موثر گفتگو کی عادت اور قرینہ اظہار کی تدریس

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کافرمان عالی شان ہے ّ ”اچھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بری بات کہنے سے بہتر ہے۔“(شعب الایمان،ج4,ص256،حدیث 4993)۔گفتگوافکار، خیالات،تصورات اور اعتقادات کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک آسان اور کارگر وسیلہ ہے۔ انسان اپنی گفتگو سے کسی کے دل میں اترتا ہے یا پھر دل سے اترجاتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ”پہلے تولو،پھر بولو“۔ گفتگو آدمی کے کردار اخلاق اور شخصیت کی آئینہ دارہوتی ہے۔ ایک خوبرو و خوش لباس شخص سقراط کے پاس آکر خاموش بیٹھ گیا۔سقراط نے اس آدمی سے کہا کہ کچھ بات کرو تاکہ تمہاری شخصیت کا اندازہ لگا یا جا سکے۔ انسان اپنی گفتگوکے پردے میں چھپا رہتا ہے اسے اس کی گفتگو سے پہچانا جاتا ہے۔ گفتگو ایک باقاعدہ فن ہے۔کس سے، کب، کہاں اورکیسے بات کی جائے یہ سلیقہ انسان کی شخصیت میں وقاراور نکھار پیدا کرتاہے۔آج گلوبلائزیشن کے دور میں ہر محکمہ ا ور ادارہ ایسے افرادکی تلاش میں ہے جو بہتر گفتگو کی صلاحیتوں اور مہارتوں سے لیں ہیں۔آئے دن اس تلاش میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔عالمی مارکیٹ کے مطلوبہ تقاضوں کی تکمیل اور معیاری خدمات کی انجام دہی کے متمنی افراد کو بہترین رویوں اور بات چیت کی مہارتوں سے لیس ہونا ضروری ہے۔سماج جب گفتگو کی صلاحیتوں اورقد روپیمائش میں اس قدر مصروف ہے تب اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ فن گفتگو کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اسکولی طلبہ میں ان مہارتوں کے فروغ کے عملی اقدامات کریں۔ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اساتذہ کی جانب سے مستعمل قدیم اور روایتی روزمرہ کے تدریسی افعال ومعمولات طلبہ کو زندگی کی مفیدمہارتیں سیکھانے میں تقریباً ناکام ہوچکے ہیں جن سے گریز بے حد ضروری ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ اساتذہ ایسے تمام عوامل(مفید و مضر) سے آگہی پیدا کریں جو طلبہکی گفتگو کی مہارت و صلاحیتوں کی نشوونما میں معاون یا مانع ہیں۔بچوں کی اسکولی زندگی میں ان تمام امور پر عبور و مہارت پیداکرنا یقینا ایک مشکل امر ہے لیکن چند اہم مہارتوں سے انھیں لیس کرتے ہوئے ان میں خود اعتمادی،حصول علم میں آسانی اور گفتگو کو ایک خوش گوار احساس و تجربے میں تبدیل کیا جانا ممکنہے۔ طلبہ میں موثر گفتگو کی مہارتوں کے فروغ میں معاون وسائل اور درکار سہولتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اساتذہ ایک سازگار ماحول تیارکریں۔گفتگو میں اثر و تاثیر پیدا کرنیکے لئے ا ساتذہ طلبہ میں تحریر ی اور تقریری دونوں صلاحیتوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کریں۔تحریری و تقریری سرگرمیوں پر مبنی ماحول موثر گفتگو کی مہارتوں کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اساتذہ موثرگفتگو میں معاون تدابیر کو اختیار کریں۔ ایسے حالات اور افعال کو ترک کردیں جن سے گفتگو کی صلاحیتوں میں خرابی یانقص پیدا ہوتا ہے۔ طلبہ کی گفتگو کی مہارتوں،آداب اور فن کے علاوہ اس سے منسلک دیگر امور پر تو جہ د یں تاکہ ان کی گفتگو کو خوش گوار،دل پذیر،معتبر اور مہذب بنایا جاسکے۔
روزمرہ کی زندگی میں گفتگو ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ آدمی نہ صرف مختلف مسائل (Issues)کا خوش اسلوبی سے سامنا کرسکتا ہے بلکہ دوسروں کے دلوں کو مسخر بھی کرسکتا ہے۔ گفتگو سے دوسروں کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔گفتگو کا فن اور مہارت مجموعی طورپر آدمی کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے اسی لئے گفتگو کے فن اور مہارتوں سے اسکولی زندگی کے دوران طلبہ کو متصف کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ ایک باوقار مہذب،خوش گوار اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔
گفتگو واظہارکی بنیادی مہارتیں
مقاصد پر مبنی تدریسی سرگرمیاں انجام دینے سے قبل اساتذہ طلبہ میں چند بنیادی صلاحیتوں ومہارتوں کو فروغ دیں۔ذیل میں ایسی چند بنیادی مہارتوں کا ذکر کیا گیا ہے جس کا حصول موثر اور دل پذیر گفتگو کے لئے نہ صرف طلبہ بلکہ ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔
(1)اپنا علم،معلومات،آئیڈیازاور مطلوبہ پیغام کو دلچسپ،متاثر کن اور قابل فہم انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیں۔
(2)مستحکم ا ورپراثرا بلاغ کی برقراری کے لئے سوچ سمجھ کربات چیت کرنے کی صلاحیت بے حد ضروری ہے اس کے فروغ کو ممکن بنائیں۔
(3)اپنی گفتگو کی جانچ پرکھ اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگہی کے علاوہ خرابیوں کو دور کرنے کی صلاحیت و مہارت کے فروغ کو یقینی بنائیں۔
(4)گفتگو کے دوران مناسب جسم کے حرکات،سکنات اور اشاروں کے بہتر استعمال کی صلاحیت جو کہ سامع کے اندر جوش و ولولہ پیدا کرتی ہے کو فروغ دیں۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب طلبہ اپنے خیالات یا نظریات کوواضح اور متاثرکن انداز میں پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں یا جب وہ اس کیفیت کا باربار سامنا کرتے ہیں تو ان کی خوداعتماد ی مجروح ہوجاتی ہے اور دوسروں کو متاثر کرنے کی ان کی خواہش شکست و ریخت کا شکار ہوجاتی ہے۔ گفتار کی رفتار، محویت اور اختیار کردہ طرز تکلم جوگفتگو کی کامیابی کی اساس ہوتی ہیں سے طلبہ کو واقف کروانا بے حد ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کی گفتگو میں تاثیر پیدا ہوسکے۔
کامیاب گفتگو کے فن کے فروغ کے لئے طلبہ کو گفتگو کی مہارتوں سے لیس کرنا کے علاوہ انھیں ان کی گفتگو سے پیداشدہ صورتحال کا جائزہ لینے کی صلاحیت سے بھی متصف کرنا ضروری ہوتاہے۔طلبہ میں جب اس طرح جائزہ کی صلاحیت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ گفتگو کو موثراور بہتر بنانے والے عوامل کو اپنی گفتگو کا حصہ بنالگتے ہیں اور ان باتوں سے اعراض و اجتناب کرنے لگتے ہیں جو گفتگو کی تاثیر اور اثر میں خرابی پیدا کرتے ہیں۔طلبہ میں مذکورہ صلاحیتیں مندرجہ ذیل عوامل کے حصول سے ممکن ہوتی ہیں۔
(1)طلبہ گفتگوکے فن اور اس کی مہارتوں سے جب آشنا ہوجاتے ہیں۔
(2)جب گفتگوکے فن، اس کی مہارتوں کے فروغ اور بہتری کی ان میں خواہش و امنگ پیدا ہوتی ہے۔
(3) طلبہ کی ا ن مقاصد سے آگہی جس کے ذریعے اساتذہ ان میں گفتگو کے فن اور اس کی مہارتوں کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔
اکثر اسکولوں میں دیکھا گیا ہے کہ طلبہ کی ایک محدود تعداد باہمی طور پر ایسے گروہ یا حلقے تشکیل دیتی ہے جو فن گفتگو کے فروغ میں معاون ہوتے ہیں۔ان گروہ اور حلقوں سے وابستہ اراکین ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ان کے درمیان خوش گوار تعلقات اور دوستانہ گفت و شنید کا عمل جاری و ساری رہتا ہے جو فن گفتگو کے فروغ میں اساسی حیثیت کا حامل ہوتاہے۔تقریری سرگرمیاں مقابلے، مذاکرے اور مباحثے طلبہ میں گفتگو کی مہارتوں کوپروان چڑھانے میں بے حد معاون ہوتے ہیں۔ اساتذہ ان حلقوں اور گروپس میں ہونے والی گفتگو کے تجربات کی روشنی میں طلبہ میں گفتگو کی مہارتوں کو فروغ دینے کی سعی و کوشش کریں۔
گفتگو کے وقت خاص خیال رکھیں
گفتگو کے آغازاوردوران میں ملحوظ رکھیں کہ
(1)گفتگو صاف واضح اور قابل فہم ہوں۔
(2)زمان(وقت)،مکان اور مخاطب کا خاص خیال رکھیں۔گفتگو کے ماہرین دوران گفتگو مخاطب کے موڈ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
(3)خوداعتمادی سے کام لیں گفتگو میں اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب بات کرنے والے کے پاس کامل معلومات کا وافرذخیرہ ہو۔گفتگو ایک فن ہے اور اس فن میں وہ مہارت حاصل کرتے ہیں جن کا مطالعہ اور سوچ وسیع ہوتی ہے۔کسی بھی موضوع پر موثر گفتگو یا اظہار خیال کے لئے زندگی کے ہر شعبے سے کماحقہ واقفیت بے حد ضروری ہوتی ہے۔
(4)گفتگو سے پہلے اور دوران گفتگو خود کو پرسکون رکھیں کیونکہ گھبراہٹ میں آدمی اپنی بات کو بہتر اور احسن طریقے سے پیش کرنے میں ناکام ہوجاتاہے۔
(5)متانت اور ثابت قدمی سے بلا حیل وحجت براہ راست گفتگو کا آغاز کریں۔
(6)گفتگو کو قرینے و سلیقے سے آگے بڑھائیں تاکہ آپ کے پیش کردہ خیالات سے مخاطب متاثر ہوکر آپ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے پیروی پر آمادہ ہوجائے۔
(7)گفتگو سے آدمی کی پوشیدہ خوبیوں اور خامیوں کا پتا چلتا ہے۔آدمی اپنی گفتگو اور تقریر سے جس طر ح کم وقت میں معاشرے میں اپنا مقام بنالیتا ہے اسی طرح اپنی غیر معیاری گفتگو سے اپنا وقار اور مقام گنوا بھی دیتا ہے اس لئے گفتگو کے دوران غیر معیاری الفاظ اور جملوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔
حسن کلام(گفتگو کی مہارتوں) کے فوائد
اثر انگیزشخصیت کی نشو ونما میں گفتگو کی صلاحیت،مہارتوں کے اثر و رسوخ اور حد ودکا تعین مشکل کام ہے۔تاہم گفتگو کی مہارت و صلاحیتوں کو موثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے طلبہ کی زندگی میں خوش گوار تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ ذیل میں گفتگو کی مہارتوں سے حاصل ہونے والے چندکامیاب تجربات و نتائج کو پیش کیا جارہے۔
(1)گفتگو کی مہارت انسان کی صلاحیتوں کو جلابخشنے کے علاوہ اسے دیگر لوگوں سے ممتاز کردیتی ہے۔
(2)گفتگو اور تقریر کی مہارت آ دمی کے اندر ایک ایسی عظیم قوت و طاقت کا احساس جاگزیں کردیتی ہے جس سے وہ اپنے آپ کودوسرے لوگوں سے بلند واعلیٰ محسوس کرتا ہے۔
(3)گفتگو کی مہارت سے طلبہ میں اعتمادکی ایک ایسی جذباتی بنیاد و کیفیتاستوارہوجاتی ہے جس سے وہ دیگر طلبہ سے تال میل پیدا کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
(4)فن گفتگو میں مہارت پیداکرنے سے طلبہ کو اپنی ذات،دوسروں اور اسکول کے دیگرا فرادکے خاص اوردلچسپ گوشوں کا علم اورانھیں سمجھنے کا وجدان حاصل ہوتا ہے۔
(5)گفتگو کی مہارت باہمی تعلقات کو استوار کرنے،بہتربنانے اور دوسروں سے صحت مند تعلقات قائم کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔
(6)گفتگو میں مہارت سے نہ صرف معلومات کے اضافے میں مددملتی ہے بلکہ افہام و تفہیم اور ذہنی افق میں وسعت و کشادگی پیدا ہوتی ہے۔
(7)گفتگو کی مہارت گھبراہٹ اوراعصابی تناؤپر قابو پانے میں مددگار ہوتی ہے۔ یہ شرم اور اسٹیج فیئر کو دور کرتے ہوئے ذاتی شبیہ(self-image) کو بہتر اور پرکشش بناتی ہے۔
(8) یہ مہارت اپنی ذات کو مربوط و منظم کرنے،اظہار خیال کی نفاست میں اضافے کے علاوہ معلومات کے موثر تبادلے اور تشریح و وضاحت میں مددگار ہوتی ہے۔
(9)گفتگو کی مہارت آدمی کوزیادہ متحرک،فعال اور خوش گوار بناتی ہے۔ متکلمکے کام اور مظاہرہ کو بہتر واعلیٰ بناتی ہے۔حسن کلام سے متصف شخص مثبت انداز میں ترقی و کامیابی کی سمت پیش قدمی کرتا ہے۔
زبانی و تحریری ابلاغ(گفتگو)(Oral and Written Communication)
زبانی (Oral Communication)گفتگو؛۔اگر ہم گہری غوروفکر سے کام لیں، زبانی گفتگو کے پہلووں اور اثرات کوسمجھنے کی کوشش کریں تو بالاخر ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ زبانی گفتگو کی اثر پذیری درجہ ذیل مہارتوں پر منحصر ہوتی ہے۔

(1)خوش گوار گفتگو کا فن
(2)غورو خوص(دھیان) سے سماعت(سننے)کافن اور
(3)عمدہ طرزعمل(سلوک و رویہ) کا فن
شرکاء گفتگو بات چیت سے اس وقت لطف و حظ اٹھاتے ہیں جب موضوع پر سیر حاصل دلچسپ اور اطمینان بخش گفتگو کی جائے۔طلبہ کو شعور و آگہی سے متصف کردیں کہ وہ دوران گفتگو حد درجہ احتیاط اور مہذب و معتبر انداز سے گفتگو کریں کیونکہاکثر لوگ ان کے ’وہ کیا کہتے ہیں‘ اور ’وہ کیسے کہتے ہیں‘ سے ان کی شخصیت کا اندازہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اساتذہ اپنی نگرانی میں کمرۂ جماعت میں گفتگو کے لئے سازگار ماحول کی تخلیق کرتے ہوئے باآسانی طلبہ کو گفتگو پر مائل کرسکتے ہیں۔دوران گفتگو طلبہ اکثر چاپلوسی،خوشامد پسندی اور بحث و تکرار سے کام لیتے ہیں جن پر نظر رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔اساتذہ طلبہ کوخوش مزاجی سے،اپنے طرز عمل(Mannerism)اورحرکات وسکنات(Gestures and Postures)سے باخبر رکھتے ہوئے بہتر گفتگو انجام دینے کی ترغیب دیں۔دوران گفتگوطلبہ کی رہبری کی جائے کہ وہ اپنے افکار و خیالات کو دلچسپ انداز میں مربوط طریقے سے ایسے پیش کریں کہ گفتگو کی روانی میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ ہرگزان کے گفتگو کو موثربنانے کے فن کو شک و شبہ کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔اساتذہ طلبہ میں عزم،حوصلہ اور اعتماد پیدا کرتے ہوئے ان کے ذہنوں میں فن گفتگو کی اہمیت و افادیت کو جاگزیں کریں۔اساتذہ کی تحریک سے ترغیب پاکر طلبہ گفتگو کو موثر بنانے والی مہارتوں اور انداز سے خود کو آراستہ ہوکر اپنی گفتگو سے مخاطب و سامع کومتحیر و مرعوب کردیتے ہیں۔
گفتگو کے اصولوں میں بات کو توجہ سے سننا پہلا اہم وکلیدی اصول ہے۔بات کو بہتر طریقے اور توجہ سے سننا گفتگوکے عمل کو سہل بناتا ہے۔طلبہ ایک اچھا مقرر بننے سے پہلے ایک بہتر سامع بنیں۔اساتذہ بچوں میں سماعت کے جواہر پاروں کو عام کرتے ہوئے ان کو ایک بہتر متکلم اور مقرر بناسکتے ہیں۔مقررین کو سماعت کرتے وقت طلبہ کو ان کے حرکات و سکنات،چہرے کے تاثرات،آواز کے زیر و بم پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کریں تاکہ ان میں بھی رفتہ رفتہ یہ اوصاف پیدا ہوں اور وہ گفتگو کو موثر پیرائے میں انجام دے سکیں۔
تحریری مکالمہ(Written Communication)؛۔زبان پر عبور و مہارت اور طلبہ میں دلچسپی کے ذریعہ اس مہارت کا فروغ ممکن ہے۔ذخیرہ الفاظ اورفرہنگ پر عبور پیدا کرتے ہوئے طلبہ اپنے خیالات کو منظم و موثر پیرائے میں بیان کرسکتے ہیں۔تحریری پیرائے اظہار جو ایک اہم ذریعہ اظہار تصور کیا جاتا ہے کے فروغ کے لئے طلبہ کی قوت متخیلہ کو مہمیز کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔تحریر کی سلاست اور عمدگی کا انحصارافکار کی گہرائی و گیرائی، خیالات کی فروانی،جدت پسندی اورافکار کے بے ساختہ پن، روانی اور منظم و دلکش ترتیب پر ہوتا ہے۔ایام طالب علمی میں طلبہ کو اگر اس وصف سے آراستہ کردیا جائے تو یہ زندگی بھر کے لئے ایک نعت غیر مترقبہ بن جاتی ہے۔اساتذہ طلبہ میں تحریر ی اور تقریری صلاحیتوں کے فروغ کے لئئے سلسلہ و مرحلہ وار تمام ضروری اقدامات کو روبہ عمل لائیں تاکہ بچوں کی تقریر و تحریر متاثرکن ہوسکے۔
اظہار کے فروغ میں معاون سرگرمیاں
ایسی مجموعی خصوصیات، منتخب سرگرمیاں جو پراثر گفتگو کے فروغ اوررویوں کے تعین میں مددگار ہوتی ہے اساتذہ انھیں اپنی تدریس کا لازمی جزو بنائیں۔ذیل میں چند ایسی مثبت عملی سرگرمیاں جو گفتگو پر اثرانداز ہوتی ہیں کو بیان کیا گیا ہے جن کے ذریعہ طلبہ میں موثر گفتگو کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
(1)اساتذہ اپنی نگرانی میں کلاس لیڈر کی سرگردگی میں کلاس کی میٹنگس کا انعقاد عمل میں لائیں۔اس طرح کی میٹنگس کے اہتمام کے ذریعہ طلبہ کو ان کی خوبیوں،خرابیوں،رویوں اور تبدیلیوں کے بارے میں فعال شرکت اور گفتگو کا موقع فراہم کرتے ہوئے قوت اظہار کو پروان چڑھا یا جاسکتا ہے۔
(2)مختلف موضوعات و مسائل پر طلبہ کو گروہ میں تقسیم کرتے ہوئے بحث و مباحث کا موقع فراہم کریں اور ہرگروہ کو آخر میں مسائل کے حل پیش کرنے پر پابند کریں۔پیش کردہ مسائل کے حل کو تمام گروپس کے اراکین میں گشت کروائیں تاکہ ان میں زیرک نگاہی اور مسائل کے حل کی تلاش کا جویا پیدا ہوسکے۔
(3)مختلف موضوعات اور عنوانات کے تحت تحریری،تقریری مقابلہ جات کے انعقاد کے ذریعہ گفتگوکی مہارتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ تصوراتی تحریر،تخیلاتی تقریر،تحقیق و تنقید جیسے موضوعات کے ذریعے بھی موثر گفتگو کی مہارتوں کو انجام دیا جاسکتا ہے۔
(4)دوان تدریس سوالات کے جوابات غیر متعین جوابات اور ان کی تشریح و تفہیم کے مواقع فراہم کرتے ہوئے طلبہ میں گفتگو کی مہارتوں کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
(5)طلبہ کو بعض اشخاص کے انٹرویو کرنے کی ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے بھی گفتگو اور اظہار کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو پروان چڑھا یا جاسکتا ہے۔
(6)طلبہ کو روزانہ نئے الفاظ سکھاتے ہوئے اور ان کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے کے ذریعے پیرائے اظہار و گفتگو کی مہارتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
(7)لسانی کھیل اور سرگرمیاں بھی قوت اظہار اور گفتگو کی مہارت کو پروان چڑھانے میں ممد ومعاون ثابت ہوتے ہیں۔
طلبہ گفتگو کے دوران اپنے مخصوص تکیہ کلام”جو ہے کہ“،”دیکھانہ“،”میں نے کہا تھا“،”میری بات لکھ کر رکھ لو“سے احتراز کریں یہ سامعین کو اکتاہٹ اور بوریت کا شکار کردیتے ہیں۔دوران گفتگو مہذب اور باقار انداز اپنائیں۔بڑے بول کہنے سے مکمل پرہیز کریں جیسے ”میں کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا“،”میرا کون کیا بگاڑ سکتا ہے“وغیرہ۔بات کتنی سخت کیوں نہ ہو لہجہ ملائم اور شائستہرکھیں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔آواز کو نہ بہت بلند اور نہ بہت زیادہ دھیمی رکھیں۔خیال رہے کہ آپ کی باتیں سامعین کے کانوں تک بہ آسانی پہنچ جائے۔اساتذہ طلبہ کو بہترین گفتگو کے سلیقے ااور عمدہ آہنگ سے آراستہ کرتے ہوئے انھیں بااثر اور مقبول بنادیتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ زبان شیریں۔۔ملک گیری۔اللہ ہم سب کو صحیح بولنا سکھادے۔آمین

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں