگم جیبوں میں جھانک سکتی ہے تو انباکس میں کیوں نہیں ؟خود کو تسلی دیتے جیسے ہی ان باکس کھولا ایک زور دار چیخ نکلی تمام تر خوش گمانیاں ہوا میں تحلیل ہوگئی کیونکہ میرے موصوف کسی نازک زلف کے اسیر تھے، ڈیپریشن اسکا کتابی چہرہ جلا رہا تھا جس سے ملاقات کا وعدہ طے پایا تھا، میرے شوہر کمرے میں داخل ہوئے کیا ہوا ؟ خیریت ہے۔اب فیس ریڈنگ کی باری میری تھی میں نے کڑتے ہوئے ان کے چہرے پر کچھ چوری کے تاثرات ڈھونڈنے چاہیے مگر ناکام رہی کاش میں نے بھی چہرا پڑھنے کی کچھ ٹریننگ لے لی ہوتیں یا پھر یہ بندہ ہی اپنے تاثرات چھپانےمیں ماہر ہے ،بس نہ چلا تو فورا اس کتابی چہرے والی سے متعلق سوال داغ دیا۔

خوب مجھ سے چھپ کر چائے پر ملنے کے وعدے ہو رہے ہیں، میں نے ماتھے پر بل ڈالنے کی کوشش کی وہ ہاہاہاہا وہی تو مجھ سے ملنے آیا ہے۔

محترمہ آپ نہیں جانتیں فیس بک سب جھوٹ کی دنیا ہے ، سچ بھی ہوتا ہو گا مگر اب سچ بولنے والے ہیں ہی کتنے؟ آ ٹے میں نمک کے برابر میں تمہیں اس کتابی چہرے والی سے ملواتا ہوں، دانش میرا ہاتھ پکڑ کر مہمان خانے کی طرف لے گئے اور اس کی کتابی چہرے والی کا دیدار کروایا نہایت ہی عظیم ساحل ناز ہمارے آفس میں ہوتے ہیں۔

مگر میری بھولی بھالی بہنو ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا آپ بھی آپنے شوہر پر نظر رکھیے کہ یہ حقیقت میں وہ کسی کتابی چہرے کے جال میں نہ پھنس جائیں۔

جواب چھوڑ دیں