شہرِباکمال کا شاعر انقلاب

شاعرایسا سماجی جراح ہوتا ہے جو خوبصورت حقیقی مصرعوں،لازوال اشعار اور آفاقی نظموں اور رومانی غزلوں کے نشتر سے معاشرہ کی ایسی جراحی کرتا ہے کہ لاعلاج قسم کے اخلاقی و معاشرتی برائیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ باہر پھینکتا ہے۔حقیقی اور درد مند شاعر ایک مثالی معاشرہ کی نہ صرف خشتِ اول سے مضبوط بنیاد رکھتا ہے بلکہ ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی سعی کامل بھی کرتا ہے۔وہ اس لئے کہ بقول دنیا کے سب سے پہلے معلوم شاعر ”ہومر“کہ شاعرانہ قوتیں الہامی ہوتی ہیں ایک شاعر دیوتاؤں کی مدد اور دعا سے اپنی نظموں کو تخلیق کرتا ہے۔اسی سلسہ میں ہومر کا ایک اور قول بھی اس طرح سے ملتا ہے کہ ”ہل کے پیچھے کی زمین کالی معلوم ہوتی تھی اس زمین کی طرح جس پر ہل چکا ہو حالانکہ یہ سونے کی بنی ہوئی تھی اور یہ صناعی کا کمال تھا“یعنی ہومر کے نزدیک شاعر کا کمال ِفن یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ہر بنجر زمین کو سونے کا بنانے کا فن جانتا ہے۔
زمانہ بدلا،انسان نے ترقی کی منازل طے کرتے کرتے زمین سے آسمان کی بلندیوں کو اپنی گرفت میں لینے کے فن سے آشنا ہو گیا،اگرچہ علم کی وسعتوں نے دنیا کو موبائل جیسے ایک کوزے میں بند کر کے رکھ دیا ہے۔آج کے اس میکانکی دور میں اگرچہ انسانی پامالی،اخلاقی بے راہ روی،ظلم و استبداد اور بے مروتی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے پھر بھی حرص و ہوس کے اس معاشرہ میں کچھ رجل سلطان ایسے ہیں جو اپنے خیالات کی ضیا پاشیوں سے دنیا منور کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔میرے شہر باکمال (کمالیہ)کے رائے امتیاز فاروق ایسے ہی ایک مرد حر ہیں جنہوں نے زمانہ طالب علمی سے عہد شباب اور ایام جوانی سے تا عمر پیری یعنی زمانہ حال تک اپنے علم،حلم،قلم اور ”اندازِ سخن“سے صدائے حق اور پرچم صداقت کو ہمیشہ بلند کئے رکھا۔رائے امتیاز فاروق اپنے منفرد انداز سخن اور طرز سخنوری سے محفل کو گل گشت،زعفران اور شگفتہ بنانے کے ساتھ ساتھ حقیقت شناسی کا فن خوب جانتے ہیں۔
شعر میں فاروقؔ بھر دے فکر کا وہ بانکپن
محفلوں میں تیرے انداز سخن کی بات ہو
رائے امتیاز فاروق کی شخصیت میں متانت،سنجیدگی،سیاسیات و سماجیات،ادب اور انسان دوستی اور محبت وشرافت ان کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان کا خاصہ بنی،یہی وجہ ہے کہ راجپوت خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو روئتی دھڑے بندیوں،دنگا فساد،جھگڑوں اور نمودونمائش سے دور رکھا تاہم جہاں حق و باطل میں امتیاز کی بات آئی تواپنے آپ کو اسم با مسمیٰ بناتے ہوئے عدل ِ فاروق کا دامن مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ظلم،جھوٹ،استعماریت و استبدادیت کے خلاف نعرہ منصور بلند ضرور کیا خواہ اس کے پاداش میں انہیں پابند سلاسل ہی کیوں نہ کردیا گیا ہو۔
ہم ظلم کے افسوں کا بھرم کھول کے رکھ دیں
ہم جھوٹے خداؤں پہ بھی یلغار کریں گے
ہم کو ہے قسم گنبد ِ خضراٗ کے مکیں کی
باطل کو زمانے میں نگوں سار کریں گے
صرف یہیں اکتفا نہیں کرتے بلکہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کا جذبہ و شوق بھی ان کی شاعری میں ملتا ہے۔رائے امتیاز فاروق سخن ورری میں اپنے الفاظ کے ذریعے معاشرہ کو بت شکنی کا پیغام دیتے ہوئے انسانوں کوترغیب دیتے ہیں کہ کفر و باطل کی تلوار ہمارے سر کاٹتے کاٹتے کند ہوجائے گی مگر ہم اہل وفا وار کرتے رہیں گے اور انسانی اقدار کے احیا کے لئے اپنے سر پیش کرتے رہیں گے،میری قوم کا بچہ نچہ سیف اللہ تو بن جائے گا مگر باطل کے سامنے اپنے سر کبھی جھکانے کو تیار نہیں ہوں گے۔
ہر بچہ مری قوم کا بن جائے گا خالدؓ
ہم پھول کی پتی کو بھی تلوار کریں گے
فاروقؔہمیں توڑیں گے بت کفر کے آخر
کٹتے ہیں تو کٹ جائیں گے مگر وار کریں گے
امتیاز فاروق نے بطور سیاسی کارکن کئی تحاریک میں حصہ لیا اور عملی طور پر تحاریک کی راہنمائی اور انتظام وانصرام بھی فرماتے رہے۔ان کی ساری عمر کی سیاسی جدو جہد کا محور ذاتی فائدہ یا اپنی ذات نہیں بلکہ معاشرہ کے پسے اور گرے ہوئے مظلوم طبقات تھے۔وہ اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف ایسے طبقات کی راہنمائی فرماتے ہیں بلکہ ان میں یہ شعور بھی بیدار کرتے ہیں کہ اگر انہیں حق اور عدل نہ ملے تو گھر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ آگے بڑھ کر انہیں چھین لیا جائے۔ایسے جذبات کو وہ اپنے شعری پیرائے میں اس طرح پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ
سنگینی حالات پہ یلغار کریں گے
حق بات کا اظہار سرِ دار کریں گے
کب تک اہلِ جنوں کا راستہ روکو گے تم
کم نہیں ہوتا کبھی ان کے عزم کا جلال
رائے امتیاز کی شاعری میں ابہام کا دور دور تک نا م و نشاں نہیں ملتا کیونکہ وہ ابہام نہیں ابلاغ کے قائل ہیں۔ایسے ہی مبالغہ آرائی سے انہیں دور کا بھی واسطہ نہیں،کیونکہ وہ حقیقت پسندی کے قائل ہیں بقول ان کے کہ مبالغہ آرائی حقیقت کے پاؤں کی بیڑیاں ہیں،اسی لئے کہیں کہیں ان کی شاعری میں اقبال،جالب اور فیض کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔مگر لفظی چالبازی سے کمال ہوشیاری اور مستقل مزاجی وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں دکھائی دیتے ہیں۔شب کو آمریت کا استعارہ بناتے ہوئے جمہوریت کی شمع جلانے کے لئے انہوں نے دارو رسن کی صعوبتوں کو بھی برداشت کیا مگر حق بات کہنے سے کبھی باز نہ آئے۔
زنداں کی فصیلوں کو ذرا بڑھ کے گرا دو
ہر ظلم کے فرماں کو ٹھوکر سے اڑا دو
بجلی کی طرح وار کرو کوہ دمن پر
جو سنگ ِ گراں راہ میں آجائے ہٹا دو

جواب چھوڑ دیں