تمھیں شاہین بننا ہے

علامہ اقبال نے ایک خواب دیکھا اور اس خواب کو شاعری میں ڈھال کر سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا ۔ان کو بتایا کہ پہلے تمھارے آباؤ اجداد کیسے تھے ۔ایک اللہ کی اطاعت کرنے والے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنے والے تھے ۔

تھے وہ آباء تمھارے مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

مگر تمھاری سستی وکاہلی نے تمہیں دنیا میں رسوا کر دیا ہے ۔پھر شکوہ کناں ہوتے ہو کہ

رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

ان کی شاعری نے برصغیر بالخصوص نوجوانوں میں وہ انقلاب برپا کیا . لاکھ نامصائب حالات آئے ، جان ومال کی قربانیاں دیں مگر ایک ارضِ وطن حاصل کیا اور علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ، حقیقتاً اقبال کے شاھین بن گئے جن میں چٹانوں جیسی مضبوطی تھی ۔

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

توشاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ان شاہینوں کی نسلوں کو اسلامی اقدار سے ہٹایا جا رہا ہے ۔انہیں  ناچ گانوں کی ترغيب دی جا رہی ہے ۔دین سے دور کر کے غیر اسلامی رنگ میں رنگا جا رہا ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر دور جاہلیت زندہ ہو جائے ۔اور ہمارے پاس سوائے افسوس کے اور ملنے کے سوا کچھ نا ہو۔

ایسے ٹیلیویژن پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے جو ہمارے معاشرے کو تعفن ذدہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے پروگرام دکھائے جائیں جں سے بچوں اور نوجوانوں کا جزبہ خودی بیدار ہو ۔اور دنيا میں پاکستان کا پرچم بلند کر سکیں ۔ اور با ہمت اور باحوصلہ قوم کےنام  سے پہچانے جائیں.

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

جواب چھوڑ دیں