کارواں کے دل سے احساس ضیاع جاتا رہا‎

کھانسنے کی مسلسل آواز پہ وہ نیند سے بیدار ہوئی نیم بیداری کی کیفیت میں جاننے کی کوشش کرنے لگی کہ آواز کس کی ہے ،ساس کا خیال آتے ہی تیزی سے کمرے سے باہر آئی گلاس پانی سےبھرا اورساس کےکمرے کا رخ کیا۔ پانی پلایا اور ڈھیر ساری دعائیں سمیٹتے اپنے کمرے کی طرف پلٹی،گزرتے گزرتے ساس کے کمرے سے ملحق بچوں کے کمرے میں جھانکا تو انہیں کانوں میں ہیڈز فون لگائے دنیا و مافیا سے بیگانا پایا،کچھ سرزنش کی سخت سست کہا ہاتھوں سے فون لیئے اورخیالوں میں غلطاں ومتفکر اپنےبسترکی طرف آئی،سونے کی کوشش کی لیکن ناکام نیند اب اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی،
ایک انجان سے خوف نے اسکی آنکھوں میں ڈیرے ڈال لیئے وہ سوچنے لگی،
“یہ ہم نے اپنی نسلوں کو کس فتنے کے حوالے کر دیا،جس نے ناصرف انکی سماعت وبصارت کو متاثر کیابالکہ اسکے ساتھ ساتھ حس بصیرت کو بھی مفلوج کر دیا۔۔۔۔
مزاجوں میں ظاہر ہونے والی سستی و کاہلی، احساس زمہ داری کافقدان،رشتوں کےاحترام و تقدس کی پامالی،غرض کیسی کیسی وباوں کا شکار کر دیا۔۔۔
وائے! ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس ضیاع جاتا رہا
آج اسےبہت شدت سے احساس ہوا کہ اپنی قیمتی متاع کو ان کھلونوں کے حوالے کر کے ہم نے کیسا خسارے کا سودا کر لیا
اور پھر اس نقصان و خسارے کوبڑی خوبصورتی سے وقت کے تقاضے و ضروت کا نام دے کر خود کوکیسے خیال خام میں مبتلا کردیا کہ کل کو ہمارے کھانستے و لڑکھڑاتے وجود بھی انکی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے اور ہم ڈوبتی سانسوں اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس پونجی کو سمیٹنے کی کوشش بھی کریں گے تو وہ کارگر نہ ہوگی۔۔۔۔۔
سو ہمیں اپنے احساس ضیاع کو بیدار کرنا ہوگااوراس متاع عزیز کو ضائع ہونے سے بچانے اوراپنے لیئے صدقہ جاریہ بنانےکے لیئے آج اور ابھی سے جاں توڑ کوششیں کرنی ہونگی تاکہ ہمارا آنے والا کل محفوظ ہو سکے۔۔۔۔
اپنے بچوں کی ضروریات اور عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو سہولیات ضرور فراہم کریں لیکن اپنی آنکھیں اور کان دونوں کھلے رکھیں،گھروں میں موبائل کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن ہم کچھ اصول بنا سکتے ہیں جن پر خود بھی عمل کریں اور بچوں کو بھی انکا پابند بنائیں۔۔۔
رات 10 بجے کے بعد گھر میں موبائلز کے استعمال پر پابندی ہو،کھانے کے دوران کوئی چھوٹا بڑا ان کھلونوں کو استعمال نہ کرے تاکہ ناقدری نعمت جو ان کے ذریعے ہو رہی ہے اس سے بچا جاسکے،گھر میں جب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوں تو اس کو باہم گفت وشنید میں رکاوٹ نہ بننے دیں خاص طور سے بزرگوں کی محفل میں انکے احترم کو مدنظر رکھتے ہوئےاس اصول کو ملحوظ رکھا جائے کہ دوران گفتگو کوئی اسے استعمال نہ کرے تاکہ وہ ایک مسکراہٹ جو باعث صدقہ ہے اور وہ دعائیں جو لاکھوں کڑوروں سے بڑھ کر قیمتی ہیں انکی محرومی سے بچا جاسکے ،بچوں کو آنکھوں کے زنا و نظر کی پاکیزگی کا شعور دیں ایسی ویب سائیٹس جن سے غیر اخلاقی مواد مہیا کیا جاتا ہےان سے آگاہ کریں اوران کے استعمال سے گریز کا پابند بنائیں،خدا کی ذات کا تصور خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی ہر آن اسکی آنکھ کے کیمرے کا شعور ان کےدلوں میں جاگزیں کریں تاکہ اس فتنے کو حقیقی معنوں میں باعث فتنہ ثابت ہونے سے روک سکیں اور رب کی ان امانتوں کو اپنے حق میں گواہ اور باعث حجت بنا سکیں۔۔۔۔۔۔۔

حصہ

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں