**  میڈیا آخر کیا چاہتا ہے؟**

ڈراموں میں پہلے دوپٹہ سر سے اترا، کندھے پر آیا ۔ پھر ایک طرف کو لٹک گیا۔ پھر سرے سے غائب ہی ہو گیا۔ پہلے ڈراموں میں، مرد اور خواتین ایک مناسب فاصلہ رکھ کر مکالمے ادا کرتے تھے۔ اب تو ہاتھ پکڑنا، لپٹنا، بالوں کو ہاتھ لگانا کوئی قابل اعتراض بات نہ رہی۔ اب میاں بیوی،  چاہے کسی بھی عمر کے ہوں، ان کو بیڈ پر لیٹ کر بات کرتے ہوئے ایک آدھ سین ضرور دکھایا جاتا ہے۔

           اب آجکل  تقریبا” ہر ڈرامے میں کسی کی بیوی کسی اور کے ساتھ یا اپنے پہلے عشق میں مبتلا ہے یا اس کا شوہر کہیں اور ملوث ہے۔  یہی کچھ دکھایا جا رہا ہے، اور اگر کوئی اس سے بچا ہوا ہے تو اس پر یہی الزام سازش کے ذریعے ثابت کروا کر گھر تڑوانا یعنی طلاق ہونا دکھایا جا رہا ہے۔ رشتہ ازدواج کو کس طرح پامال کرنا ہے یہ سکھایا جا رہا ہے۔ اور ہمارا خاندانی نظام برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی سے باہر ریستوران میں ملنا ، اب معیوب نہیں رہا، اپنے پسند کے لڑکے کے ساتھ بھاگ جانا، جرات کی بات ٹھہری۔ یہی سب ڈراموں کے ذریعے گھول کر پلایا جا رہا ہے۔ کہیں اگر کوئی پردہ کرنا چاہے اور حجاب کے تقاضے نباہنا چاہے تو اس پر دنیا تنگ کر دی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی اچھی اور شریف  بہو ہے تو اس کو دبا کر رکھ دیا۔ یہ سب دیکھ کر ہماری نئی نسل ، جن کے ذہن ابھی معصوم اور کچے ہیں،  کیا سبق لینگے؟

             خدارا ،میڈیا  جو دکھانا چاہتا ہے، وہ دیکھ کر سرسری طور پر نا گزر جائیںاور دیکھنے کے بعد دونو کندھے اچکا کر “سانو کی” کہہ کر نظر انداز نا کریں ۔ اگر آج ہم نے توجہ نا دی تو ہمارا مضبوط خاندانی نظام بکھر جائے گا ۔ خوبصورت رشتے ٹوٹ جائینگے۔ اور مغربی تہذیب کے شیطان اور لبرل طبقہ کو کھل کھیلنے کا موقع ملیگا ۔ اس لئے اس کو روکیئے۔  اپنے گھروں کو اس بے حیائی اور  بےہودہ کلچر کے لپیٹ میں آنے سے بچانا ہوگا۔  ہماری نئ نسل جو ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے، اس کی نشونما اور تربیت کے لئے میڈیا کو بھی اس گندگی سے پاک صاف کرنا ہوگا۔

      خدارا ان چیزوں پر آواز اور قلم دونوں اٹھائیں۔ ان شا اللہ اس کا بھی بہت اثر ہوتا ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سب ایک ساتھ خطوط،  ای میلز، ان ڈراموں کے پیج پر جا کر منفی کمنٹس کریں۔ تب ہی جلد از جلد مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوگا ۔

حصہ

2 تبصرے

Leave a Reply to Atyia Amin جواب منسوخ کریں