سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات

دنیا میں جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا ہے، وہ سب چیزیں حضرت انسان کے لیے ہیں اور اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے پیدا کی گئی چیزوں کو احاطہ تحریر میں لانا چاہیں تویہ ناممکن بلکہ حضرت انسان کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ قر آن مجیدمیں باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کر سکتے‘‘(القرآن)۔ یہ رب العزت کی ہم لوگوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں گنہگار ، سیاہ کار الغرض بے تحاشہ نافرمانیاں کرنے کے باوجوداپنی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے اور ہم عطاکی ہوئی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ بعض نعمتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں ، مثال کے طور پر مال ودولت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر کوئی اس مال و دولت کو اچھے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے اور اگر کوئی اس مال ودولت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دونوں جہانوں میں ندامت و شرمندگی کا باعث ہے۔ ایک چاقو ہے اگر اس سے کوئی پھل اور سبزی وغیرہ کاٹتا ہے تو یہ اس کا صحیح استعمال ہے لیکن اگر کوئی اسی چاقو کو کسی کے پیٹ میں مارتا ہے تو یہ اس کا غلط استعمال ہے۔اس مثال سے یہ پتہ چلا کہ کوئی چیز بھی بذات خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کاغلط استعمال بُرا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور سے نوازا ،پھر ساری مخلوق سے ممتاز بنا کر اسے اشرف المخلوقات کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا کہ انسان ہر چیز کے فوائد اور نقصانات کو مدنظر رکھ کراس دنیا میں اپنی زندگی کے شب و روزگزارے۔ جو بندہ بھی کسی چیز سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ رب العالمین کی بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت جو عنوان میں مذکور ہے اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں وہ ہے’’ سوشل میڈیا ‘‘آج کے دور میں ہر ملک ایک دوسرے سے ترقی کے میدان میں سبقت لے جارہا ہے اور ترقی اپنے عروج پر ہے،ہر ملک کے ہر طبقہ میں’’ سوشل میڈیا ‘‘کو کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے اور دن بدن اس کا استعمال بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔’’ سوشل میڈیا ‘‘کے استعمال کو ہر طبقہ کے لوگ اپنے اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں۔آج سے کچھ سال پہلے لوگوں کے خیر خواہ علماء کرام اس کے استعمال کے بارے میں منع کرتے تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور انہیں اس کے فوائد کا علم ہو ا توانہوں نے سوچا کہ اس کے ذریعے بھی دین اسلام کی تبلیغ و نشرو اشاعت کا کام کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے اس کو صحیح استعمال کی شرط سے جائز قرار دیا۔
میں نے ایک مرتبہ ایک عالم دین سے کوئی مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فوراً اپنی جیب سے موبائل فون نکالا اور موبائل کے کی پیڈ سے کچھ لکھ کر سرچ کیا اور چند ہی سیکنڈ بعد کچھ پڑھنا شروع ہو گئے، تھوڑی دیربعد مجھے اس مسئلے کے بارے میں اچھی طرح جواب دے دیا،جس سے دل مطمئن ہو گیا۔ میں نے پوچھا آپ نے مجھے اسی وقت جواب کیوں نہیں بتایا ؟ کہنے لگے مجھے مسئلہ کے جواب میں معلومات کم تھی میں نے پہلے نیٹ پر سرچ کر کے اپنی تسلی کی پھر آپ کو جواب دیااور پھر کہنے لگے اگر اس ’’سوشل میڈیا‘‘ کا استعمال درست کیا جائے تویہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے اور اس کے ذریعے دین اسلام کے بارے بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ’’ سوشل میڈیا‘‘ پر بہت بڑامعلومات کا ذخیرہ موجود ہے ، لاکھوں کروڑوں نایاب اور فائدہ مندکتب موجود ہیں، جس سے اگر ایک طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانا چاہے تو یہ کوئی بعید نہیں بلکہ اس کے لیے یہ’’سوشل میڈیا‘‘ فائدہ مند ، دل کا قرار اور سکون کا باعث بن سکتا ہے،اگر کوئی کہیں سفر کے لیے جارہا ہے اور اسے راستہ بھول گیا ہے وہ انٹرنیٹ پر سرچ کرکے اپنی منزل مقصود تک آسانی سے پہنچ سکتاہے۔ایسے ہی پہلے کسی کی خیریت اور حال احوال پوچھنے کے لیے کال صرف آڈیو ہوا کرتی تھی اب سینکڑوں لاکھوں میل دور اس سوشل میڈیا کی مدد سے ویڈیو کال ہو جاتی ہے اور اپنے محسنوں کی خیرو عافیت دریافت کرنے میںآسانی ہو گئی ہے وغیرہ۔
اس بے مثال نعمت خداوندی یعنی ’’سوشل میڈیا‘‘ کو اگر ضرورت کی حد تک استعمال کیا جائے تو اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے، وگرنہ اس کا نقصان بھی بہت زیادہ ہے ۔ نقصان اس طرح کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے’’ سوشل میڈیا‘‘ کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنا لیا ہے، چاہے دن ہو یا رات ہر وقت اسی میں مگن اور مصروف نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے قریبی رشتوں کو نظر انداز کیا جا رہا،بچے اپنے والدین کے پاس نہیں بیٹھتے اور نہ ہی ان کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں ، والدین اپنی اولاد کے ایسے رویوں کی وجہ سے پریشان ہیں کہ ہماری اولادکو کیا ہو گیا ہے ،بات نہیں مانتے اور ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتے ہوئے’’ سوشل میڈیا ‘‘پر بے ہودہ ویڈیوز اور تصاویر دیکھنا یہ ایک معمول بنتا جارہا ہے اور پھرایسی ویڈیوز اور تصاویر کواپنے دوستوں میں شیئر کرنا یہ بھی عروج پر ہے ،ایسی قبیح حرکات کی وجہ سے گھروں میں شرم و حیا ختم ہوتی جارہی ہے، جس حیا کے بارے میں پیارے نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘(مسنداحمد)۔ اگر کسی میں شرم و حیا ختم ہو جائے تو گویا پھر اس انسان میں ایمان کی کمی واقع ہو جاتی ہے،اسے اپنے ایمان کی کمی کو دور کرنے کے لیے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
غور و فکر اور ملحوظ خاطر رکھنے والی بات یہ ہے کہ’’ سوشل میڈیا‘‘ معاشرے میں ہر فرد کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، اب اس کے جہاں فوائد بہت زیادہ ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی اسی طرح ہیں اگر ہم دنیا و آخرت میں اللہ کریم کی رضامندی اور کامیابی چاہتے ہیں توپھر اس کے فوائد کو مدنظر رکھ کرصرف ضرورت کی حد تک استعمال کریں ۔

حصہ
mm
امیر حمزہ بن محمد سرور سانگلہ ہل ضلع ننکانہ کے رہائشی ہیں۔انہوں نے عربی اور اسلامیات میں ماسٹرز کیا ہے۔ سانگلہ ہل کے نواحی گاؤں علی آباد چک نمبر112میں مستقل رہائش پذیر ہیں ۔ان دنوں فیصل آبادمیں ایک رفاہی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں، ان کے کالمز روز نامہ’’ امن ‘‘ روزنامہ’’ قوت‘‘روز نامہ’’ سماء‘‘ روزنامہ’’حریف‘‘ میں شایع ہوتے ہیں۔اپنے نام کی مناسبت سے ’’امیرقلم ‘‘ کے زیر عنوان لکھتے ہیں۔ ماہ نامہ’’ علم وآگہی ‘‘اوراسی طرح دیگردینی رسائل وجرائدمیں مختلف موضوعات پرمضامین سپردقلم کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے نیشنل لیول پرکئی ایک تحریری مقابلہ جات میں حصہ لیااورنمایاں پوزیشنیں حاصل کیں ۔شعبہ صحافت سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ای میل:hh220635@gmail.com

جواب چھوڑ دیں