عیبوں کی تلاش

وکرم کا تعلق ہندوستان کے مشہور و معروف خاندان ‘سارا بھائی” سے تھا ان کے والد امبالال سارا بھائی احمد آباد ہندوستان کے مالدار ترین صنعت کاروں میں سے تھے۔ امبالال نے جنگ آزادی میں بھی انگریزوں کے خلاف اپنے مال و دولت کے ذریعے خاصی مدد کی تھی۔ بہرحال وکرم کا شوق شروع سے ہی تعلیم کی طرف تھا۔ اس لیے اس نے کبھی بھی باپ کے کاروبار کو سنبھالنے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ وکرم 12اگست 1919 کو احمد آباد میں پیدا ہوئے، پہلے گجرات کالج پھر سینٹ جانز کالج سے پڑھنے کے بعد انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے اعلی تعلیم مکمل کی اور واپس ہندوستان آگئے۔
تقسیم کے فورا بعد 1947 میں انھوں نے “فزیکل ریسرچ لیبارٹری” کا قائم کی۔ لیبارٹری میں پہلی دفعہ” کاسمک ریزز”(Cosmic rays) پر تحقیق کی گئی۔ بالآخر انھوں نےاس لیبارٹری کو “ایم – جی سائنس انسٹیٹیوٹ” کے نام سے باقاعدہ ایک ادارے کی شکل دیدی، انہوں نے نے مزید دو بڑے تحقیقاتی اداروں کی بنیاد بھی رکھی جن میں “نہرو فاؤنڈیشن فار ڈیویلپمنٹ احمدآباد” اور “انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ احمدآباد” شامل ہیں۔
فزکس کے ساتھ ساتھ وکرم کا شوق بڑھتے بڑھتے اسے خلا کی دلچسپیوں تک لے گیا۔ اور انھوں نے نے ہندوستان کی ایک سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی کوششیں شروع کردیں، اور بالآخر روس کی مدد سے 1975 میں “آریا بھٹ” نام کی پہلی سیٹلائٹ خلا میں اتار دی۔اس سے بھی زیادہ اور قابل ذکر کام یہ تھا کہ انھوں نے “انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن ”(ISRO) کے نام سے خلا، خلائی مشن اور سیاروں سے متعلق ایک تحقیقاتی ادارے کی بنیاد رکھی۔
وکرم امبالال سارا بھائی کے تخلیق کردہ ادارے نے بڑی محنت اور تگ و دو کے بعد چندریان – 2 کو جسے وکرم کی خدمات پر “وکرم” کا ہی نام دیا گیا تھا. چاند کے قطب جنوبی میں بھیجنے کی تیاریاں مکمل کیں اور 22 جولائی 2019 کی دوپہر 2:43 منٹ اور 12 سیکنڈ پر چندریان – 2 کو “ساتش دھون اسپیس سینٹر” کے دوسرے لانچنگ پیڈ سے خلا میں بھیج دیا گیا۔
یہ لانچنگ پیڈ جھاڑ کھنڈ میں واقع ہے۔ مارچ 1999 سے لے کر 2005 تک اس لانچنگ سائٹ کی تعمیر پر ہندوستانی حکومت نے 400 کروڑ روپیہ خرچ کیا۔20 اگست 2019 کی صبح 9:02 منٹ پر راکٹ خلا میں داخل ہوگیا، اسے 7 ستمبر کی رات 1:53 منٹ پر چاند پر لینڈ کرنا تھا لیکن 6ستمبر کو رات 8 بجکر 23 منٹ پر چندریان-2 کا رابطہ اپنے مرکز سے منقطع ہو گیا، اور اس طرح ہندوستان چاند پر پہنچنے والا چوتھا ملک بنتے بنتے رہ گیا، لیکن اس لحاظ سے ضرور چوتھا بن گیا ہے کہ اس نے چاند پر پہنچنے کی کوشش ضرور کی۔
اس پروجیکٹ پر ہندوستانی سرکار کے 140 ملین روپے لگے ہوئے تھے۔ جب کہ چندریان – 2 کے لمحے لمحے کی خبر وزیراعظم نریندرمودی کو دی جارہی تھی۔ آخری لمحات میں نریندرمودی بنفس نفیس (ISRO) کے دفتر میں بیٹھا ان تمام مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ دراصل وہ “ڈیجیٹل انڈیا” کے نعرے کے خواب کو پورا ہوتادیکھنا چاہتا تھا۔
لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ناکامی اور کامیابی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ صرف اسباق ہوتے ہیں اور ہندوستان نے ایک اچھا سبق حاصل کرلیا ہے۔ ہمارے خوش ہونے کی بات یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کا چندریان – 2 کا مشن ناکام ہوگیا۔ بلکہ فکر کی بات یہ کہ بھارت سرکار نے اس ناکامی کے لیے بھی اپنے 140ملین لگا دیے اور راکٹ لانچ کردیا۔
آج نہیں تو کل اس مشن کو کامیاب ہو ہی جانا ہے ٹھیک اسی طرح جسطرح نریندر مودی کامیاب ہوگیا۔ اللہ تعالی کی اور اس کارخانہ قدرت میں کسی کی بھی کسی سے دوستی اور ذاتی دشمنی نہیں ہے ہے جو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر قدرت کے اصولوں اور ضابطوں کو پورا کرتا ہے، جو اپنی ساری توانائیاں لگا کر صبح شام محنت کرتا ہے اسے آج نہیں تو کل اس کا پھل مل ہی جاتا ہے۔
کسی بھی فرد معاشرے اور عوام کے زوال کی آخری حد یہ ہوتی ہے کہ وہ حسد میں مبتلا ہوجائے۔ اسے دوسرے کی کامیابی میں اپنی ناکامی نظر آئے اور اپنی کامیابی کیلئے محنت، مشقت، صلاحیتیں اور سرمایہ لگانے کے بجائے دوسروں کی ناکامی کا تماشا دیکھے۔
یاد رکھیں تماشائیوں کا کام صرف “دیکھنا” ہی ہوتا ہے، ہار – جیت ان کا کام ہوتا ہے جو میدان میں ہوتے ہیں اور ہم بحیثیت قوم صرف تماشائی ہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک، حکومت سے لے کر عوام تک سب کے سب تماشائی ہیں۔ ہم سب محمد بن قاسم کے منتظر ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذلت پر خاموش۔
ہندوستان کے ٹوائلٹس پر مذاق اڑانے والی قوم کو پورے کراچی کے “ٹوائلٹ” بن جانے پر شرم آنے کے بجائے ابھی بھی ہندوستان کے چندریان – 2 کی ناکامی پر خوشی ہے۔ابلتے گٹروں ، گرمی میں بغیر بجلی کے بے حال ہونے والوں اور کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ رسواکُن زندگی کاٹنے والوں کو معلوم ہونا چاہئیے کہ نریندر مودی نے پچھلے پانچ سالوں میں 20 ارب روپے سے بہترین “پبلک ٹوائلٹس” پورے ہندوستان میں تعمیر کروائے ہیں اور یہ خود اقوام متحدہ کے لیے بھی ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پڑوس اور پڑوسن کے کاموں پر نظر رکھنے، محلے کے گھروں میں تانک جھانک کرنے اور دوسروں کے گھریلو معاملات پر مزے لینے والوں کو اپنے گھر کی فکر کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جس سرکار کے پاس اپنے ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے اور ملک کے سب سے بڑے شہر کی صفائی تک کا بجٹ نہیں ہے، جو حکومت اعلیٰ ثانوی تعلیم کے بجٹ میں ہی کٹوتی کردے اس کے اندر بھلا چاند جیسی “بیکار” چیز پر 140 ارب روپے خرچ کرنے کا جگرا کہاں سے آئے گا؟ یاد رکھیں عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی، دنیا بھی اور آخرت بھی معاشرے اور قومیں بھی افراد بھی اور اقوام بھی۔ دوسروں پر ہنسی اڑانے سے کہیں زیادہ اہم اپنے عیبوں کی تلاش کی فکرمندی ہے۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں