پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں

بر صغیر پاک وہند میں محکمہ پولیس 22مارچ 1861 کو قائم ہوا اور ہر جرم کے خلاف یہ محکمہ پولیس ایکٹ 1861اور 2002 کے تحت کارروائی کرتا ہے۔آزادی ہند سے اب تک یہ محکمہ پورے پاکستان میں بدنام رہا ہے ہر دور حکومت میں پولیس میں اصلاحات کے نام پر تبدیلی کی ناکام کوششیں کی گئی لیکن اب تک ایسی تمام کوششیں بے سود رہی ہیں کیوں کہ اب تک کی جانے والی تمام کی تمام کوششیں پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے نہیں کی گئی ہیں بلکہ سیاسی طور پر ان لوگوں نے پولیس کو سیاسی مفادات کے لیے اور پولیس کو ذاتی حیثت سے غلام بنانے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آلہ کار بنانے کے لیے کیں۔لیکن اس محکمہ کے وفادار اور مخلص افسران و ملازمین نے ان سیاسی بے شعور لوگوں کے اشاروں پر کام کرنے سے انکار کر دیا محکمہ پولیس پنجاب کی تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب پولیس نے آئے دن ہر مشکل ٹاسک کو محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بطریق احسن سر انجام دیا سیاسی اتار چڑھاؤ کے دوران بڑے بڑے مگر مچھوں کو آہنی ہاتھوں سے قابو کر کے قانون کے سامنے پیش کیا اسی پولیس کے افسران و جوانوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر راکھ کر دہشت گردی کی پرواہ کیے بغیر موثر گشت کے ذریعے عوام کو تحفظ فراہم کیا اشتہاری و مفروران کو کامیاب ریڈ کر کے گرفتار کیا پاکستان کی دوسری فورسز کی طرح ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لئے ان کے شانہ بشانہ کام کیااور اس محکمہ کے افسران اور جوانوں نے بے مثال قربانیاں دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں اور ان قربانیوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ان سب خوبیوں کے باوجود اس محکمہ کی وہ وہ برائیاں جو عوام کو بڑی جلدی نظر آتی ہیں وہ ہیں رشوت،بلیک میلنگ،جرائم پیشہ افراد سے ساز باز اور ان کے خلاف کارروائی کا نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔وہ الزامات ہیں جو اس محکمہ کی بدنامی کا سبب ہیں ان سب خوبیوں اور خامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے متعدد دفعہ پولیس میں اصلاحات لانے کی کوشش کی گئی لیکن چہرے بدلنے سے ایمان تھوڑی آ جاتا ہے اگر تبدیلی لانا ہے تو اندر کے مسائل کا حل تلاش کر کے لائیں جب دل تبدیل ہونگے تو باقی سب کچھ ضرور بدلے گا پاکستان کی دوسری فورسز کی طرح اس فورس کے جوانوں کی بھرتی کا طریقہ کار ایک جیسا پھر سہولیات مختلف کیوں؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب اگر مل جائے تو شاید تمام مسائل حل ہو جائیں کیا یہ زیادتی نہیں ہی ایک پولیس کا سپاہی ایم فل ،پی۔ایچ،ڈی ہے بلکہ پولیس کے کچھ ڈیپارٹمنٹ جیسے پٹرولنگ پولیس،وارڈن،ایس۔پی۔یو ایسے ادارے ہیں جن کا ہر دوسرا جوان ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے لیکن حالات سے مجبور ہو کر اس محکمہ کو وقت کے ساتھ ساتھ خدا حافظ کہ رہے ہیں دیگر فورسز کے ایک سپاہی روٹین کی پروموشن کرتے کرتے چیف وارنٹ افسر یا صوبیدار تک پہنچ جاتا ہے جبکہ تعلیم میڑک ہوتی ہے۔لیکن پولیس کا ملازم تعلیم ماسٹر ایم فل،پی۔ایچ،ڈی ہونے کے باوجود لسٹوں کے چکر میں عمر گزار دیتا ہے اور پھر ظلم یہ بھی عمر 40 سال بعد نااہل اور لسٹ کا امتحان نہیں دے سکتا جس ملک میں پی۔ایچ۔ڈی سپاہی ہو اور میٹرک فیل ایم۔پی۔اے ہو تو اس ملک میں انصاف کا حصول ناممکن ہے۔خدارا اس طرف بھی توجہ دیں تاکہ پولیس کا مورال بلند رہے۔یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس میں ملازم کو 24 گھنٹے ڈیوٹی کے عوض رہائش،کھانا،یا میڈیکل تک کی سہولت میسر نہیں جب کہ دیگر بیلٹ فورسزمیں بھرتی ہوتے ہی بیوی بچوں اور ماں باپ کو بھی میڈیکل کی سہولیات مل جاتی ہیں اوران محکموں کا ملازم جہاں بھی ہو اس کہ ہر سرکاری ہسپتال سے میڈیکل کی سہولت میسر ہوتی ہے۔1861سے اب تک کسی نے بھی پولیس ملازمین کے علاج معالجہ کے لیے کوئی ہسپتال بنانے کی کوشش نہیں کی۔پولیس کو بھی دوسری بیلٹ فورسز کی طرح CMH،پی۔ایف ہسپتال یا نیوی کے ہسپتال سے الحاق کروا دیا جائے جہاں ان کی اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ بوڑھے والدین کو بھی میڈیکل کی سہولیات حاصل ہوں مگر شاید یہ بھی بہت مشکل کام ہے کیوں کہ یہ ملازمین کے حق کے لئے ہے ہر رینج کی سطح پر اگر پولیس کے لئے ایک ہسپتال بنا دیا جائے تب سب فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر تبدیلی لانی ہے تو ان ملازمین کے ڈیوٹی روٹین میں تبدیلی لائیں رات دن کی مسلسل ڈیوٹی اور مہینے میں پورے 30دن ڈیوٹی کہاں کا انصاف ہے مسلسل ڈیوٹی نے افسران و ملازمین کے صحت پر برے اثرات مرتب کئے ہیں آ ج ہر دوسرا ملازم کالے یرقان،ہوٹلوں سے بے وقت کھانا،نیند کی کمی،موٹاپے،چڑچڑاپن اور کمر کی تکلیف جیسی بیماریوں مین مبتلا ہو رہاہے اور ان بیماریوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس طرف بھی شائد کسی کی نظر پڑ جائے۔اس محکمہ کے لئے عید شب رات بارہ ربیع الاول رمضان شریف محرم الحرام جیسے تہوار نہیں ہوتے۔ڈیوٹی ریسٹ اور چھٹی کا تصور خال خال۔رخصت اتفاقیہ،رخصت کلاں جیسے خوبصورت الفاظ چند لوگوں تک محدود ہ گئے ہیں اس ایشو کی طرف بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے اس محکمہ کے اندر ترقی کے لیے بھی ایک سخت طریقہ کار ہے اگر دس سال آپ نے اچھی نوکری کی ہے اور پروموشن کے وقت آخری تین سال میں کوئی بڑی سزا ہوئی تو آپ کی پروموشن روک دی جاتی ہے اچھے کام کا صلہ نہ ملنے کے برابر مگر غلطی پر سزا مجال ہے کہ دیر ہو جائے پھر ایسے مواقع پر افسران بالا کا رویہ بھی قابل داد ہوتا ہے ترقی اور تنزلی کے اس طریقہ کار پر نظر ثانی ضروری ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں