بین الاقوامی یومِ اطفال

23 فروری1923 میں جینوا کی بین الاقوامی تنظیم برائے تحفظات ِ اطفال نے پانچ اصولوں پر مبنی ایک منشور تیار کیا جس کا مقصد ایسے بچے جو کہ جنگی آفات،قدرتی مسائل،سماجی یا خاندانی استحصال کی بنا پر زندگی میں گونا گو مسائل سے دوچار ہوں،تنظیم کے خیال کے مطابق ایسے بچوں کو بھی اپنی زندگی اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر گزارنے کا پورا حق حاصل ہے،ان پرکسی قسم کا کوئی معاشرتی جبر روا نہیں رکھا جا سکتا۔آزادی ان کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے۔جن پانچ اصولوں پر اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی وہ درج ذیل تھے کہ

1،بچوں کی مادی و روحانی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔

2،بچہ بھوکا ہو تو اسے کھانا،بیمار ہو تو علاج،یتیم اور لا وارث ہو تو اسے شیلٹر مہیا کیا جائے۔

3 ،ہنگامی صورت حال میں بچے کی سب سے پہلے مدد کی جائے۔

4 ،ہر قسم کے استحصال سے بچوں کو محفوظ رکھا جائے۔

5 ،بچوں کو ان کے شعور کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق فراہم کیا جائے۔

مذکور ان تمام حقوق کو اس وقت کی سب سے بڑی تنظیم جو بعد ازاں اقوام متحدہ بنی یعنی لیگ آف نیشنز میں بطور ورلڈ چائلڈ ویلفئیر چارٹر کے جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا۔1950 سے قبل اس دن کو یکم جون کو منایا جاتا تھا تاہم 20نومبر1959 میں اقوام متحدہ سے بچوں کے حقوق کا عالمی منشور پیش کیا تو تقریبا اب دنیا کے تمام ممالک اس دن کو ہر سال 20 نومبر کو ہی مناتے ہیں۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تعلیم وتربیت،اور بہتر نشوونما کے ساتھ ساتھ بچوں کو ہر قسم کے معاشرتی جبر اور استحصال سے بھی محفوظ بنانا ہے۔تاکہ بچہ معاشرےمیں زندگی گزارتے ہوئے کسی قسم کی احساس محرومی کا شکار نہ ہو۔دراصل اس دن کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ بچوں میں موجود احساس محرومی کو احساس ذمہ داری میں تبدیل کرنا بھی ہے تاکہ وہ بچہ جو کسی مجبوری کے باعث معاشرہ میں صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے سے محروم ہوجائے تو اس کے اندر یہ احساس بیدار کرنا ہے کہ آپ بھی اسی معاشرہ میں دیگرلوگوں کی طرح ایک اہم رکن ہو۔خدا نے آپ کو بھی ان تمام صلاحیتوں سے نوازا ہے جو کسی دوسرے بچے کو۔جیسے دیگر بچے اپنے خاندان یا معاشرہ کا سرمایہ افتخار ہیں ایسے ہی یہ بچے بھی قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں،اسی آگاہی کو مدنظررکھتے ہوئے 20 نومبر کو بچوں کے لئے مختلف ممالک میں آگاہی مہم اور تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ سب تو وہ باتیں ہیں جو آپ کتابوں،تنظیموں کے منشور،ڈیکلیریشن اور تقاریب میں مختلف راہنمائوں کی تقاریر میں آئے روز پڑھتے اور سنتے ہیں۔لیکن ضرورت عملی اقدام کی ہے کہ کس طرح ہم ان بچوں کی مدد کر سکتے ہیں جو واقعی کسی نہ کسی وجہ سے معاشرتی،خاندانی یا مادی مسائل کا شکار ہو گیا ہو۔یعنی سوال یہ ہے کہ کیا ہم بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کچھ عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں یا پھر کھایا پیا کچھ نہیں بس گلاس توڑا ،یعنی نشستاً،گفتاً اور برخواستاً۔کیا شہری بچوں کی طرح دیہی بچوں کو بھی ان کے حقوق سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے،کیا گھروں،ہوٹلوں،کاروباری مراکزمیں مالکان ان بچوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو اپنے گھروں میں ذاتی بچوں سے کرتے ہیں، معاشرتی المیہ اور سوالیہ نشان یہ ہے کہ سڑ کوں پر بھیک مانگنے والے،گاڑیاں صاف کرنے والے،کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ کیو ںہو رہا ہے؟بھٹہ مزدور اورورکشاپس پر کام کرنے والے ’’چھوٹو‘‘کا کردار کیا کم ہو رہا ہے؟نجی اور سرکاری سطح پر کون سے ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیںجن سے اس قسم کے بچوں کا مستقبل محفوظ سمجھا جا سکتا ہو،یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب میرے خیال میں ملنا ابھی بھی مشکل ہے۔بیس نومبر کو ہر سال اس دن کو منا تو لیا جاتا ہے لیکن رات گئی بات گئی والی بات ہو جاتی ہے۔ایک سروے کے مطابق چالیس فیصد بچے ایسے ہیں جن کے گھریلو حالات انہیں سکول جانے کی اجازت نہیں دیتے۔اس لئے انہیں چھوٹی عمر میں ہی مختلف کاروباری اداروں میں کام کرنا پڑ جاتا ہے۔یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سو ترپن ملین بچے ایسے ہیں جن کی عمر چار سال سے پندرہ سال ہے اور وہ چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں ابھی بھی لاکھوں کی تعداد میں بچے ہیں جو کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں اور پھر یہی بچے سڑیٹ کرائم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔اگرچہ موجودہ حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو ایک بار پھر سے فعال کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے اور اس کی چیئر پرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ادارے میں موجود ہسپتال،سکول،اور ہاسٹل کی حالت کو پہلے سے بہت بہتر کردیا ہے،ایسے بچے جو شاہراہوں پر بھیک مانگنے پر مجبورہیں انہیں بازیاب بھی کروایا ہے اور ان کے والدین کی کونسلنگ بھی کی جارہی ہے۔سارہ احمد کی تمام باتیں سچ ہو سکتی ہیں لیکن مسائل اس سے کہیں زیادہ ہیں،میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں ہر ذی شعور اور صاحب ثروت کو اس کام میں بڑھ چڑھ کر اپنے طور پر حصہ لینا چاہئے۔اس کے لئے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ بچوں اور والدین کی کونسلنگ کی جائے یا پھر ان مسائل کا سدباب کیا جائے جن وجوہات کی بنا پر بچے ایسے کاموں پر مجبور کئے جاتے ہیں۔خاص کر معاشی مسائل کیونکہ معاشی مسائل ،معاشی استحکام سے ہی حل پذیر ہوتے ہیں۔اگر معاشرہ مل جل کر ایسے بچوں کے والدین کو معاشی طور پر مستحکم کر دے گا تو ہو سکتا ہے کہ مذکور معاشرتی مسائل سے بچت ممکن ہو جائے،ایک بچہ کی حفاظت گویا ایک نسل کی حفاظت ہے،آئیے سب مل کر بچوں کی حفاظت کریں تاکہ آئندہ نسل کو بچایا جا سکے۔

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں