عرق النساٗ (طنزومزاح)

 

عرق النسا  کو میں اس وقت تک حکیم کی دکان سے ملنے والے عرقِ گلاب،عرقِ سونف،عرقِ انجبارکی طرح  ایک عرق ہی خیال کرتا رہا ، جب تک خود اس مرض میں مبتلا نہ ہو گیا ، نتیجہ یہ نکالا کہ عرق النسا کوئی نسائی مرض ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تعلق نسوانیت سے ہے۔بلکہ جوانی میں عرقِ انفعال کی وجہ سے پیدا ہونے والا درد اصل میں عرق النسا ہوتا ہے جسے درد ریح اور بادی کا درد بھی کہا جاتا ہے۔درد ریح میں مبتلا شخص ریح کے نکلنے تک چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔اگر یہ درد بڑھ جائے تو گٹھیا کا درد بن جاتا ہے جو کہ بہت ہی’’ گھٹیا‘‘قسم کا درد ہوتا ہے۔یہ درد اگرحد سے بڑھنے لگے تو مریض کو انٹی بائیوٹک دی جاتی ہے،کبھی’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘والا معاملہ درپیش ہوجائے تو دوا کی بجائے دعا کروانی چاہئے اور اگر پھر بھی افاقہ نہ ہو تو ’’آنٹی بائی او ٹک‘‘سے شادی ہی اس کا واحد حل ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان کی پہلی شادی جوانی میں ،کہ شیوہ پیغمبری ہے، دوسری چالیس کے پیٹے میں ،کہ جب پیٹ نکل آئے اور تیسری شادی بڑھاپے میں ،کہ جب بیماری دل کی دوا لینے کی بجائے ہمارے بوڑھے دل ہارنا شروع کر دیں۔بڑھاپے کی شادی کو ”کم عمری“کی شادی بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کے بعد انسان کی زندگی کم ہی رہ جاتی ہے۔اس عمر کے بارے میں ہی اکھان ہے کہ”ہنگ لگے نہ پھٹکڑی تے رنگ وی چوکھا“

رنگ(color) دیکھ کر اگر کوئی بوڑھا دنگ رہ جائے تو سمجھ لیں دل ہار بیٹھا ہے اور اگر کلر دیکھ کر ’’جوان‘‘کا رنگ اڑ جائے تو سمجھ جاؤ کہ پاکٹ  ہار بیٹھا،ایک طالب علم کمر دردکے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس گیا  ،  ڈاکٹر نے طالب علم خیال کرتے ہوئے ، نفسیاتی طور پر ریلیکس کرنے کے لیے پوچھ لیا، کیوں بیٹا’’میر درد‘‘کو جانتے ہو،طالب علم نے اسے بھی ایک’’درد‘‘کی قسم سمجھتے ہوئے فوراً  جواب دیا،  جی ڈاکٹر صاحب کمر درد سے قبل میں ’’میردرد‘‘کا ہی شکار تھا۔ڈاکٹر نے دوائی لکھ کر دیتے ہوئے کہا کہ لو بچے  یہ دوائی کمر درد ہو یا میر درد دونوں صورتوں میں افاقہ اور تسکین کا باعث بنے گی۔ایک ہفتہ دوائی کھانے کے بعد افاقہ تو ہو گیا مگر ’’تسکین‘‘کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔اسی طرح ایک فربہ جسم کی حامل خاتون نے جب ڈاکٹر سے کمر درد کے علاج کے لیے دوا ئی چاہی تو داکٹر نے ’’ڈبل ڈوز‘‘double dose لکھتے ہوئے کہا، یہ اس لیے کہ آپ کمر نہیں بلکہ کمرہ اپنے ساتھ اٹھائے پھرتی ہیں،موقع ملے تو کچھ سامان کسی مناسب جگہ اتار پھینکیں ،کمر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔

ماؤ نے کہا تھا کہ مسائل کا حل بوڑھوں کے پاس نہیں جوانوں کے پاس ہوتے ہیں ، جب کہ آج کے جوان کئی قسم کے درد، ایام جوانی میں ہی پال رکھتے ہیں۔خاص کر جوان طلبا، کیوں کہ تحقیق بتاتی ہے کہ طلبا میں’’ مخفی‘‘ درد سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔جیسے کہ سر درد، پیٹ درد، یہ ایسے درد ہیں جنہیں آج تک کوئی ڈاکٹر اس لیے نہیں سمجھ پایا  کہ ان کے جاننے کے لیے کوئی ٹیسٹ نہیں کروانا پڑتا ، بس مریض کی بات پر ایمان لانا پڑتا ہے۔دونوں کا دورانیہ صبح چھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوتا ہے،سکول سے چھٹی کے ساتھ ہی درد کی بھی چھٹی ہوجاتی ہے۔کبھی کبھار تو چھٹی بعد میں ہوتی ہے درد پہلے کم ہو جاتا ہے۔طلبا میں سر درد اور پیٹ درد واحد درد ہیں جو وقت کے اتنے پابند ہیں کہ بغیر دوا کے بھی مقررہ وقت پر چلے جاتے ہیں۔

یہ درد اگر خاوند کو ہو تو سر درد ، اور اگر خدانخواستہ بیوی کو ہو تو دردِ سربن جاتا ہے۔ادھیڑ عمربیوی نے اپنے خاوند سے پیار بھرے لہجے میں پوچھا ،  جانو،اگر میرے سر، کمر، پیٹ اور ٹانگوں میں درد ہو تو تم  کیا کرو گے،شوہر ٹانگیں دباتے ہوئے  ، میں دعا کروں گا کہ کاش یہ درد گلے میں بھی ہو۔ایک شاعر اپنے چھٹے بچے کی پیدائش پر اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس لے جا کربولا ، ڈاکٹر صاحب جب بھی میری بیوی کو اس قسم کا درد ہوتا ہے تو ایک بچہ پیدا ہو جاتا ہے،  مجھے بتائیں میں کیا ایسا کروں کہ آئندہ اس درد سے محفوظ رہا جا سکے،ڈاکٹر صاحب بولے اپنی بیوی کی بجائے اپنی شاعری پر توجہ دیا کرو۔یہی آپ کی فیملی پلاننگ بھی ہے۔ماشااللہ سے وہ شاعر اب چھ بچوں اور چھ دیوان کا باپ ہے۔بھلا ہو اس ڈاکٹر کا جس نے بروقت مشورہ دے دیا  وگرنہ آج  وہ درجن بھر بچوں کا اکیلا باپ ہوتا۔شاہ جہاں کی بیوی ممتاز بھی درد سے کراہتے کراہتے اللہ کو پیاری ہو گئی تھی ، جس کا افسوس شاہ جہاں کو عمر بھر رہا ،،،بیوی کے مرنے کا نہیں تیرھویں بچے کے پیدا نہ ہونے کا۔

درد گردہ اور عرق النسا اتنی شدت سے ہوتے ہیں کہ اپنے ہونے کا احساس تادیر چھوڑ جاتے ہیں۔مصرع،دردِدل کے واسطے  پیدا کیا انسان کو،،،، ایسا ہونا چاہئے کہ درد کے بعد پیدا کیا انسان کو۔کہا جا سکتا ہے کہ سارے درد تکلیف دہ نہیں ہوتے،کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جس میں قدرت نے تخلیق کے عمل کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے، خاص کر اشرف المخلوقات کی تخلیق میں۔ہر وہ جوڑا  جو  اپنے آپ کو خوش قسمت اور خدا کا احسان مند سمجھتا ہے جنہیں اس درد سے نوازا ہے۔اس درد میں انسان دوا نہیں دعا طلب کرتا ہے کہ بابا جی دعا کرنا اس بار بیٹا ہی پیدا ہو۔

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں