تھرپارکر کے دم توڑتے معصوم بچے

ضلع تھرپارکر کے شہر ”مٹھی” میں معصوم ارواح کی موت کا عریاں رقص بدستور جاری ہے۔ DHO جناب ڈاکٹر شفیق میمن صاحب کے مطابق رواں سال میں 463 بچے ماں کی گود سے نکل کر قبر کی آغوش میں جا سوئے ہیں۔ اپریل میں یہی تعداد 190 اور مئی میں 236 تھی۔
ضلع تھرپارکر سندھ کا ایک پسماندہ علاقہ ہے، جس کا رقبہ 19638 مربع کلومیٹر اور آبادی پندرہ لاکھ کے قریب ہے۔ 4.54 فی صد آبادی شہروں میں مقیم ہے جبکہ باقی لوگ گوٹھوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ تھرپارکر 31 اکتوبر 1990 کو میر پور خاص سے کاٹ کر علیحدہ ضلع بنایا گیا۔ اس کے تین اہم شہر ہیں: مٹھی، اسلام کوٹ اور چھاچھرو۔ یہ علاقہ انڈیا کے بارڈر سے جا ملتا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے یہاں اب تک کچھ خاص ترقیاتی کام نہیں ہو سکے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ پانچ سو سال پہلے کے دور میں جی رہے ہیں۔ گھاس پھوس سے بنی جھونپڑیوں میں رہتے اور ایک ہی تالاب سے انسان اور جانور اکٹھے پانی پیتے ہیں۔ نتیجۃً بیماریوں کا شکار ہو کر چل بستے ہیں۔ ان بیماریوں کا سب سے بڑا شکار بچے ہیں۔
بچوں کی اموات کی دیگر وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں مثلاً: غذائی قلت، وبائی امراض، زچہ کے وزن کی کمی، خشک سالی، طبی سہولیات کی کمی، معالجین کی قلت یا ناتجربہ کار عملہ، صفائی کی کمی اور بچوں کو شفاخانے تک پہنچانے کے لیے ذرائع آمدورفت کی سہولیات کا فقدان وغیرہ۔
وجہ جو بھی ہو، ذمہ دار حکومتِ وقت ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ حکمرانوں کے پالتو جانور جہازوں اور ہیلی کاپٹروں میں سفر کرتے ہیں جب کہ ”مٹھی” کے عوام کے لئے بچوں کو ہسپتال پہنچانا جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔ جس دنیا میں 40 فی صد خوراک یعنی 165 ارب ڈالر کا کھانا کوڑے کے ڈھیر پر پہنچ جاتا ہے، وہاں کے صرف ایک ملک یعنی پاکستان کے 6 فی صد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ دنیا بھر کے 2.2 ارب بچوں کی غذائی قلت میں سالانہ 3 فی صد اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان قوت بخش غذا پر اپنی جی ڈی پی کا صرف 3.7 فی صد خرچ کرتا ہے جو ایشیائی ممالک میں سب سے کم ہے۔
ضلعی ہیلتھ آفیسر تھرپارکر نے سرکاری ہسپتالوں میں فنڈز اور عملے کی شدید کمی کا خود اعتراف کیا ہے۔ غذائی کمی کے شکار بچوں کی بحالی کا مرکز سات ماہ سے بند ہے۔ سول ہسپتال میں سب زیادہ بچے لائے جاتے ہیں لیکن یہاں اتنی کثیر تعداد کے لیے انتظامات نہیں ہیں۔ وائس آف امریکہ کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق بیس روز میں چالیس چالیس بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ 2 ستمبر تک ایک مہینے میں 60 بچے فوت ہوئے، ایک مہینہ پہلے تک وائرل انفیکشن کی وجہ سے 8 بچے جاں بحق ہوئے۔
گزشتہ دنوں تھر کے معصوم بچوں کی اموات کا مسئلہ عدالت عالیہ میں اٹھایا گیا تو بعض عجیب انکشافات ہوئے۔ مثلاً صوبہ سندھ کو ستر فیصد ڈاکٹر اور طبی عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ 50 فی صد ڈسپنسریاں بند پڑی ہیں۔ سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ چھ ہزار ڈاکٹرز کی بھرتی سفارش پر(یعنی کرپشن کے ذریعے) عمل میں لائی گئی ہے۔ عدالت نے دو ماہ کے اندر اندر طبی عملہ پورا کرنے کی ہدایت دی لیکن نئی حکومت آ جانے کے باوجود ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ اسی طرح سال رواں جولائی میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن بنایا تھا، جس کے سربراہ ثناء اللہ عباسی صاحب بنائے گئے۔ اس کمیشن کو دس دن کے اندر اندر رپورٹ جمع کروانے کو کہا گیا تھا۔ لیکن اس کمیشن کی کارکردگی کا ابھی تک کوئی علم نہیں ہے۔
میری اپیل ہے، حکومت اس معاملے پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے۔ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ گندم افغانستان بھیجنے کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کے ان معصوموں کی دہلیز پر پہنچانے کا بندوبست بھی کرے۔ ان علاقوں میں شفاف طریقے سے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تقرری کرے۔ بند ڈسپنسریاں کھولی جائیں،بل کہ بہتر یہ ہوگا کہ یونین کونسل کی سطح پر ڈسپنسریاں کھولی جائیں تاکہ بیمار بچوں کو مرکزی شہر تک لانے کی کلفت سے بچا جا سکے۔ نیز جو بچے راستہ میں سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں، انھیں بروقت ابتدائی طبی امداد کے ذریعے جانبر کیا جا سکے۔ اسی طرح مٹھی شہر میں جناح ہسپتال یا لیاقت ہسپتال کے سٹینڈرڈ کا ہسپتال قائم کیا جائے۔ یا کم از کم اُس ہسپتال کو جلد از جلد تعمیر کیا جائے، جس کا اعلان چار مہینے قبل معروف کرکٹر شاہد آفریدی نے کیا تھا۔ ڈیم کے چندے کی طرح اپنے ان نادار بھائیوں کی امداد بھی ایثار کی حد تک کی جائے۔
بچوں کے والدین کی اشک شوئی کی جائے۔ انھیں نقد رقوم، ادویات اور امداد کے ذریعے سہارا و دلاسہ دیا جائے۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل 5 ارب روپے کی لاگت سے جو واٹرپلانٹ تعمیر کیا گیا تھا، اس کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور بہتر انداز میں چلایا جائے۔ ذرائع آمدورفت کو بہتر بنایا جائے تاکہ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونے میں آسانی ہو۔ میٹرو ٹائپ منصوبوں کی بجائے ایسے علاقوں میں سادہ سڑکیں اور شاہراہیں بنائی جائیں۔ تاکہ شہریوں کے لیے باسہولت شہر جانے میں آسانی ہو۔ اس طرح اگر ایک مریض کی جان بچ گئی تو قیامت کے دن بخشش کے لیے کافی ہوگی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور جو شخص کسی کی جان بچا لے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔” (سورۃ المائدہ:32)
حصہ

جواب چھوڑ دیں