ڈاکٹر اعلیٰ ظریفی اختیار کریں

 ڈا کٹر کسی بھی معاشرے کا مسیحا ہے ، صرف علاج کی حد تک نہیں بلکہ تمام شعبہ زندگی میں ہمدردی اور انسانیت کے علمبردار ، جو اپنی جان پر کھیل کر مریضوں کو بچاتے ہیں ۔ جتنی ضرورت اس وقت شعوری طور پر ڈاکٹر حضرات کی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، لہٰذا گزارش ہے کہ ڈاکٹر حضرات زیادہ سے زیادہ  اپنی خدمات پیش کریں۔  بے غرض اور بے لوث ، یہ آپ کی اخلاقی ، انسانی اور پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے ۔

ڈاکٹروں کو اب مزید ہڑتال نہیں کرنی چاہئے ۔ اپنی ذمہ داری کو بہت ہی خلوص محنت ، محبت اور ہمدردی سے ادا کرکے برائی کو بھلائی سے ایسے کاٹیں کہ مثال قائم ہو جائیں۔ بقول میری امی کے “بدکردار کا کردار ہی کافی ہے “۔ بدلہ لینے کی ضرورت نہیں۔ دہشت گردی اور غنڈہ گردی کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ خدارا بچوں ، بڑوں ، مریضوں ، لواحقین اور عوام الناس کو مزید دل کے مرض میں مبتلا نہ کریں بلکہ احتجاج کو پس پشت ڈال کر اپنا کام احسن طریقے سے ادا کریں ۔

مانا کہ دل ٹوٹا ہوا ہے، زخمی ہے ، رنجیدہ ہیں مگر یاد رکھیں اس صورت حال میں جو بھی اموات ہوں گی اللہ نہ کریں ان کی ہلاکت کی ذمہ دای آپ پر بھی جائے جو کبھی کسی کو قبول نہ ہوگا ۔ اللہ کے واسطے اپنے بڑوں کا حترام کریں۔ اپنے مریضوں کو اہمیت دیں ۔ اپنے کردار کو حسن ظن پر رکھیں اور انتظامیہ سے گزارش ہے کہ حالات کو قابو کریں اور پولیس سے لے کر ہر فرد اپنا انسانیت کا بہترین حق ادا کرے ۔

زندگی بہت ہی مختصر ہے اس مختصر زندگی میں آپ ایسا رول پلے کریں جو آخرت میں آپ کو اچھا نتیجہ دے۔ گویا یہاں کا ہر عمل اتنا خیر والا ہو کہ قبر سے حشر تک آپ کا بہترین انجام ہو ۔ بلاوجہ بلا ضرورت ہنگامہ کھڑا کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ بچے اور ضعیف جتنا ہنگامے سے ڈرتے ہیں کسی اور چیز سے نہیں ڈرتے ، اس پر آشوب اور فتنوں کے دور میں ہمیں ہر قدم پر آزمائش مطلوب ہے جس پر حسن ظن اور اعلیٰ ظرفی سے قابو پاتا جا سکتا ہے ، یہی ایک حل ہے ۔

 مسائل کا حل وسائل کے تحفظ اور قیمتی اشیاء ، اسپتال،  مکان،  دکان اور  ذرا ئع آمدورفت،  کسی کا بھی نقصان نہ کریں۔ ہمیں تو حکم ہے کہ کسی قسم کا نقصان کبھی نہ کیا جائے ۔ جب صحت مند انسان زخمی ہوجائے تو کتنا حرج ہوتا ہے ۔ مریض کو نقصان پہنچانا اور مہنگی مشینری اور آلات کو نقصان پہنچانے سے کیا فائدہ ہوگا۔ برائی اور دکھ پہنچانے والی حرکات بند کردی جا ئیں اور صحیح معنوں میں مسیحا کا کردار ادا کریں اور مزید اس طرح کے واقعات نہ ہوں اس کے لیے بھی  منصوبہ بندی کریں ۔

ڈاکٹر یا وکلاء کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔ اسپتال کے اندر گیس کے شیل پھینک کر صورتحال خراب کرنا ، آگ لگانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ لیکن اب بھی جس نے کسی نے  نقصان سے بچانے کی کوشش کی تو اللہ اس کو جانتا ہے وہ ضرور آپ کا حا فظ و حامی ہو گا اور آپ کے کام میں ، عمر میں ، روزی روزگار میں برکت ڈالے گا ۔ اسپتال کے باہر لوگوں کا رونا دھونا ناقابل بیان ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس قسم کا واقعہ دوبارہ کہیں پیش نہ  آئے ۔

 ہر برا کام اپنا برا اثر رکھتا ہے اور یہ عبرت کے لیے بھی ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر اور وکلا حضرات کے علاوہ ہر شخص سے عرض ہے کہ اپنا انسانی کردار نبھائیں اور شر اور شر پسندی سے دور رہ کر ہمیشہ فلاح اور اصلاح کے کام کریں ۔ امن کی بات اور امن کو قائم کریں ۔ مسلمان وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی تا حیات بھلائی میں اور خیر خواہی میں لگا رہے ۔ ہم میں سے کسی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے ۔ کسی کی بد دعا اور آہ نہ لو کہ یہ فلک شگاف ہوتی ہے ۔

جواب چھوڑ دیں