پلانٹ فار پاکستان

بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہونے کی بنا پر قطر کی معاشی ترقی،بین الاقوامی سیاسی حیثیت،تعلقات،انفرااسٹکچر کے عروج کا میں چشم دید گواہ ہوں،اپنے چشم مشاہدہ کو جب میں تحریر کرونگا اور آپ کی پارکھی نظریں جب تحریر کو پڑھیں گی تو آپ بھی میری طرح ششدر رہ جائیں گے کہ جب قطر کے معروف علاقہ سوق واقف کو از سر نو تعمیر کیا گیاتو اس انہدام میں جو سب سے محفوظ چیز میری نظر میں رہی وہ سدرہ کے کچھ درخت تھے جو آج بھی اسی شان و شوکت سے ایستادہ ہیں جو سوق واقف کو مسمار کرنے سے قبل تھے۔قطر میں درخت کاٹنے کی سزا کرپشن کی سزا سے کسی طور بھی کم خیال نہیں کی جاتی بلکہ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ درخت کاٹنے کو قطر میں گناہ سمجھا جاتا ہے۔درختوں کی اس قدر حفاظت اور خیال ہی کہ وجہ سے میرے دیکھتے دیکھتے قطر کا درجہ حرارت اعتدال کی طرف تیزی سے جا رہا ہے جس ملک میں ماہ فروری میں ہی جون کی گرمی کا سا ماحول ہوا کرتا تھا گذشتہ چند سالوں سے ماحول میں اس قدر بہتری آئی کہ اب جولائی کی مہینہ تک موسم قابل برداشت ہوتا ہے۔ماہرین جنگلات کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے کل رقبہ کا 25 فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہوتا ہے اس سے ماحول خوشگوار،جنگلی حیات کو تحفظ،معاشی ترقی اورادویات سے ٹمبر تک کم وبیش ایک سو ایک فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
پاکستان کی بد قسمتی کہئے یا پھر کرپٹ مافیہ کی اجارہ داری یا حکومتی غفلت کہ ملک کا صرف پانچ فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو کسی لحاظ سے بھی تسلی بخش نہیں ہے۔اس سلسلہ میں ماہر بشریات کا کہنا ہے کہ درخت انسانی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کچھ زیادہ نہیں اگر ہم تین دہائیاں قبل اپنے اپنے گھروں کا جائزہ لیں یا اپنے بزرگوں سے سوال کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر گھر کے آنگن میں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ایک درخت ضرور ہوا کرتا تھا،ایسے ہی گاؤں کے وسط میں ایک بوڑھا عمر رسیدہ برگد کا درخت بھی اپنی بزرگی کا سایہ ہر چھوٹے بڑے پرسایہ فگن ہواکرتا تھا۔یہ ایک درخت ہی نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ ایک پنچائت گھر،مسافر خانہ،داستان گوئی گو چبوترہ اور دن بھر کھیتوں میں کام کرنے والے تھکے ہارے کسانوں کے لئے استراحت کا سامان بھی مہیا کرتا تھا گویا برگد کا ایک درخت پوری یونیورسٹی ہوتی تھی جہاں پر ہر شخص ذہنی سکون حاصل کرتا۔د رخت زمین کا زیور ہوتے ہیں زیور کے بغیرزمین کبھی بھی خوبصورت نہیں لگ سکتی،درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں گویا انسانوں کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔اسی وژن کو دیکھتے ہوئے حالیہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے پانچ سالوں میں دس ملین درخت لگائے جائیں گے جس سے ملک کا ماحول خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔اس پراجیکٹ کا نام حکومت پاکستان نے پلانٹ فار پاکستان رکھا ہے جو بلاشبہ ایک احسن قدم ہے کہ جو درخت بھی لگایا جائے اسے پاکستان کے لئے لگایا جائے گویا ایک درخت کی حفاظت،بقا اور سلامتی پاکستان کی بقا اور سلامتی تصور کی جائے اگر عوامی سطح پر یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ہم نے درخت بھی لگانا ہے وہ اپنے ملک کی بہتری کے لئے لگانا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر نہ کی جائے۔چونکہ میں نے پاکستان میں عرصہ دس سال فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ میں بھی خدمات سرانجام دی ہیں تو میرا تجربہ یہ ہے کہ درخت لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ان کی حفاظت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے ان کی آبیاری اور حفاظت ہی دراصل پاکستان کی آبیاری ہے۔میرے نزدیک یہ سب تب ممکن ہو سکتا ہے جب شیر شاہ سوری کے قانون اور حکمت عملی پر عمل پیرا ہوا جائے گا۔کہ شیر شاہ کے دور حکومت میں درخت کاٹنے کی سزا،موت کی سزا ہوا کرتی تھی۔ان کے دور کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک قتل کی انکوائری کے لئے شیر شاہ بھیس بدل کر درخت کاٹنے لگ جاتا ہے اس علاقہ کا داروغہ شیر شاہ کو درخت کاٹنے کے جرم میں کوتوال لے جاتا ہے جس پر شیر شاہ اس داروغہ کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اگر تم درخت کاٹتے ہوئے ایک لکڑہارے کو چند گھنٹوں مین پکڑ نے آسکتے ہو تو ایک قاتل کا گریبان تم سے کیوں اتنا دور ہے۔لہذا عمران خان کو بھی چاہئے کہ پلانٹ فار پاکستان کے ساتھ ساتھ قوانین جنگلات پر بھی شیر شاہ سوری جیسی توجہ دیں کہ جس سے کسی سرکاری ملازم یا ٹمبر مافیہ کی جراٗت نہ ہو کہ درخت کاٹ کو بچوں کے سر سے سایہ چھین کر اپنے گھر کی چھت مضبوط کر سکے۔اسے درخت کاٹتے ہوئے اس بات کا ڈر ضرور ہو کہ اگر پکڑا گیا تو جیسے اس نے ایک درخت کی جان لی ہے حکومت بھی اس کی جان لے سکتی ہے پھر دس ملین کیا سو ملین بھی اس دھرتی کا زیور بن سکتے ہیں۔ہم سب کو مل کر دس ملین درخت لگانے میں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ اسی میں ہی ہماری،ہماری نسلوں اور پاکستان کی بقا اور سلامتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں