زہے مقدر۔۔۔

مسجدِ نبوی میں کچھ گھڑیاں

کئی ہفتوں سے بننے والے پروگرام میں ہر بار ہی کوئی مشکل آڑے آجاتی، اور ہم مدینہ کی پر نور فضاؤں سے محروم رہ جاتے، ہم نے افسردگی سے ذکر کیا ، تو کسی نے جواب دیا کہ اس کا بلاوہ تو وہاں سے آتا ہے، جب بلاوہ آگیا تو ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ دل کا درد بار بار آنکھوں سے بہنے کی کوشش کرتا، بس اپنے ہی جزبوں کی کمی کا احساس غالب تھا، جمعرات کی رات نصف شب اچانک شوہر صاحب نے کہا کہ بچوں سے پوچھ لیں اگر وہ تیار ہوں تو صبح سویرے مدینہ کے لئے نکل جاتے ہیں، ہفتے کو واپس آجائیں گے، بیٹے کی آمادگی کے بعد ہم نے بیٹی کو جگانا بھی مناسب نہ سمجھا اور ساری تیاری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، (جو صنفِ نازک کے کندھے تو ہیں، مگر رب نے انہیں مضبوطی دی ہے، الحمد للہ)۔ سب کے کپڑے استری کر کے بیگ تیار کیا، پانی کی بوتلیں فریزر میں لگائیں، اور باقی کے انتظامات کر کے ایک گھنٹہ سونے کا موقع بھی مل گیا۔ فجر سے کافی پہلے ہماری گاڑی عنیزہ شہر سے نکل چکی تھی، عین فجر کے وقت ہمیں پٹرول اور باجماعت نماز دونوں مل گئے، اور تیار شدہ ناشتا بھی! بلاتاخیر سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔
یہ جمعہ کی خوبصورت سہانی صبح تھی، گاڑی میں اجتماعی دعاؤں کے بعد اب سورۃ الکہف سنی جا رہی تھی، اسی دوران پاکستان میں بچوں سے رابطہ ہوا، اور دعاؤں کی ایک پوٹلی بھی مل گئی۔ القصیم سے مدینہ کا سفر بہت خوبصورت ہے، راستے میں زمین کے مختلف خطوں کے اتنے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں کہ دل مسرور ہو جاتا ہے، کئی وادیوں میں اونٹ یہاں وہاں پھیلے تھے، کہیں سفید اونٹ، جسن وجمال کے شاہکار، کہیں بھورے بالوں والے اونٹ اور کہیں سیاہ مشکی گھوڑے کے رنگ کے۔ اللہ کی بہترین صناعی: ’’افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت، والی السماء کیف رفعت، والی الجبال کیف نصبت، والی الارض کیف سطحت‘‘، (کیا یہ اونٹوں کی جانب نہیں دیکھتے کہ کیسے تخلیق کئے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے، کیسے اٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟)۔ زمین پر کہیں کھجور کے درخت، کہیں سبزہ زار، کہیں کھجور کے درختوں سے گھرا قطعہ اراضی، اور بیچ میں سبز کھیت، اور کہیں صحرا میں جھاڑی نما درخت اور وہیں پر اونٹوں اور بکریوں کے گلے بھی!! میں جب بھی یہاں سے گزرتی ہوں عجب تازگی کا احساس ہوتا ہے، ان علاقوں کی تاریخ اور جغرافیہ پڑھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ سڑک کے ایک جانب پہاڑ پر ’’قصرِ عقیل‘‘ دیکھ کر ہمیشہ ہی اسے جاننے کا دل چاہتا ہے، پہاڑ کی چوٹی پر بنا قلعہ کسی اہم حفاظت اور حصار کی نشانی لگتا ہے۔ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے بلکہ کافی پہلے پہاڑیوں کے اوپر بھر بھرے سے پتھر ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے زمانہ قدیم میں کسی آتش فشاں کے پھٹنے سے پھیل جانے والی راکھ ہے، اسی طرح کچھ مقامات پر پہاڑوں کے اورپر رکھے پتھر ایسے لگتے ہیں جیسے کسی نے انہیں بڑی محبت سے ایک دوسرے کے اوپر رکھا ہے، لیکن کہیں بھی پتھر گرتے دکھائی نہیں دیتے، عواصف رملیہ (ریتلے طوفان) کے علاقے میں ہوا سے ریت پر بننے والے نشانات آرٹ کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں، ہر قدم پر زمین کا ایک اور نادر قطعہ دل میں کھب جانے کو تیار نظر آتا ہے، ایسا حسن جو کسی کیمرے میں محفوظ بھی نہ ہو سکے!! آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں۔
اللہ تعالی نے اپنے نبی کی مسجد کی جانب جانے والے راستے بھی بڑے پر کشش بنائے ہیں، گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں کے اثرات بھی صحرائی نشیب میں نظر آ رہے تھے،تارکول کی تیاہ سڑک پر بھاگتی گاڑی نے ہمیں بہت جلدالمدینۃ المنورۃ میں داخل کر دیا، رہائش کا انتظام بھی پلک جھپکتے ہو گیا، وضو کر کے باب عثمان بن عفان سے اندر داخل ہوئے، ابھی صفوں میں گنجائش باقی تھی، تخیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے ہی تھے کہ رش بڑھنے لگا، اور صفوں کے خلا پر ہو نے لگے، ہم نے بھی سکڑ کر اپنے ساتھ ایک خاتون کو جگہ دے دی، جس نے شکریہ ادا کر کے نوافل ادا کئے ، اور پھر قرآن کی تلاوت شروع کر دی، اس کے پڑھنے کے انداز میں ہی بڑی توجہ تھی، وہ کبھی قرآن کھول کر اور کبھی بند کر کے سرگوشیوں میں پڑھ رہی تھی، کچھ دیر بعد مجھے جگہ محفوظ رکھنے کا کہہ کر چلی گئی، کچھ دیر بعد واپس لوٹی تو کرسی ہمراہ تھی، جو اس نے آگے بیٹھی خواتین میں سے ایک بزرگ کو دے دی، بولی: ’’یہ میری والدہ ہیں، نماز کے لئے انہیں کرسی کی ضرورت تھی‘‘۔
تعارف ہوا تو پتا چلا کہ ابیحہ کا تعلق مدینہ منورہ سے ہے، وہ خود جدہ میں رہائش پزیر ہے مگر ہر جمعہ ٹرین سے مدینہ آتی ہے، والدہ کے ساتھ مسجدِ نبوی میں جمعہ ادا کر کے انہیں گھر چھوڑتی ہے اور پھر شام کی ٹرین سے واپس جدہ چلی جاتی ہے۔ ہماری اگلی صف میں کچھ خواتین نماز ادا کر رہی تھیں، ابیحہ کچھ بے چین ہو گئی اور انکے سلام پھیرتے ہی انہیں نماز کے ارکان درست ادا کرنے کا طریقہ سکھایا، رکوع کر کے دکھایا، قیام کیسا ہو، اور سجدہ کیسے؟ دونوں سجدوں کے درمیان وقفہ کتنا؟ زبان نا شناسائی کے باوجود اشاروں سے انہیں مکمل توجہ سے سکھایا، بڑی نرمی اور محبت سے، میں نے کہا: ابیحہ مجھے اہلِ مدینہ سے محبت ہے، رسولِ کریم ﷺ کے میزبانوں سے، مہاجرین کے بھائیوں سے، تو ابیحہ نے ہاتھ بڑھا کرمجھے گلے سے لگا لیا، ’’اللہ تعالی ہمیں جنت کا ساتھی بنائے‘‘۔
ابیحہ نے بتایا کہ اس نے شادی کے بعد جب بچوں سے فرصت ملی تو ایک مدرسہ میں داخلہ لیا اور قرآنِ کریم حفظ کرنا شروع کیا، وہ پورا ہفتہ یاد کرنے کے بعد ایک دن سنانے کے لئے مدرسہ جاتی، اور حفظ مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنی والدہ اور خالہ کو قرآن کریم حفظ کروایا، پھر اپنی بہن کو، اپنی میڈیکل کی طالبہ بیٹی کو اور بیٹے کو، آج کل وہ اپنی پڑوسنوں کو قرآنِ کریم حفظ کروا رہی ہے۔
ہم نے ایک صف میں بیٹھ کر خطبہء جمعہ سنا، پھر نماز ادا کی، دمِ رخصت ایک سوال پھر جواب کا منتظر تھا: ابیحہ آپ مہاجرین کی اولاد میں سے ہو یا اوس و خزرج کے انصار میں سے؟ ابیحہ ہنس دی: ’’میں نہیں جانتی، یہ میرے لئے اہم بھی نہیں ۔۔ جس کا عمل آگے نہ ہو اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جا سکتا‘‘۔
مدینہ کی فضا میں بڑی برکت ہے، ہاں رسول اللہ ﷺ جس ہدایت کے ساتھ آئے یہ برکتیں اسی کے سبب ہیں ۔***

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں