اسلامی جمعیت طلبہ علمی اور نظریاتی تحریک

23 دسمبر 1947ء کو جمعیت کے ساتھ 25طلبہ تھے۔ آج لاکھوں طلبہ ہیں۔ اور اگر لاکھوں طلبہ نہ بھی ہوں تو بھی جمعیت کے ساتھ 72سال کی شاندار تاریخ ہے۔ ہمارے زمانے میں اجتماعیت کا یہ حال ہوگیا ہے کہ ان کے سلسلے میں 72ہفتے بھی ’’تاریخ‘‘ محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن جمعیت نے 72ہفتے نہیں 72 سال بسر کر کے دکھائے ہیں۔ لیکن جمعیت نے صرف وقت نہیں گزارا اس نے وقت کو بدلا بھی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے جب اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو اس کے لیے حالات سخت تھے۔ تعلیمی اداروں پر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا مکمل غلبہ تھا اور طلبہ میں اسلام کے حوالے سے نظریاتی جدوجہد کی کوئی نظیر موجود نہ تھی۔ ان حالات میں جمعیت نے چار چیزوں کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا ۔

۱) تقویٰ

۲) نظریاتی جہت

۳) علم

۴) خدمت

اسلامی جمعیت طلبہ نے تقوی کے جس مفہوم کا ابلاغ کیا اسے آسان زبان میں نیک سیرتی کہا جاسکتا ہے۔ قومی سیاست کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے اس میں کسی کی نیک سیرتی عرصے تک ایک راز رہ سکتی ہے مگر طلبہ کی سیاست کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ کسی کالج کیا کسی جامعہ کے کسی شعبے یا فیکلٹی میں پڑھنے والے ایک دوسرے کو چند ہفتوں میں اچھی طرح جان جاتے ہیں۔ چنانچہ تعلیمی اداروں میں نیک سیرتی کانعرہ کوئی دھوکا تخلیق نہیں کرسکتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے نیک سیرتی کا جو نمونہ پیش کیا اس میں کھوٹ ہوتا تو جمعیت طلبہ میں مقبول ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ جمعیت کی تاریخ کا ایک عجیب پہلو یہ ہے جامعات میں جمعیت طلبہ سے زیادہ طالبات میں مقبول ہوتی تھی۔ یہ صورت حال بلا سبب نہ تھی۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی نیک سیرتی کے نمونے کا اثر تھا۔ بلاشبہ نیک سیرتی صرف صنفی تعلقات تک محدود نہیں لیکن نوجوانوں کے دائرے میں صنفی تعلق کسی کی انفرادی اور اجتماعی سیرت کے بارے میں ایک بہت بڑی شہادت مہیا کرسکتا ہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کو اپنی طویل تاریخ میں یہ شہادت تواتر کے ساتھ فراہم ہوئی۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے نظریاتی بحران کے دور میں اپنے کام کی ابتداء کی۔ اس دور میں اہل اسلام کے دو بڑے مسائل تھے۔ ایک یہ کہ انہوں نے اسلام کو عقائد، مساوات اور اخلاقیات تک محدود کر کے ریاست وسیاست، معیشت وثقافت سے اس کا تعلق منقطع کردیا تھا۔ ان کا دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہ یہ تو بتا رہے تھے کہ حق کیا ہے مگر وہ یہ نہیں بتا رہے تھے کہ عصر حاضر کا باطل کون ہے اور کیوں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلام کے حوالے سے معذرت خواہی کی نفسیات پر حملہ کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے فکر مودودیؒ کے حوالے سے نوجوانوں کو بتایا کہ اسلام کوئی ماضی کی یادگار نہیں۔ وہ ہمارے حال اور مستقبل کی صورت گری کرنے والی قوت ہے۔ اور اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس فکر نے نوجوانوں کو اسلام پر فخر کرنا سکھایا۔ اس فکر نے نوجوانوں کو بین الاقوامی منظر نامے میں اسلام کی اہمیت کا شعور عطا کیا۔ یہ شعور سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظریات کی مزاحمت سے مزید قوی ہوا اور لاکھوں نوجوانوں کو محسوس ہوا کہ تعلیمی ادارے محض تعلیمی ادارے نہیں ہیں بلکہ وہ نظریاتی جنگ کا میدان ہیں اور اس میدان میں انہیں لشکر اسلام کا سپاہی بن کر کھڑا ہونا ہے۔ نوجوانوں میں جذبات کی فراوانی ہوتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے نوجوانوں میںجذبات پیدا نہیں کیے بلکہ ان کے جذبات کو اسلام کے کائناتی اور عالمی شعور سے منسلک کردیا۔ چنانچہ اسلامی جمعیت طلبہ نے دیکھتے ہی دیکھتے تعلیمی اداروں کے ماحول اور کلچر کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی۔ یہ تعلیمی اداروں میں برپا ہونے والا ایک ’’انقلاب‘‘ تھا۔ اس انقلاب نے لاکھوں نوجوانوں کی سمت صغر، نصب العین، مقاصد حیات اور ہیروز کو تبدیل کیا۔ یہ انقلاب اس لیے بھی انقلاب تھا کہ بائیں بازو کے طلبہ کو حکومت، ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی قوتوں کی سرپرستی حاصل تھی۔

مولانا مودودیؒ کی برپا کی ہوئی تحریک اپنی نہاد میں ایک علمی تحریک ہے۔ چنانچہ اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم تربیتی نظام اور مزاج پر طویل عرصے تک اس بات کا اثر رہا۔ لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کی علم سے وابستگی کا مفہوم کیا ہے؟ اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلام کا دفاع صرف جذباتی بنیاد پر نہیں بلکہ علمی بنیاد پر کیا اور اس نے طلبہ کی سطح پر حریفوں سے برتر بیانیہ یا Narrative تخلیق کیا۔ اس بیانیے کا اثر جمعیت کے نعروں تک میں نظر آتا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے علم سے تعلق کا ایک پہلو یہ ہے کہ جمعیت نے صرف عام طلبہ کو متاثر نہیں کیا بلکہ اس نے ذہین طلبہ کی کثیر تعداد کو بھی اپنا ہمنوا بنایا۔ جمعیت نے نہ صرف یہ کہ اپنی صفوں میں مطالعہ کے رجحان کو فروغ دیا بلکہ جمعیت کے رہنمائوں اور کارکنوں میں ایسے لوگوں کی قابل ذکر تعداد ہمیشہ موجود رہی ہے جو تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس صورت حال نے جمعیت کی دلکشی میں اضافہ کیا ہے اور اسے ایک انفرادیت عطا کی ہے۔

طلبہ کی سیاست اپنی نہاد میں خوف کی سیاست تھی لیکن جمعیت نے اس دائرے کو بھی نئی جہتوں سے ہمکنار کیا۔جمعیت کے نظریاتی پس منظر نے اسے ایسی سرگرمیاں ’’ایجاد‘‘ کرنے کی طرف مائل کیا جو دیگر طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں سے مختلف بھی ہوں اور ان میں طلبہ برادری کے لیے دلچسپی کا سامان بھی موجود ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جمعیت کی تاریخ مشاعروں، مباحثوں، کتب میلوں، مکالموں اور نوواردان کے خیر مقدم کو روایت بنانے کی تاریخ ہے۔ ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے چیلنج کے ساتھ تعلق کی درست صورت اختیار کی۔ چیلنج کے ساتھ تعلق کی منفی صورت یہ ہے کہ انسان یا تنظیم چیلنج کو اپنے لیے بوجھ بنالے۔ چیلنج کے ساتھ تعلق کی درست صورت یہ ہے کہ انسان یا انسانوں کی جماعت چیلنج کو اپنے لیے قوت محرکہ میں ڈھال لے۔ جمعیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو سب کچھ اس کے خلاف تھا مگر جمعیت اس ہولناک منظر سے ڈری نہیں بلکہ اس نے اسے اپنے لیے قوت محرکہ یا Motivational Force بنایا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ آج ہم پہلے کی طرح توانا نہیں۔ اس کا ایک سبب طلبہ تنظیموں پر پابندی ہے لیکن جمعیت کا اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ چیلنج کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرتی ہے یا نہیں۔ جمعیت اپنے طویل تجربے سے جانتی ہے کہ برتر اخلاق وکردار اور برترعلم کے بغیر معاشرے کو نہ متاثر کیا جاسکتا ہے نہ اسے بدلا جاسکتا ہے۔ اور نہ بہت دیر تک زندہ رہا جاسکتا ہے۔ ان دو دائروں میں کسی گروہ کی طاقت ہی اس کی اصل طاقت ہے اور ان دو دائروں میں کسی گروہ کی کمزوری ہے اس کی اصل کمزوری ہے۔

حصہ
mm
شاہنواز فاروقی پاکستان کے ایک مقبول اورمعروف کالم نگار ہیں۔ آج کل جسارت کے کالم نگار اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے اسٹاف رائیٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں زبان، ادب، شاعری، تنقیدکے ساتھ برصغیر کی تاریخ وتہذیب، عالمی، قومی اور علاقائی سیاست ، تعلیم، معیشت، صحافت، تاریخ اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ اسلام اورمغرب کی آ ویزش اور امت مسلمہ کے ماضی وحال اور مستقبل کے امکانات کا مطالعہ ان کا خصوصی موضوع ہے۔ اس کے علاوہ سوشلزم اور سیکولرازم پر بھی ان کی بے شمار تحریریں ہیں۔ فاروقی صاحب ’’علم ٹی وی‘‘ پر ایک ٹاک شو ’’مکالمہ‘‘ کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ شاہنوازفاروقی اظہار خیال اور ضمیر کی آزادی پر کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں