درخواست برائے محکمہ صحت اور مقتدر ادارے۔۔پولیو ویکسین

زندگی میں کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن سے کوئی ایک شخص دوچار نہیں ہوتا بلکہ وہ معاملات بہت سی آوازوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ اور یہی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر افراد انفرادی طور پر گفتگو کر کے خاموش ہو جاتے ہیں مگر خالی ہوا میں باتیں کر کے چھوڑدینے سے معاملات طے نہیں ہوتے۔پولیو ویکسین۔۔۔میرے آج کے کالم کا موضوع یقیناً یہ نہیں تھا مگر یہ طے تھا کہ میں اس پر اگلے ہفتے کالم لکھوں گی مگر آج صبح صبح ایک اور خبر گردش کرتی سنی کہ کسی اسکول میں پولیو کی ویکسین پینے کے بعد دو بچے بے ہوش ہو گئے۔ ایسی خبریں گردو نواح سے سننے کو مل رہی تھیں مگر میں اس کی مزید کھوج میں تھی۔ میری کھوج کہاں تک درست ہے یا غلط مجھے اب اس بات سے مطلب نہیں رہا کیونکہ اب میں بات صرف اُس خوف و ہراس کی کرنا چاہتی ہوں جو والدین اور بچوں میں پھیل چکا ہے۔ میں خود ایک اسکول چلا رہی ہوں جب بھی پولیو کی مہم چلائی جاتی ہے یا کسی موذی مرض سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی ہے تو ہمیں والدین کی طرف سے شدید دباؤ کا رجحان ملتا ہے اور اگر ہم اسکولوں میں ویکیسنیشن کرنے سے سختی سے منع کریں تو محکمہ صحت کی ٹیمیں سیکیورٹی اور اپنے افسران کو لے کر اداروں تک پہنچ جاتی ہیں۔میرا آج کا کالم کسی کے حق یا مخالفت میں نہیں میں صرف بین بین صورتحال پر بات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ نہ میں ماہرِ صحت ہوں جو پولیو کی ویکسین پر ماہرانہ رائے دے سکتی ہوں اور نہ لوگوں کی ان افواہوں کے حق میں جو اس ویکسین کو لے کر سننے میں آتی ہیں۔ لیکن خوف و ہراس اور افواہیں ایسی صورتیں ہیں جو نفسیاتی طور پر افراد کو متاثر کرتی ہیں اور اگر کسی ایک بچے کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو وہ اس قدر viralہوتا ہے کہ سب افراد اُس کو لاگو کر لیتے ہیں۔ میں ایک سوشل رائیٹر ہوں اور میں رویوں کے بارے میں بات کرتی ہوں کیونکہ جہاں معاملات رویوں کو ٹھیک کرلینے سے درست ہوتے دکھائی دیں تو وہاں رویوں کو بدل لینا بہتر ہوتا ہے۔پولیوویکسین کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہے۔ اور سوشل میڈیا پر بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے میں ملتی ہیں جہاں اس ویکسین کو بچوں کا جانی دشمن کہا گیا ہے تو دوسری طرف عملی طور پر پورے ملک میں محکمہ صحت اور حکومتی ادارے اس کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔اب بات درست اور غلط کی نہیں ہو رہی۔ کچھ والدین ایسے ہیں جو یہ قطرے پلانا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں پلانا چاہتے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو اس سے مبرا کر دیا جائے۔ پولیو کی ٹیمیں گھر گھر جا کر والدین کی موجودگی میں بچوں کو قطرے پلائیں۔ یا پولیو کی ویکسین کے لیے جگہ جگہ کیمپ لگائے جائیں جہاں والدین خود جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں۔ تعلیمی اداروں کو ہر گز اس مہم کا حصہ نہ بنایا جائے کیونکہ والدین کے اندر اسکولوں کے بارے میں منفی رجحانات بڑھ جاتے ہیں اور کسی بھی واقعے کی صورت میں اداروں کے منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ میری رائے سے یقیناً ہمیشہ کی طرح محکمہ صحت اور مقتدر اداروں کو اختلاف ہو گا کیونکہ جب یہی بات میں اپنے ادارے میں آنے والی ٹیموں سے کہتی ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ بچے اسکولوں میں آسانی سے ایک جگہ مل جاتے ہیں اور پولیوکی مہم کو کامیاب بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔ قطع نظر جو ٹیمیں آتی ہیں ان کو لمبی فہرستیں بنا کر تعلیمی اداروں کا الگ سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ اور بعد ازاں ان اداروں کو والدین کے منفی رویے جھیل کر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے میری محکمہ صحت اور مقتدر اداروں سے درخواست ہے کہ پولیو کی ٹیموں کو اُن کی تنخواہیں حلال کرنے کا موقع دیں کیونکہ اُن کو اس بات کے پیسے دیے جاتے ہیں کہ وہ گھر گھر جا کر اس مہم کو سرانجام دیں نہ کہ تعلیمی اداروں کو کسی بھی واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ بات سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ کیونکہ میری اس بات سے مقتدر اداروں کو سخت چوٹ پہنچنے والی ہے مگر میں نے اصلاحی صورت سامنے رکھتے ہوئے صرف درست رویوں کی بات کی ہے کہ اگر اس مہم کو چلانے کے لیے ٹیمیں گھر گھر جا کر والدین کی موجودگی میں قطرے پلائیں تو بہت سے خدشات اور پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ s.j.mehak@gmail.com میرے پڑھنے والے میری اس بات سے کس قدر متفق ہیں مجھے اپنی آراء سے ضرور آگاہ کیجیے۔ بہت شکریہ

حصہ

جواب چھوڑ دیں