پیرنٹس،ٹیچرزمیٹنگ ایسی بھی ہونی چاہیے

وہ صاحب روز اسکول آتے اور سارے اسکول کو سر پر اٹھا لیتے۔پرنسپل، وائس پرنسپل، کورڈینیٹر اور اردو کے ٹیچر بھی روز بیٹھ کر ان کی چیخیں سنتے رہتے۔ وہ استاد سمیت پرنسپل صاحب کو بھی صیح سے “رگڑے” دیتے، تمام مینجمنٹ انھیں سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی اور پھر وہ چلے جاتے۔ تقریبا 3 دن بعد اسکول انتظامیہ کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

مجھے نہیں معلوم یہ قانون کہاں سے آیا ہے لیکن ہم نے اپنے بچپن سے اور ہمارے بڑوں نے اپنے بچپن سے یہی سنا ہے کہ لینگویج کے مضمون میں پورے نمبر نہیں دئیے جاتے ہیں اور اسی “غیبی قانون” کے تحتاردو کے ٹیچر نے بھی اس بچے کا آدھا نمبر پورا پیپر ٹھیک ہونے کے باوجود کاٹ لیا تھا اور وہ صاحب ہاتھ پاؤں دھو کر اس بات پر “لہو” ہوگئے کہ جب میرے بچے نے پیپر ٹھیک کیا ہے، اس کی خوشخطی بھی خوبصورت ہے تو یہ آدھا نمبر کس “خوشی” میں کاٹا گیا ہے؟ اور سب مل کر انھیں لینگویج والا “غیبی قانون” سمجھا رہے تھے۔

 میرا خیال ہے کہ ان نمبروں کے جتنے بد اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں اساتذہ بھی ان کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور اسی کو “مکافات عمل” کہتے ہیں۔میرا ماننا یہ ہے کہ اب پی – ٹی – ایم کے رائج الوقت طریقے کو بھی ختم ہونا چاہئیے۔  پی –ٹی –ایم کا مطلب یہ ہے کہ والدین یا تو بچوں کی شکایتیں سننے آئینگے یا پھر اساتذہ کی شکایتیں لگانے آئینگے۔پی- ٹی – ایم سے جتنے کوفزدہ بچے ہوتے ہیں میرا تجربہ ہے کہ اساتذہ بھی اس سے کم خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اگر کسی استاد کے بارے میں والدین نے کوئی منفی تبصرہ کردیا تو پھر اس “استاد” کی شامت آکر رہتی ہے۔

مجھے تو بعض دفعہ یہ لگنے لگتا ہے کہ بچوں کے والدین اور اساتذہ کے درمیان دوکاندار اور گاہک والا تعلق ہے اور بچے وہ پروڈکٹ ہیں جن کی خریدو فروخت کے لئیے پی – ٹی –ایم کے نام پر بولی سجائی گئی ہے۔

ملائشیاء کے ایک اسکول نے پی – ٹی – ایم والے دن تمام بچوں کی ماؤں کو بلایا اور ایک بڑے سے لان میں انھیں کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔ سب کے سامنے پانی کے تب رکھ دئیے گئے اور ان کے بچوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی ماؤں کے پاؤں دھلائیں یعنی پیڈیکیور کریں۔ خواتین کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں پیڈیکیور کی سہولت مفت میسر آگئی اور بچوں کو یہ احساس بھی منتقل کردیا گیا کہ “ماں کے قدموں تلے جنت ہے”۔

کوئی پی –ٹی – ایم ایسی بھی ہونی چاہئیے کہ جس میں اساتذہ خاموش ہوں اور سہہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیاد پر کئیے گئے کاموں کو بچے اپنے والدین کے سامنے خود پیش کریں۔ بچے اپنے والدین کو خود بتائیں کہ انھوں نے سال بھر کیا سیکھا؟ انھوں نے ایک سال میں کتنی نئی کتابیں پڑھیں، روزانہ کتنے صفحوں کا ہدف انھوں نے طے کر رکھا ہے جس کا وہ مطالعہ کرتے ہیں، انگریزی کے کتنے الفاظ نھوں نے اس سال یاد کئیے ہیں، وہ خود سے ایک لائن، آدھا پیراگراف یا ایک پیراگراف لکھنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ اب وہ اردو میں کسی کے بھی سامنے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بچے اپنے والدین کو حساب اور ریاضی کے وہ طریقے اور میتھڈس خود سمجھ جائیں جو انہوں نے اس سال سیکھے ہیں، سائنس میں کون کون سے نئے کھیل یا مشقوں کو وہ تجربے میں لے کر آئے، کتنی نئی ایجادات اور کتنی نئی سائنسی تحقیقات کے بارے میں ان کو معلوم ہوا، اس سال کونسا نیا ریسرچ پیپر کس یونیورسٹی سے جاری کیا گیا اور اس کا مرکزی خیال کیا تھا؟ کون سی نئی تھیوریز انہوں نے اس سال پڑھیں اور کتنے سائنسدانوں اور موجدوں کے نام ان کو اب زبانی یا د ہوگئے ہیں۔

 والدین اس پی ٹی ایم میں اپنے بچوں سے پوچھیں کہ انہوں نے تاریخ میں کیا پڑھا؟ محمد بن قاسم سے لے کر قیام پاکستان کی تاریخ کیا ہے، براعظم افریقہ سے لے کر اندلس تک مسلمانوں نے کہاں کہاں اور کتنا عرصہ حکومت کی؟ کتنے نامور مسلم حکمران اور جرنیل ایسے گزرے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو فتوحات دلائیں؟ وہ کونسی عظیم لائبریریاں، کتب خانے اور علمی مراکز تھے جو مسلمانوں نے آباد کیے زوال  اوراخلاقی پستی کی وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر آج مسلمانوں کو مسجدوں میں  گھس کر اور ویڈیو بنا بنا کر مارا جاتا ہے اور ہم اتنے کمزور ہیں کہ:

“وہ” قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

 جتنا ہیروز کو پڑھانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ غداروں کو دکھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو معلوم ہو سکے کہ وہ کون ننگ دیں اور ننگ ملت ہیں جنھوں نے ہماری میدانوں میں جیتی ہوئی جنگوں کو ایوانوں میں ہروایا تھا۔

 بچوں کی نقشوں پر ایسی کمانڈ ہو کہ وہ پی ٹی ایمز میں اپنے والدین کے سامنے کسی فوجی افسر کی طرح بریفنگ دے سکیں اور بتائیں کہ اس نقشے میں کون کون سے اہم ممالک، دریا، پہاڑ اور ریگستان ہیں۔ اسلامی دنیا کی کیا اہمیت ہے اور پاکستان کا خطے میں کیا کردار ہے۔ موئن جو داڑو، ہڑپہ، اہرام مصر، بدھا اور انڈس ویلی کے بارے میں اپنے والدین کو خود سے بریف کر سکیں۔ بچے والدین کو بتائیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے کیا سیکھا قرآن میں سے کن کن آیات کا مطالعہ کیا اور یہ حدیث اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

 لیکن جہاں ایک ہی قائداعظم پر ہر سال انگریزی اور اردو میں الگ الگ مضمون رٹ کر سنائے جاتے ہوں، نمبرز بھی اسی پر دیئے جاتے ہوں، اسکول اور بچوں دونوں کی کامیابی اور ناکامی کا معیار اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہو وہاں ایسی پی ٹی ایم فی الحال بہت مشکل ہے، اس گیپ کو کم کرنے بلکہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک بچے والدین اور اسکول کے درمیان “فٹبال” بنے رہیں گے تب تک تربیت کس کھیت کی مولی ہے کسی کو بھی پتہ نہیں چل سکے گا۔

 والدین بچوں کو اسکولوں کے حوالے کرکے اور بھاری بھاری فیسیں بھر کر اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہو جاتے ہیں۔ ان بے چاروں کو یہ نہیں معلوم کہ جس سےاپنا ایک نہیں سنبھل رہا تو بھلاچند روپوں میں وہ بے چاری ایک ٹیچر 36 ماؤں کی اولادوں کو کیا سنبھالے گی؟ اس لئے وہ بھی اپنا مقصد ان کتابوں اور معلومات کو بچوں میں “انڈیلنا” سمجھتے ہیں۔ یہی کتابیں اور معلومات کا انبار بچے کتنا ہضم کر پا رہے ہیں؟ کر بھی پارہے ہیں یا نہیں، ایک کے بعد ایک الٹی اور قے بچوں کو لگ چکے ہیں اس سے اسکول کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اساتذہ، والدین اور بچے یہ تینوں ٹرائینگل ہیں جب تک یہ تینوں ایک دوسرے سے باہم مربوط اور جڑے ہوئے نہیں ہونگے تب تک معاشرے کی اصلاح، اچھا شہری، ذمہ دار انسان اور بہترین مسلمان باہر علی خام خیالی ہے۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں