تبدیلی کے’’ وعدے‘‘ اوربڑھتی ہوئی مہنگائی 

مسلم لیگ ن کا سابقہ دورِحکومت اپوزیشن کے احتجاجی شکنجے میں جکڑا رہا ۔’’تبدیلی ‘‘ سرکارکا اسلام آباد میں طویل ترین دھرنا اوربعدازاں احتجاجوں کا سلسلہ نئی روایات قائم کرتا چلاگیا۔تبدیلی کے اثرات غریبوں کے چہروں سے عیاں ہیں ۔روپیہ اپنی قدر کھوتا جارہا ہے۔مہنگائی کا صف ماتم اشرافیہ کو نظرنہیں آئے گا۔ کمزور اپوزیشن احتساب کے خوف سے کچھ کرنا نہیں چاہ رہی ہے۔تبدیلی سرکار کے پاس پتلامینڈیٹ ہے جوکسی بھی وقت ’’تبدیل‘‘ ہوسکتاہے ۔اتحادی ناراض ہوسکتے ہیں ۔جس کا اشارہ فاروق ستار کرچکے ہیں کہ مہنگائی کے خلاف نکلنا ناگزیر ہوچکاہے میں نکلوں گا۔یقیناًاگر فاروق ستار نکلتاہے تولوگ نکلیں گے ۔پنجاب میں وزارتوں کے متمنی امیدوار بغاوت کرسکتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ۔
مہنگائی کا ہرطرف چرچاہے ۔بیرون ملک جانے والوں کا کرایہ پہلے سے چالیس گناہ بڑھ چکاہے ۔گیس اوربجلی کی لوڈشیڈنگ کے باوجود ہزاروں میں بل بھیجے جارہے ہیں ۔غریبوں کی چیخ وپکار سنی جاسکتی ہے ۔پڑول سستاہویا مہنگا مقامی گاڑیوں نے اپناکرایہ انتہائی مہنگاکیا ہوا ہے ۔نہ کوئی کرایوں کے نرخ بنانے والا ہے نہ ہی چیک کرنے والا ،بیوروکریسی روٹیاں ہضم کرنے میں مصروف ہے ۔وزراء پریس کانفرنسز اورخوش گپیوں میں مگن ہیں ۔سب کچھ عمران خاں نے کرنا ہے تو یہ وزارتوں میں کیا کررہے ہیں ۔اب تودیہاتوں میں لوگ ’’تبدیلی‘‘ تلاش کررہے ہیں انہیں مل نہیں رہی ہے ۔ایک جگہ تو بینر اویزاں تھا کہ ’’ تبدیلی ‘‘ گم ہوگئی ہے اگرملے توہمیں اطلاع دے کر شکریہ کا موقع دیں ۔
تبدیلی اور موجودہ حکومت متبادل اصطلاحات بنتی جارہی ہیں۔عوام کو حکومتوں سے کوئی سروکارنہیں ہوتا۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ۔اقتدار کا سایہ اپنی جگہ تبدیل کرتارہتا ہے ۔کل احتجاج کرنے والے آج مقتدر ہیں اورسابق مقتدر جنہیں یہ وہم تھا کے انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتاوہ آج بیرون ملک جانے کے لیے ترس رہے ہیں۔دائمی حکومت اللہ تعالیٰ کی ہے یہ سب بناوٹی ٹھیکیدارہیں۔جوٹھیکیداری کی سندعوام سے وصول کرتے ہیں بعدازاں عوام کو ذلیل ورسواکرتے ہیں ۔نوجوان ایک کروڑ نوکریوں کے لیے اخباردانی کررہے ۔
ہیں۔ بیٹیاں ائیر ہوسٹس بننے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں ۔ڈگریاں ردی دان میں اورحسن قبولیت کی سندپارہا ہے ۔سوار بیٹیوں پر گندی نظریں ڈال کر اپنی ہوس کوتسکین پہنچارہے ہیں ۔بیٹی امیرکی ہویا غریب قابل عزت ہے ۔ابھی گزشتہ رات لاہور کے سفرپر تھا اتفاق جس گاڑی میں سفر کیا اس میں ائیر ہوسٹس تھی سواریاں کم تھیں وہ بار بار پانی کامطالبہ کررہی تھی ۔ان پڑھ گنوار کنڈیکٹراورڈرائیور بار باراسے مختلف آرڈرجاری کررہے تھے وہ بیٹھنے نہیں پارہی تھی ۔جسے ہی اسے فراغت ملی سی ڈی کا ریموٹ تھمادیاگیا اب دونوں کی مختلف فرمائش تھی ’’نی اے لا‘‘ نی اُو لا‘‘ انتہائی بہیودہ گیت سنائے جارہے تھے ۔مجھ سے رہانہ گیا توکہا بھائی یہ تماشہ بندکریں پلیز سفر کرنے دیں ۔اللہ تمہارے حال پر رحم فرمائے۔میں آنکھیں بندکیے سوچ رہا تھا یہ بیٹی کیوںیہاں ہے ؟ ماں یا باپ بیمار ہوگا؟ گھر میں اسکے علاوہ کوئی سہارا نہ ہوگا؟ باپ کا بازو بننا چاہ رہی ہوگی ۔۔اُف۔۔دعاہے اللہ بیٹیوں کی حفاظت کرے۔
اب بات کرتے ہیں حکومتی کارکردگی کی کیا حکومت مہنگائی کو لگام دے گی ؟ جواب نہیں چونکہ آئی ایم ایف سے شرائط طے کی گئی ہیں روپے کی قدر پہلے ہی چالیس فیصد گرادی گئی تھی عالمی ریٹینگ ایجنسی نے پاکستان کی قرض لینے کی صلاحیت کو کیٹیگری ’’بی‘‘ سے گرا کر’’منفی بی ‘‘ کردیا ہے اوربانڈز کی قدر بھی گرادی گئی ہے ۔اقتصادی ماہرین کے نزدیک معاشی صورتحال گھمبیرہے ۔آنے والے دن بھی ایسے ہی رہے گے ۔ہمسایا مسلم ممالک سے قرض لے کر زرمبادلہ کے ذخائز بڑھائے گئے ہیں ۔
حکومت کے چھ ماہ میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مہنگائی تقریباً 7.48 فیصد بڑھ چکی ہے، شرح سود میں مزید 0.25 فیصد اضافہ کر دیا کیا گیا ہے ۔سرکلرڈیٹ چالیس کھرب سے تجاوز کرچکاہے ۔جھوٹے دعوؤں اور اپوزیشن کے حمائت کے بغیر معاشی نموکو بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی بڑھے گی ۔امن کے فوائد وثمرات سمیٹنے کی صحیح کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔’’وہ آیا ‘‘’’وہ آرہا ہے ‘‘ سے ملک ترقی نہیں کرتے ملک اپنے وسائل سے ترقی کرتے ہیں ۔فیکٹریاں اورکارخانے گیس ،تیل اوربجلی سے چلتے ہیں تینوں چیزیں یہاں مہنگی ہیں گیس اوربجلی کو نایاب ہونے کا شرف حاصل ہے ۔نئی ایجادات بھی ترقی میں بہت بڑا رول پلے کرتی ہیں بدقسمتی سے ہمارا نصاب تعلیم ہی غیرملکی زبان میں ہے ۔یہ غیرملکی نصاب صرف اشرافیہ کے پانچ فیصد بچوں کے لیے رائج کیا گیا ہے ۔باقی 95فیصد کے لیے درجہ سوئم اورچہارم موجود ہے ۔اعلیٰ عہدوں کے لیے امتحانات کا شیڈول غیرمنصفانہ اور قومی روایات کے متصادم ہے ۔
’’تبدیلی ‘‘ کا ہراقدام فہم وفراست سے خالی ہے ۔اصلاحات کے ذریعے مرحلہ وار ’’ تبدیلی ‘ ‘ کاعمل شروع ہوتا ہے ۔بات چیت کادروازہ کس سے کبھی بھی بندنہیں کیا جاتا۔سابق حکومت سے ان اداروں کے امور میں معاون طلب کرنی چاہیے تھی جن میں کارکردگی بہترتھی ۔جہاں بہتری نہیں تھی وہاں بہتری کے اقدامات کرنے چاہیے تھے ۔پکڑدھکڑ ،گالم گلوچ ،نیچادکھانے اورخودنمائی کے عمل نے ہماری اقدار اورمعیشت کو داؤ پہ لگادیا ہے ۔سابق ادوار میں بھی قرضہ لیتے وقت شرائط منظرعام پر نہ لائی گئیں موجودہ ’’تبدیلی‘‘ سرکار بھی ایساہی کررہی ہے ۔ہرعمل کو سابق حکومت کے عمل سے جوڑکر عوام کو بیوقوف بنایاجارہا ہے ۔عوام پر ٹیکسز کا بوجھ اورسابق حکومت نے بیڑا غرق کیا معیشت والی گردان اب چلنے والی نہیں ہے ۔خود کہاکرتے تھے ہم 90دن میں یہ کردیں گے وہ کردیں گے عوام نے موقع دیا ہے حضور کردیجئے ۔ظلم کا بازار گرم ہے سوال کیجئے توجھٹ پٹ جواب سابق حکومت نے ایساکیا،مہنگائی ہے ؟سابق حکومت کی مہربانی ہے۔ گیس نہیں آرہی ؟سابق وفاقی وزیر خاقان عباسی ذمہ دار ہے ۔بجلی مہنگی ہے ؟ سابق وزیر خواجہ آصف نے بجلی کے مہنگے پلانٹ لگائے ۔حضور تیل عالمی منڈی میں سستا ہے یہاں مہنگا کیوں ہے؟ انتظار کیجئے جلد سستا ہوگاپچھلا کیا بھگت رہے ہیں ۔پانچ سالہ گندصاف کررہے ہیں ۔یہ تمام وہ ہی ہفوات ہیں جوسابق ادوار میں ہوا کرتی تھیں ۔۔عوام سہولیات چاہتے ہیں گرمایوس کیا گیاتوحالات مختلف ہوں گے ۔عوام میں روزبروز غصہ بڑھ رہا ہے۔ ۔۔۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں