حور ایک استعارہ یا حقیقت؟

حوروں کا ذکر ، اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ وہ انعامات کی طویل فہرست میں سے ایک انعام ہوگاجو اہل جنت کو بکثرت ملے گا۔کہیں 70تو کہیں114 کی بھی تعداد کا ذکر آتا ہے۔

مومنین کے لیے تو اللہ کی رضا ہی کافی ہے لیکن اللہ نے اپنے بہترین بندوںکو جو کہ شیطان کے دیئے گئے چیلنج کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہونگے ان کی ہر قسم کی تسکین کا سامان جنت ہی میں کیا ہے ۔ جنت ہی کو وہ جگہ قرار دیا گیا ہے جہاں سکون ملے گا، واضح رہے کہ حدیث پاک ﷺ کے مطابق جنت وہ جگہ ہے جہاں سکون وآرا م کو رکھ دیا گیا جسے انسان دنیا میں تلاش کرتا ہے۔بہر حال جنت کے لیے جستجو اور تڑپ اور عمل کرنا ہی ہر انسان کا ہدف ہونا چاہیے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جسے میں تو شیطان ہی کا آلہ کار قرار دیتا ہوںاُس کی بدولت افرا تفری یا یوں کہیے کہ پروپیگنڈہ بلکہ آسان کرلیں افواہیں، غلط اطلاعات، تشکیک و تنقیص وہ بھی بنا کسی معلومات کے اب باآسانی ہو جاتی ہے۔ فتنوں کے اس تیزی سے ابلنے کا اس سے شدید دور شاید ہی کوئی ہو۔

ہوا یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کرنا شروع ہوئی جس میں جاوید احمد غامدی کے توسط سے یہ موقف دیا گیا کہ جنت میں حور ملنے کا صرف ایک استعارہ ہے ، اصل میں تو آپ کو اپنی دنیاوی بیوی ہی ملے گی۔ اب لوگ اس پر مذاق بنا کر کمنٹس کا اضافہ کرنے لگے کہ ’یہ کیسی سزا ہے، اب تو میں غامدی کا دشمن ہوگیا ہو اس نے ایسی بات کیوں کی، پھر فائدہ کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ جیسا عموماً ہوتا ہے شوہر بیوی والے مذاق میں۔اب بات ایسی تھی کہ ڈسکشن میں آگئی۔ ہمارے ایک معتبر و محترم دوست نے بھی ایک پوسٹ ڈال دی اور یوں خوش خبری سنائی کہ :

متاثرین غامدی صاحب کے لیئے. . . .. .

ان حضرات کے لیئے جو غامدی صاحب کی حوروں سے متعلق بیان پر دلبرداشتہ ہیں اور اپنی بیگمات کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھر رہے ہیں، ان کے لیئے یہ ناچیز جو کہ قطعی طور پر مذہبی معاملات میں عالم و فاضل نہیں ہے لیکن حوروں جیسے نازک قلبی معاملے پر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسوقت کہ جب اس کی شادی نہ ہوئی تھی کچھ تحقیق کرچکا ہے یہ ناچیز یہ اعلان کرتے ہوئے قطعی عار محسوس نہیں کرتا کہ غامدی صاحب کا بیان سورہ رحمن میں بتائی گئی نشانیوں سے متصادم ہے اس لیئے غامدی صاحب کا بیان غلط ہے۔ اس سورۃ میں جنت کی نعمتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ “ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے“لہذا اب یہ آپ کی بیگم کا ذکر نہیں ہے۔ چونکہ اب آپ خوش ہو گئے ہیں، تو ایک نکتہ تحقیق بھی آپ کے لیئے چھوڑے جاتا ہوں۔ آپ کی بیگمات کو آپ کو بھگتنے پر جنت میں کیا ملے گا؟کیوں کہ جنت صرف مردوں کے لیئے نہیں ہے۔“

اب فیس بک اسٹیٹس پر صبح صبح ہماری نظر پڑ گئی تو ہماری ظرافت پھڑک اٹھی۔ ہم نے ان کو مخاطب کر کے کہا کہ بھائی اچھا ہوا اس بہانے سورۃرحمٰن کا مطالعہ ہو گیا، البتہ اس کے پڑوس والی یعنی سورۃ الواقعہ میں بھی اہم مثالیں ہیں اگر وہ بھی آجا ئیں تو اہل ایمان کے ایمان و یقین میں بھرپوراضافہ متوقع ہے۔

وہ بھی جوش میں تھے صبح صبح اپنی پوسٹ کے پہلے پرستار کو جانے نہیں دینا چاہتے تھے، اس لیے فورا ًوضاحت فرمائی کہ:”ایک عرصے تک شب میں سورۃ واقعہ کی تلاوت کی ہے۔ سورۃ رحمٰن میں دو مقام پر جنت کی حوروں کا ذکر ہے اور دونوں مقام پر فرمایا گیا ہے کہ ان کو جن وانس نے ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔“

یہ بات تو ٹھیک تھی لیکن میرا موضوع تو سورۃ واقعہ کی کچھ دیگر آیات تھیں، اس لیے میں نے اسلام 360کی ایپلی کیشن کا پورا فائدہ اٹھایا اور سورۃ واقعہ کی آیت نمبر35 تا37بھیج دی اسکرین شاٹ کے ذریعے جس کا ترجمہ کچھ یوں تھا!

ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے ۔اور انہیں باکرہ بنا دیں گے۔اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن۔

اب سورۃ واقعہ کی یہ آیات تو کچھ اور بلکہ یوں کہیے کہ نئے انعام (اضافی) کا ذکر کر رہی تھیں۔

انہوں نے یہ آیت دیکھ کر کہاکہ ،’آپ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے ۔‘ میں اب بھی نہیں سمجھ سکا کہ انہوں نے جان بوجھ کر اس انداز سے پوسٹ ڈالی تھی۔

لیکن یہ بات ان کے لیے نئی تھی، انہوں نے کہاکہ ”بیویوں والا ترجمہ انہوں نے کہی اور نہیں دیکھا تومترجم پوچھا۔ میں نے اسلام 360اور مولانا مودودی، مولانا جونا گڑھی، مولانا امین احسن اصلاحی کا حوالہ دے دیا، جنہوں نے اس کا ترجمہ بیوی کے معنی میں کیا ہے، دیگر جگہوں پر یا تو ذکر واضح نہیں یا حوروں کا ذکر ہے جس میں مولانا حسین نجفی کا ترجمہ بھی شامل ہے ، چنانچہ ہم نے وہ بھی شیئر کر دیا۔

اس پر انہو ں نے کہاکہ یہ ترجمہ پہل بار نظر سے گزرا ہے ، ”مودودی صاحب سے اختلاف کی میری علمی اوقات نہیں ہے۔تاہم ہم نے یہ ترجمہ پہلی بار پڑھا ہےشیئر کرنے کا شکریہ۔“

انہوں نے پھر وضاحت کر دی کہ ”دیکھیئے جو آخری پکچر آپ نے شیئر کی ہے اس کے مطابق حوریں آپ کی بیگم ہوں گی نہ کہ بیگم آپ کی حور ہوں گی۔“ بہر حال میں نے بات سمیٹتے ہوئے مسکراہٹ کے دو ایموجی لگاتے ہوئے کہا کہ

” ایک بار انٹری مل جائے جنت کی ، جو بھی جیسا بھی ملے گا شکر ادا کر کے لے لیں گے۔“

بظاہر تو بات ختم ہو گئی تھی لیکن اصل پوسٹ میں آخر میں ایک سوال بھی اٹھایا گیا تھا تو میں نے جاتے جاتے اس کا جواب بھی سورۃ واقعہ کی آیت نمبر17بھی شیئر کر دی۔

ان کے پاس ایسے غلمان ( نوخیز لڑکے ) ہوں گے جو ہمیشہ غلمان ہی رہیں گے۔

ہمارے محترم دوست نے فوراً توجہ دلائی کہ وہ اس سوال کے ذریعہ لوگوں کو قرآن سے رجوع کر کے جواب ڈھونڈوانا چاہتے تھے لیکن میں نے تو پہلے کمنٹ کے تھریڈ میں ہی جواب دے دیا۔ چنانچہ انہوں نے درخواست کی کہ اس کو ڈیلیٹ کرو سو میں نے بڑے مقصد اور بڑے محترم کا حکم جان کر فوراً ڈیلیٹ کر دی۔ ان سے کہا بھی کہ آپ اشارہ تو دیتے مجھے لگا کہ شاید آپ خود بھی نہیں جانتے اس لیے پوچھا؟ جس پر انہوں نے بھی معاملہ کلیئر کیا کہ اللہ کے فضل سے ان کے بھی زیر مطالعہ قرآن مجید کے کئی تراجم و تفاسیر آچکے ہیں۔ انکا مقصد سوال پوچھ کر لوگوں کو جواب کی جستجو میں ابھارنا تھا۔

اب اس پوسٹ کے نیچے کے کچھ دلچسپ تبصرے ملاحظہ کیجیے:

”غامدی صاحب کا بیان سننے کے بعد ہم نے تو نیک کام کرنا ہی چھوڑ دیے تھے، بہت شکریہ سر آپ نے ہماری امیدوں کو پھر روشن کردیا۔“

ایک صاحب زیادہ سنجیدہ ہوگئے اور لکھا کہ

’میں اس پر علم والے شخص سے مزید رجوع کروں گا، اتنا میں نے سنا جو خواتین جنت میں جائیں گی وہ نیک مردوں کی بیویاں ہو نگی، فرعون کی بیوی آسیہ کو خوشخبری دی گئی تھی کہ وہ جنت میں نبی مہربانؐ کی زوجہ ہونگی۔ ہمیں بس نیک عمل کرنے چاہیے۔ یا اللہ پاک ہم آپکی جنت کے طلب گار ہیں جہاں کوئی غم اور فکر نہیں ہو گا۔انشاءاللہ

ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ،”تو اس کا مطلب ہے ریما، میرا، کترینہ، ، پریانکا چوپڑا،مہوش حیات، وغیرہ سے کام چلانا پڑے گا کیونکہ جنت کی شرائط ہی بہت کڑی ہیں۔ آپ اپنے اعمال کا جائزہ ضرور لیں۔

جواب چھوڑ دیں