جدید تعلیمی اداروں کی تربیت کا نتیجہ

جب سے ہوش سنبھالا اور ملکی و سیاسی معاملات میں دلچسپی بڑھی تب ہی سے “کرپشن” کالفظ سنتے آئے۔ سیاست دان،حکومتِ وقت،میڈیااور عام افراد سب ہی اس لفظ سے مانوس تو ہیں لیکن انتہائ محدود معانی کے ساتھ۔

کرپشن صرف مالی وسائل اور معاشی خردبرد اور بدعنوانی کو ہی سمجھتےہیں حالانکہ یہ ایک کردار ہے جومالی، معاشرتی اور اخلاقی زندگی کے ہر پہلو میں بےقاعدگی کو ظاہر کرتا ہے اور ہمارا معاشرہ ان سب پہلوؤں سے کرپٹ کہلانے کامستحق ہے۔

لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کاتصادم انتہائی اخلاقی اور تربیتی کرپشن کی مثال ثابت ہوا۔ یہ دونوں پیشے ملک کاانتہائ قابل اور تعلیم یافتہ طبقہ مانے جاتے ہیں۔ عام فرد سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے پیشہ ورافراد کے اخلاق کاجنازہ تو نکلاہی ساتھ میں چھ قیمتی جانیں بھی گئیں جو عام افراد تھے ,نہ ڈاکٹر تھے نہ وکیل۔

عمرانی حکومت اس اخلاقی درندگی کوروکنے میں مکمل ناکام رہی۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کردار تو خودکش حملوں میں بھی فقط اتنا تھا کہ وہ کسی مذہبی حلیہ اور داڑھی والے سر کو حملہ آور کاسر ثابت کرنے میں سارا زور لگادیتے تھے۔ تاکہ دینی مزاج رکھنے والوں کی شناخت مسخ ہواور بس، مگر دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت دینے کے نتائج پنجاب انسٹیٹیوٹ کارڈیولوجی کے سانحے میں واضح ہوگئے۔ اب دینی تعلیم حاصل کرنیوالوں کے اخلاق اور نام نہاد جدید تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد کی اخلاقیات کافرق نمایاں ہوگیا۔

اللہ ہم سب کو ہرطرح کی کرپشن اور کردار کی گراوٹ سے بچائے۔ آمین۔

جواب چھوڑ دیں