”شکریہ جماعت اسلامی “

”بھائی! فون تو اٹھا لیا کر،میں نے قرضہ تونہیں لیناتھا،کل سے ستر فون کر چکا ہوں مجال ہے جو ایک بار بھی کال اٹھا ئی ہو،چلو بندہ مصروف ہوتا ہے لیکن فرصت میں تو کال کر سکتا ہے ،یعنی اب ہم ایسے گئے گزرے ہوگئے ۔۔۔“سیلانی فون پر جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیا،گذشتہ بارہ گھنٹوں میں جمیل کو گیارہ بار فون کر چکا تھا،بارہویں فون پر اس نے کال وصول کی تو سیلانی کاکھری کھری سناناتو بنتا تھا۔

جمیل احمد صغیر سے اسکا پرانا ساتھ اور بے تکلفی ہے ،کراچی یونیورسٹی کی بسوں پر دونوں نے لٹک لٹک کرخوب سفر کر رکھے ہیں ۔کیمسٹری کی کھٹی چنا چاٹ اور رول پراٹھے کھارکھے ہیں،ایک دوسرے سے چھین کر عبداللہ کی بریانی پلیٹ  پربھاگتے رہے ہیں، جمیل پڑھنے لکھنے والا بچہ اورتقریبا آدھا جماعتی تھا،فکری اور نظریاتی طور پر وہ جماعتی ہی تھا،مولانا موددودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابیں اس کے بیگ میں رکھی ہوتی تھیں لیکن وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوتاتھا ،یاروں نے بڑی کوششیں کیں، ربط میں رکھا،گھر کے چکر لگائے، بڑے بڑے لیکچر دیئے لیکن جمیل نے جمعیت میں نہ آنا تھا نہ آیا۔

یونیورسٹی کے بعد غم روزگار نے سارے ہی دوست محبتیں اوررفاقتیں یاد بنا دیں، وہ احباب جن سے روز آرٹس لابی میں مصافحے معانقے ہوا کرتے تھے انہیں بھی گردش دوراں جانے کہاں لے اڑی جو نہیں اڑے جمے رہے ان سے بھی ملاقاتوں میں وقفہ بڑھتا چلا گیا۔جمیل سے بھی کبھی کبھار ہی ملاقات ہوپاتی کبھی اس کا فون آجاتا یا کبھی سیلانی اسے فون کر لیتا ،کل ایک کام کے سلسلے میں سیلانی کو جمیل کی ضرورت پڑ گئی سیلانی نے فون کیا لیکن اس نے اٹھایاہی نہیں پھر فون کیا جواب ندارد،تیسراچوتھا اور وقفے وقفے سے کتنے ہی فون کئے لیکن جمیل سے رابطہ نہ ہواپہلے اسکے نمبر پر گھنٹی بج رہی تھی پھر اس نے فون بھی بند کر دیا،سیلانی کا غصہ پریشانی میں بدل گیا طرح طرح کے وسوسے اسے ڈسنے لگے اس نے چاہا کہ کسی اوردوست سے جمیل کی خیر خبر لی جائے لیکن دونوں کا کوئی مشترکہ دوست بھی ایسا یاد نہ آیا اب جو صبح جمیل کے نمبر سے اپنے فون پر مس کال دیکھی تواس نے نمبر ملایا اور جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیاسناتے سناتے سیلانی ذرا دم لینے کو رکاتو دوسری طرف سے آواز آئی

”بس یا کچھ اوررہتا ہے ۔۔۔“

”ابے ! چپ میں سامنے ہوتا ناں تو طبیعت صاف کر دیتا “

”واپس آجا کراچی میں صفائی کرنے والوں کی بڑی ضرورت ہے یہاں سیاست ہی صفائی پر ہورہی ہے“جمیل ہنس پڑا

”یار ! میں تجھے کل سے فون پر فون کئے جارہا ہوں مگر تو نے جواب دینے کے بجائے فون ہی بند کر دیا“

”بدگمان نہیں ہوتے دوست فون بند نہیں کیا تھا ہو گیا تھا اور کال میں اس لئے نہیں لے سکا کہ لاکھوں لوگوں کے شور میں گھنٹی کیا گھڑیال کی بھی کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی“

”لاکھوں لوگ۔۔۔کیامطلب ؟“

”میں کل کشمیر کی ریلی میں تھا“

 تو بھی کل جماعت اسلامی کی ریلی میں تھا؟“سیلانی کے لہجے میں استعجاب تھا

”کیوں کیا میں نہیں جاسکتا “

”حیرت ہے تو اور جماعت اسلامی کی ریلی میں !!“

”میں ہی نہیں تیری بھابھی اور بچے بھی تھے ،یار! کشمیر صرف جماعت اسلامی کا تو مسئلہ نہیں ہے یہ ہمارا بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے ،ہم سے جوبن پڑے وہ تو کرنا چاہئے ناں ،میں کشمیر کے لئے نکلا تھااور ایسے نکلا کہ پھر مجھے نکالنا پڑا“

”کیا مطلب؟“

”ارے یار !لاکھوں لوگ تھے لاکھوں۔۔۔میں نے جماعت اسلامی کا اتنا بھرپور پروگرام یا تو قاضی حسین احمد کے دور میں دیکھا تھایاپھر کل دیکھا“جمیل کے لہجے میں دبا دباجوش تھا وہ کہنے لگا”لاکھوں لوگ ،خواتین بچے بچیاں بوڑھے اور حتیٰ کہ معذور افراد بھی تھے کئی بزرگوں کو وہیل چیئر پر دیکھا ،ایک لڑکی کے پاؤں گھسٹ رہے تھے اور وہ بغلوں میں بیساکھیاں دیئے چل رہی تھی ،چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہاتھ میں بینر پلے کارڈ لئے ہوئے تھے ،بڑے،جذباتی مناظر تھے“جمیل جوشیلے انداز میں ریلی کی روداد سنا رہا تھااس وقت وہ اسے جامعہ کراچی کاوہی کلین شیو جمیل لگا جو جماعتیوں کے سامنے تو ان کی کلاس لیا کرتا تھا اور ان کی غیرموجودگی میں جمعیت کا وکیل بن کر خم ٹھونک کر میدان میں آجاتا۔

سیلانی اسکی بات کی تائید کرتے ہوئے بولا” واقعی زبردست ریلی تھی لگ رہا تھا پورا کراچی باہر نکل آیا ہے“

”ارے بھائی! تاحد نگاہ لوگوں کے سر ہی سر تھے،میں کہہ رہاہوں ناں کراچی کا بڑا پروگرام تھااور پھر بارش کے باوجود لوگ جمے رہے ،تجھے تو پتہ ہے ناں کراچی میں بارش کا کیا مطلب ہوتا ہے ،بارش ہو رہی تھی اورسڑک پرپنڈلیوں تک پانی جمع ہو گیا تھامگر سب کھڑے رہے،اللہ کرے یہ ثابت قدمی آگے بھی ہر میدان میں رہے“

”آمین ،ویسے مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ میں کس جمیل سے بات کر رہا ہوں تو تو ریلی جلسے جلوسوں سے دور بھاگتا تھا“

”بھائی ! اپنے پاس سیاست کے لئے ٹائم نہیں ہے اور میرا تو مزاج بھی نہیں ہے لیکن میں بھی انسان ہوں بے حس بے ضمیر تو نہیں ہوں ،وہاں مقبوضہ کشمیر میں مہینہ ہونے کو ہے ،کمبخت کرفیو ہٹانے کا نام ہی لے رہے ،کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ،بچوں کو دودھ نہیں مل رہا ،وہ پیلیٹ گنز سے کشمیریوں کی آنکھیں پھاڑ رہے ہیں ،آج بی بی سی کی رپورٹ پڑھی یار! میراتو خون کھول گیا پانچ برس کی بچی کی آنکھ انڈین سیکیورٹی فورس کے بدمعاشوں نے پھاڑ دی اور ان کا ڈی جی کہتاہے کہ اسکے نصیب میں یہی لکھا تھا کہتے ہو تو ہم اسکا علاج کرا دیتے ہیں۔۔۔ کوئی اولاد والا ذرا دل پر ہاتھ رکھ کرذرا اس گھڑی کوسوچے تو سہی “جمیل نے بتایا کہ وہ جمعے کے دن بھی وزیر اعظم کی اپیل پر آدھے گھنٹے کے لئے کشمیر کا جھنڈا لے کر دفتر سے نیچے کھڑا ہو گیا تھا” بھائی !یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے ہم سب کا مسئلہ ہے سب نے ہی اس میں زور لگانا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ہمارے سیاستدان اس مسئلے پر بھی سیاست سیاست کھیل رہے ہیں یار یہ شہباز شریف ،زرداری ،مولانا فضل الرحمان اور عمران خان یہ سب اے پی سی کیوں نہیں بلاتے میں نہیں کہتا کہ یہ اپنے اختلافات ختم کریں سنبھال کر رکھیں جیب میں ساتھ لے کر آئیں لیکن کشمیر پر ایک ساتھ بیٹھ توجائیں،میرا خیال ہے سراج الحق صاحب کو یہ کام کرنا چاہئے وہ یہ کر بھی سکتے ہیں“۔

جمیل سے باتوں باتوں میں سیلانی وہ بات ہی بھول گیا جس کے لئے وہ اسے فون کر رہا تھا،جمیل نے بتایا کہ واپسی پربارش کے پانی میں گاڑی بند ہوگئی وہ نیچے اتراتو کھلا ہوا گٹر اسکے لئے منہ کھولے ہوئے تھاغڑاپ کے ساتھ اسکی ایک ٹانگ گٹر میں گئی وہ گرا تو سہی لیکن شکر ہے گٹر میں گرنے سے بچ گیا ،فون بٹوہ سب گیلے ہوگئے ،اب سیلانی کو اسکے فون کے بند ہونے کی وجہ سمجھ میں آئی وہ جمیل سے معذرت کرنے لگا۔

کشمیر جماعت اسلامی کی پالیسی میں اہم ترین اشو ہے کشمیر میں شہداءکے قبرستانوں میں کتنے ہی لاشے ان پاک باز نوجوانوں کے ہیں جنہوں نے مظلوموں کی مددکے لئے اپنی جوانیاں وار دیں اور مٹی اوڑھ کر افق کا تارہ بن گئے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں بھرپور ریلی نکال کر تحریک آزادی ءکشمیر کی موجودہ فیز میں نئی روح پھونک دی ہے مسلم لیگ نون،جمعیت علمائےاسلام ،ایم کیو ایم،پاکستان عوامی تحریک ،عوامی نیشنل پارٹی سمیت سب سندھی بلوچ پشتون قوم پرست سیاست کرنے والوں کو بھی کچھ او ر نہیں تو انسانیت کے ناطے کشمیر کے لئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوناہوگا آج جو خاموش رہے گا وہ مجرم ہوگا اور کل وقت کی عدالت میں سزا بھی سنے گا۔۔۔سیلانی نے جمیل کواپنا خیال رکھنے کو کہااور خدا حافظ کہہ کر ہاکر کی آواز پر آنگن میں پڑے اخبار پرپہلے کشمیر کے لئے نکلنے والے کراچی کے لاکھوں لوگوں کی ریلی کی تصویر دیکھتا رہا دیکھتارہا اور دیکھتا چلا گیا۔۔۔

حصہ
mm
احسان کوہاٹی المعروف سیلانی معروف قلم کار ہیں۔لکھنےکے لیے بلاشبہ قلم و قرطاس ہی کا سہارا لیتے ہوں گے مگر ان کی تحریر پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاہی نہیں بلکہ اپنے خونِ جگر میں ڈبو کر فگار انگلیوں سے لکھ رہے ہیں۔۔سچے جذبوں اور احساس کی فراوانی صرف سیلانی ہی کے قلم میں ملے گی۔گزشتہ دو دھائی سے روزنامہ امت کراچی میں سیلانی دیکھتا چلا گیا کہ عنوان سے لکھ رہے ہیں ۔آج کل ایک نجی ٹی ؤی چینلز میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں