’’کرتارپورپاکستان اوربھارت‘‘

اسے خوشی کی خبر کہیں یا غالب کا خیال۔ میڈیا تو اسے ایک جھپی کا کمال سمجھ رہا ہے۔نوجوت سنگھ سدھو کی آنکھوں میں مسرت کے آنسوں اور زبان جذبات کے موتی لیے ہوئے تھی ۔وہ عمران خان صاحب کو اپنا دوست ،محسن سمجھتے ہوئے اظہارِ تشکر کررہا تھا۔کرتاپور راہداری بارے سدھو کی خواہشات رنگ لے آئیں تھیں .اس نے کئی مخالفین کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر عمران خان صاحب کی تقریب حلف برداری میں شرکت بھی اس لیے کی تھی تا کہ وہ 14 کروڑ سکھوں کے لیے کوئی ایسا کام کر جائے جسے مدتوں یاد رکھا جائے۔بالآخر وہ کامیاب رہا۔ منصوبے ،راہداریاں انسانوں کے درمیان آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔عبادات سے انسان روحانی تسکین کشید کرتا ہے۔یہ ان ذرائع کی تلاش میں رہتا ہے جن سے مذہبی رسومات میں آسانیاں لائی جا سکیں۔کرتارپور صاحب بارڈر کھولنے کے اعلان سے دنیا بھر میں موجود دونوں ملکوں کی سکھ برادری میں قربتیں مزید بڑھیں گیں۔کرتارپور صاحب وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔یہاں کا گروہ دوارہ انڈین سرحد سے چند کلو میٹر کے دوری پر اور ضلع نارووال کی حدودمیں واقع ہے۔لاہور سے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرکے سکھ یاتری 3 گھنٹوں میں یہاں پہنچتے ہیں ۔اور یہ دوربین کی مدد سے درگاہ سے زیارت کرتے ہیں۔یہ گروہ دوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’’کوٹھے پنڈ‘‘ میں دریا راوی کے مغربی سمت میں ہے۔ا س گروہ دوارے سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے اسٹیشن کا فاصلہ تقریباََ چار کلومیٹر بنتا ہے اور راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔سکھوں کا یہ مذہبی مقام اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ سے اقلیتوں کا تحفظ کیا ہے ۔اسی وجہ سے پاکستان میں موجود سکھوں کے دیگر مذہبی مقدس مقامات جن میں ڈیرہ صاحب لاہور ،پنجہ صاحب ، حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب میں سکھ یاتری پاک فوج کے محفوظ جال میں رسومات اداکرتے ہیں ۔اپنے اسی انداز فدائیت کو پاکستان نے ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے کرتارپور راہداری کھول کر کیا۔اس اعلان سے نہ صرف دونوں ملکوں میں موجود تناؤ کم ہوگا ،دنیا بھر میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی طرف سے اچھا پیغام جائے گا۔سابق انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو بھارتی پنجاب کے وزیر سیاحت بھی ہیں ،جب پاکستان آئے تو مودی سرکار ،انڈین میڈیا نے آسمان سر پہ اٹھالیا تھا۔لیکن سدھو نے کسی بھی دھمکی کو سنے بغیر اپنی توانیاں کرتارپور بارڈر کھلوانے میں لگادیں ۔انسان جب کسی کام کو کرنے کی سعی کرلے اور اس کام میں نیکی ،انسانیت کے لیے خیر کا پہلو نکلتا ہوتو راستے خود بخود بنتے جاتے ہیں ۔سدھو نے دونوں ملکوں کے سکھ یاتریوں کا چارسو کلومیٹر کا فاصلہ تین ماہ کی محنت سے چار کلومیٹر کاکرادیا۔اور یہ بہت صبر آزماکام تھا ۔
کرتارپور صاحب باڑ کو لے کر ماضی میں بھی پاکستان انڈیاکے درمیان باتیں ہوتی رہی ہیں۔ہر بار نقطہ آغاز کا سنجیدگی سے اظہار صرف پاکستان کی طرف سے ہوتا رہا۔بھارت ہر بار اپنی روایتی ہٹ دھرمی دکھا کر بات کرنے کو تیار نہ ہوا ۔1998 میں پہلی بار اس سرحد کو کھولنے کی بات میاں نواز شریف اور اٹل واجپائی کے درمیان چلی تو مشاورت میں بھارت نے کئی تحفظات پیش کیے ۔مشرف دور میں بھی جب سابق جنرل مشرف نئی دہلی گئے تو پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ کرتاپور سرحد کھولنے بارے مثبت امید موجود تھی ۔ایک مہینہ قبل جب پاکستان کی طرف سے انڈیا سے کرتارپور باڑ کھولنے کی بات کی گئی تو بھارت نے پٹھان کوٹ حملہ ، 26-11 کے واقعات کو لے کرتاویلیں شروع کردیں۔مگر 71 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دل میں کبھی خلش نہ آنے دی ،یہی وجہ ہے کہ ان مچلتی محبتوں کا سنگ بنیادکرتار پور کی صورت رکھ دیا گیا۔بھارت بھی بامر مجبوری باڑ کھولنے کی پوزیشن میں آگیا ہے جسے عالمی میڈیا کسی اہمیت کے بغیر دکھاسنا رہا ہے۔ابھی تک مودی سرکار نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان آمداور باڑ کھلنے کی حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔یہاں تک کہ وہ اس میں سدھو کی ذاتی حیثیت پر شرکت کرنے پہ بھی سوال اٹھا رہا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتی۔عین تقریب کے دن پریس کانفرنس کرکے ماضی والی الزام تراشیاں کرنا تعلقات کو مضبوط کرنا نہیں خراب کرنے کی کوشش سمجھی جاتی ہے۔بھارت یاد رکھے کہ پاکستان سے مفاہمت اور غیر مشروط مکالمے کی بات تب ہی ممکن ہے جب وہ بے ڈھنگی باتیں کرنا بند کرے گا ۔عمران خان صاحب کا کہنا صائب تھا کہ پاکستان نے بھار ت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہر ممکن پیشکش کی ہے۔لیکن اس کی سوئی جس اٹوٹ انگ پر ستر سال سے اٹکی ہوئی تھی آج تک وہیں ہے۔ایسے میں کیسے مان لیا جائے کہ بھارت بنا کسی مصلحت کے مسئلہ کشمیر کے حل اور کرتارپور صاحب راہداری کھولنے میں سنجیدہ ہے۔بلکہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے منافقانہ کردار ادا کررہا ہے۔سیاسی رعونت ، سفارتی چالاکیوں اور بر صغیر کے کروڑوں انسانوں کے حقوق سے انکار نے بھارتی ساکھ خاک میں ملادی۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ کڑوا گھونٹ پی کر بھارت کو ایک قدم آگے بڑھنے کی دعوت دی اور خود دو قدم کا اعادہ کیا ۔یہ بات جانتے ہوئے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں شواہد کے ساتھ ملوث ہے۔کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل چاہتا ہے اس لیے بھارت کو خطے میں امن کے لیے غور و فکر کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔بھارت کو باڑ کھلنے کے سیاسی بریک تھرو کی صداقت کو ماننا ہوگا۔ اور ایک دن مسئلہ کشمیر کے حل کی کڑوی گولی بھی نگلنی ہوگی۔سوال یہ ہے کہ کیا کرتارپور باڑ دونوں ملکوں کے درمیان 71 سال سے چلے آرہے معاملات کا قبلہ درست کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گا؟

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں