فتح قسطنطنیہ ۔۔۔۔

فتح قسطنطنیہ (بلاد روم/ استنبول) تاریخی اسلامی کا ایک درخشاں باب ہے۔ یہ شہر 29 مئی 1453 عیسوی میں 21 سالہ عثمانی سلطان محمد فاتح نے 54 روزہ محاصرے کے بعد فتح کیا تو پورے عالم اسلام میں فرحت و انبساط کی ایک لہر دوڑ گئی، عثمانیوں کے عزت و احترم میں زبردست اضافہ ہوا اور سلطان فاتح ایک بہادر اور جہاندیدہ رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ اس جوش و خروش کی بنیادی وجہ شہر سے متعلق سرکارِ دو عالم ﷺ کی متعدد احادیث اور بشارتیں تھیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو بلاد روم پر حملہ کرے گا، بخشا بخشایا ہے۔
فرمایا کہ میری امت یہ شہر ضرور فتح کرے گی۔
فرمایا مجھے خواب میں دیکھایا گیا کہ میری امت کے کچھ لوگ یہ شہر فتح کررہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین سے لیکر عثمانی ترکوں تک مسلمان ایک ہزار سال تک اس شہر کو فتح کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ سلطان محمد دوئم کی قسمت کے ستارا جاگا اور فاتح کا لقب ہمیشہ کے لئے انکے نام کے ساتھ منسوب ہوگیا۔ اس شہر پر سب سے پہلا حملہ 669 عیسوی میں امیر المومنین سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ و تعالی عنہ کے دور میں ہوا۔ آپ نے ایک لشکر جری تیار کرکے شہر کی طرف روانہ کیا جس میں سیدنا حسین (رض)، ابو ایوب انصاری (رض) اور یزید ابن معاویہ سمیت ہزاروں اصحاب رسول ﷺ اور تابعین نے شرکت کی۔ محاصرہ چھ ماہ تک جاری رہا لیکن شہر کی مظبوط فصیل صحابہ کرام اور شہر کے درمیان حائل رہی۔ ناکامی کے باوجود مختلف ادوار میں کوششیں جاری رہیں۔ 1402 میں ترک سلطان بایزید یلدرم نے شہر کا محاصرہ کیا اور قریب تھا کہ وہ شہر میں داخل ہوجاتے لیکن مشرقی سرحد پر تیمور لنگ کے حملوں کی وجہ سے انہیں محاصرہ اٹھا کر واپس آنا پڑا۔

بایزید یلدرم کے پر پوتے اور سلطان مراد اول کے بیٹے سلطان محمد دوئم 19 برس کی کم عمری میں تخت نشین ہوئے تو جہاں انہیں اندرونی خلفشار کا سامنا تھا وہی بازنطینی حکمران بھی انکے گرد سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ ان کٹھن اور نامساعد حالات میں انہوں نے فتح قسطنطنیہ کو اپنا مقصد حیات بنالیا اور اپنی حکومت کے پہلے دو سال فتح کی منصوبہ بندی میں بسر کردئے۔ غیر تو غیر، انکے اپنے مشیر اور اعلی حکومتی عہدیدار بھی ان ارادوں اور منصوبوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے، لیکن سلطان جوان تھے اور جوش اپنی انتہا پر تھا۔ انہوں نے باضابطہ محاصرے سے قبل آبنائے باسفورس کے دوسری طرف ایک حصار بناکر بازنطین کی تجارت روک دی اور توپوں کا ایک بڑا کارخانہ لگا کر ماہر کاریگر اوربن سے اس زمانے کے سب سے طاقتور توپ تیار کروائیں۔

منصوبے کے مطابق 29 اپریل 1453 کو شہر کا محاصر کیا گیا لیکن ابنائے باسفورس سے شہر قسطنطنیہ کے اندر جانے والی خلیج “شاخ زریں” کے دہانے پر بازنطینی افواج نے ایک زنجیر لگا دی، جس کی وجہ سے عثمانی بحری جہاز شہر کی فصیل کے کمزور حصے کے قریب نہیں جاسکتی تھیں۔ یوں شہر پر تمام ابتدائی حملے بری طرح ناکام ثابت ہوئے اور ترک افواج کو زبردست جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب جیسے جیسے محاصرا طویل ہوتا جارہا تھا، شہر والوں کے لئے یورپ سے امداد کے امکانات بھی بڑھتے جارہے تھے۔

کہتے ہیں کہ مایوسی کی اس صورتحال میں سلطان اور انکے شیخ کو خواب میں بشارتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور فصیل کے قریب جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کی قبر مبارک ظاہر ہوگئی۔ ابو ایوب انصاری ہزار سال قبل شہر کے پہلے محاصرے کے دوران شہید ہوگئے تھے۔ ان واقعات نے سلطان کے جذبوں کو دوبارہ جوان کردیا۔ اس نے جہاں شہر کے دوسری جانب غلطہ کےعلاقے سے بحری جہازوں کو خشکی پر سے گزار کر انہیں شاخ زریں میں اتارنے کا کارنامہ انجام دیا تو وہیں زیرزمین سرنگ بناکر دیوار کے قریب بارودی مواد نصب کروادئے۔ یوں دیوار گرگئی اور ساتھ ہی بازنطینی سلطنت بھی۔

چشم تصور میں لائیں کہ ترک جانثار، آغا، پاشا، علماء اور سب سے آگے سلطان محمد فاتح شہر میں داخل ہورہے ہیں۔ واللہ وہ لمحہ کتنا خوبصورت ہوگا۔ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نظارہ کناں ہیں، یہ سوچ کر ترکوں کی جان نکلی جاتی ہوگی۔ سلطان نے شہر میں داخل ہوکر آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا، جسکی وجہ جہاں شاہ قسطنطین کی طرف معاہدے کی پیشکش کا انکار تھا وہیں دو صدیاں قبل اندلس میں درجنوں مساجد کو معاہدوں کے باوجود کلیسا میں تبدیل کرنے کے اقدامات بھی تھے۔ ارتھوڈکس فرقے کے کلیسا کو برقرار رکھا گیا اور سرکاری خزانے سے دوران محاصرہ عیسائیوں اور یہودیوں کے تباہ ہونے والے گھروں اور عبادت گاہوں کی تعمیر نو بھی کی گئی۔

سلطان محمد فاتح نے اپنے تیس سالہ دور حکومت میں فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور آگے بڑھتے ہوئے سربیہ، بوسنیہ اور یونان کے مختلف علاقوں کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کرلیا۔ وہ ترک، عربی، فارسی، عبرانی، یونانی اور لاطینی پر زبانوں پر مکمل عبور رکھتے اور کئی زبانوں میں شاعری کرتے۔ انہیں ریاضی، فلکیات اور فلسفے کے علم میں بھی گہری دلچسپی تھی۔

یورپی مورخین فتح قسطنطنیہ کو” قرون وسطی ” کے خاتمے اور جدید تاریخ کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس فتح کے ساتھ ہی مسلمان دنیا جمود کا شکار ہوگئی۔ دوسری طرف یورپ نے اس بدترین شکست سے نصیحت پکڑی اورانکی آئندہ پانچ صدیاں نشاۃ ثانیہ کے عنوان سے ماخوذ ہوگئیں۔

اقبال نے اس فتح کو کچھ یوں یاد کیا

خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار
مہدئ امت کی سطوت کا نشانِ پائیدار
صورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے
آستان مسند آرائے شہِ لولاک ہے
نکہتِ گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا
تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اے مسلماں! ملتِ اسلام کا دل ہے یہ شہر
سینکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر

وہ زمیں ہے تو مگر اے خواب گاہِ مصطفی
دید ہے کعبے کو تیری حجِ اکبر سے سوا
خاتمِ ہستی میں تو تاباں ہے مانندِ نگیں
اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیں
تجھ میں راحت اس شہنشاہِ معظم کو ملی
جس کے دامن میں اماں اقوامِ عالم کو ملی
نام لیوا جس کے شاہنشاہِ عالم کے ہوئے
جانشیں قیصر کے ، وارث مسندِ جم کے ہوئے

حصہ
mm
کاشف نصیر مشہور بلاگر ہیں،مختلف بلاگز اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں،منفرد اسلوب کے حامل کاشف نصیر سیاسی ،سماجی اور دیگر مسائل پر ڈوب کر لکھتے ہیں،نئے بلاگرز کے استاد بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں