مجروح قوم یا فاتح قوم

کتنی تکلیف دہ خبر ہے۔کس قدر دکھ اور کرب سے وہ انسان گزرا ہوگا۔کتنا صبر چاہیے اس صدمے کو سہنے کے لئے۔نجانے وہ اپنے جذبات پہ کیسے قابو پانے میں کامیاب ہوگا۔ان گنت سوالات میرے دماغ میں آرہے تھے اور چہرہ تاسف سے بھرپور تھا۔آخرخبر ہی کچھ ایسی تھی۔بھارت کے شہری دادا رائو بلہور نے 2015میں اپنا جوان بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں کھو دیا۔بےشک بہت تکلیف دہ اور افسوسناک اطلاع تھی۔اگلے ہی سطور میں جو کچھ لکھا تھا وہ کسی بھی افسوس سے ماورا توانا عزم کی غمازی کررہا تھا۔تفصیلات کے مطابق 2015 سے لیکر اب تک مذکورہ شخص ٹریفک حادثے میں اپنے بیٹے کی موت کے بعد سے 556 گڑھوں کی مرمت کرچکا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دادا رائو کا کہنا تھا کہ وہ ان گڑھوں کو بھرتے ہوئے اپنے دل پہ لگے زخموں پہ مرہم رکھتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی اور باپ کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔دادا رائو کے اس اقدام کو پورے بھارت میں سراہا جارہا ہے اور مزید رضاکاروں نے اس عظیم کام کے لئے اُن کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔بے شک اس اقدام کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔
کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ایک فرد ہوتا ہے۔جب وہی فرد اپنے تئیں کسی تبدیلی کے آغاز کا عہد کرلے تو ایک نہ ایک دن ضرور ایسا آتا ہے کہ وہ شخص اپنے بیانیے یا اپنی بات کو معاشرے میں تسلیم کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔یوں مزید لوگ اُس تبدیلی کے مشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔دنیا میں ہمیشہ کامیاب لوگوں کا یہی وتیرہ ہے کہ وہ خدشات اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسا کام اُن کے لئے ممکن ہے۔جب انسان ممکنات سے اپنا راستہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دن ضرور کامیابی اُس کے قدم چومتی ہے۔دنیا میں ہمیشہ اپنی محرومیوں کی نتیجے میں باقی افراد کی محرومیوں کا احساس کرنے والے اور اُس نتیجے میں انسانیت کو کوئی تحفہ فراہم کر نے والوں نے تاریخ کے اوراق پہ اپنا لازوال کردار نقش کیا ہے۔کئی برس پاکستان میں سماجی خدمات کے حوالے سے خصوصا کوڑھ کے مرض کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنے والی ڈاکٹر روتھ کیتھرینا مارتھا فائوکا کہنا تھا “کوڑھیوں کو چھونے سے لوگ مرتے نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں”۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا مریض کو اپنے گلے تک لگا لیتی تھی۔ایسا تبھی ہوسکتا ہے جب انسان واقعی میں اُس درد کو محسوس کرے۔یہی درد جب محسوس ہوتا ہے تو وہ عمران خان سے شوکت خانم اسپتال بنواتا ہے۔عبدالستار ایدھی سے دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا انتظام و انصرام چلواتا ہے۔یہی وہ جذبہ ہے جو کراچی کے ایک ناخواندہ علاقے خدا کی بستی میں پروین سعید کے ہاتھوں کھانا گھر کی بنیاد رکھ کے کئی لوگوں کو نہایت ارزاں قیمت پہ کھانے کی فراہمی ممکن بناتا ہے۔غرض اپنے ہر درد کے ادراک کے ذریعے معاشرے میں موجود دوسرے لوگوں کو اُس درد سے محفوظ بنانے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ ہی تاریخ کے اوراق پہ امر ہوئے ہیں۔
اوپر مذکورہ افراد کی زندگیوں اور جدوجہد کا مطالعہ کرتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہر شخص اپنے درد کا احساس کر کے باقی افراد کو اُس درد سے محفوظ کرنے کے عملی اقدامات پہ توجہ دینا شروع کرے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمارا معاشرہ کسی جنت سے کم نہ ہوگا۔ٹیکنالوجی کی اس دنیا نے انسان کے سماجی رابطوں کو کئی گنا بہتر بنا دیا ہے۔ان روابط کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں انسانی زندگی کے معیار کی بہتری کے لئے ان گنت خدمات سر انجام دی جاسکتی ہیں۔ہر ایک شخص ماحولیاتی آلودگی کے خلاف شجر کاری مہم اپنے طور پہ انجام دے ۔محلہ جات کی سطح پہ بچوں کو اس سرگرمی میں ملوث کیا جائے ۔ہر سال غریب طلبہ و طالبات کورسز کی مہنگی کتب خریدنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ایسے طلبہ و طالبات کے لئے بک بینکس بنائے جائیں ۔محلے کی مساجد کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔غریب خاندانوں کے گھر کی شادیوں کے لئے محلے کی مساجد میں انتظام ممکن بنایا جائے۔یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔اس طرح اسراف سے بچا جاسکتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ شادی کی تقریبات کو بابرکت بھی بنایا جاسکتا ہے۔تبدیلی کا آغاز اگر انہی معمولی محلوں سے کیا جائے گا تو جلد محلات میں بھی تبدیلی دیکھی جائے گی۔انقلاب کا آغاز ایک فرد سے ہوگا جو آگے بڑھتے بڑھتے اس قوم کے ہر فرد تک منتقل ہوگا۔ہر انقلاب کو سیاسی جدوجہد سے منسوب کردینا ہمارے ذہنوں کی اختراع سے زیادہ کچھ نہیں۔ہمارے روئیے ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا ہم ایک مجروح قوم ہیں یا فاتح قوم۔مجروح قوم ہمیشہ انقلاب کے انتظار میں نسلیں گزار دیتی ہے جبکہ فاتح قوم ہمیشہ اپنے تساہل کو پس پشت ڈال کےاپنی فتح کا باب خود ہی رقم کرتی ہے۔اسی عزم کی بدولت راستے کی تمام مشکلات فاتح قوم کے لئے آسانی میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہیں۔
آئیے اپنے طور پہ انقلاب کی اس تحریک کو آگے بڑھائیں اور اس شعر کی عملی تصویر بن جائیں۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل
لوگ ملتے گئے کاروواں بنتا گیا

حصہ

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں