کمرۂ جماعت کا نظم و ضبط ۔۔۔۔۔استاد کی حکمت و دانائی کا متقاضی

کسی پینٹر کو ایک کشتی رنگنے کا کا م ملا ۔ پینٹر نے اپنے کام کے دوران دیکھا کہ کشتی میں ایک سوراخ بھی ہے ۔اس نے کشتی کو رنگنے کے ساتھ سوراخ کی بھی مرمت کر دی اور اسے بند کر دیا۔ کام کی تکمیل کے بعد شام کو اپنی اجرت لی اور چلتا بنا۔ کشتی کا مالک دو تین دن کے بعد پینٹر کو بلایا اور ایک خطیر رقم بطور انعام اسے پیش کی۔ پینٹر حیرت سے کشتی کے مالک کو دیکھنے لگا اور اس نوازش و کرم کی وجہ دریافت کی۔کشتی کا مالک کہتا ہے کہ’’ جس دن تم نے کشتی کو رنگ کیا اس کے دوسرے دن میرے بچے اسی کشتی کو مجھے بتائے بغیر لے کر سمندر میں چلے گئے۔جب مجھے معلوم ہوا کہ بچے سوراخ والی کشتی لے کر سمندر میں گئے ہیں تو میں بہت پریشان ہوگیا۔ میری پریشانی اس وقت خوشی اور مسرت میں بدل گئی جب بچے شام کو صحیح سلامت واپس لوٹ آئے۔ میں جانتا ہوں کہ کشتی کے سوراخ کو تم ہی نے بند کیا جس کی وجہ سے میرے بچے موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے۔کشتی کے سوراخ کی مرمت تمہار ا کام نہیں تھا ۔لیکن پھر بھی تم نے اسے بغیر کسی صلے اور ستائش کی تمنا کے انجام دیا۔میرا یہ نذرانہ تمہارے اس احسان کا بدلہ ہرگز نہیں ہوسکتا لیکن یہ نذرانہ میرے احساس تشکر کا ایک نہایت معمولی اظہار ہے۔ ‘‘
کمر ہ جماعت کے نظم و نسق سے متعلق مضمون کے ابتداء میں اس حکایت کو پیش کرنے سے یقیناً آپ سوال کریں گے کہ کمرۂ جماعت کے نظم و نسق سے اس حکایت کا کیا تعلق ہے ؟یقیناً اس حکایت کا کمرۂ جماعت کے نظم و نسق سے تعلق ہے بلکہ گہرا تعلق ہے۔کمرۂ جماعت میں اپنی تدریسی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دوران ایک استاد بھی مذکورہ پینٹر کی طرح اگر طلبہ کے اخلاقی وشخصیت کے جھول ، خراب رویوں اور عادات رذیلہ کے سوراخ بند کر نے لگ جائے تو نہ صرف طلبہ کی کشتی بحر تلاطم میں بھی محفوظ و مامون رہے گی، ان کا مستقبل درخشاں اور تابناک بنے گا بلکہ معاشرہ بھی امن ،سکون اور عافیت کا گہوارہ بن جائے گا۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ نیکیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔یہ ہمیں مسرت ،خوشی ،سکون اور انعام کے طور پر دنیا و آخرت میں آخر کار حاصل ہو ہی جاتی ہیں۔اساتذہ کی جانب سے انجام دی جانے والی یہ چھوٹی اور ادنیٰ سی نیکی طلبہ کی زندگیا ں سنوارنے میں اہم رول نبھاتی ہے۔درس و تدریس کی افادیت راست طور پر کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط سے مربوط ہوتی ہے۔کار معلمی صرف معلومات کی منتقلی کا نہیں بلکہ طلبہ کی متوازن شخصیت کی تعمیر کا نام ہے۔درس و تدریس ایک ملازمت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کار پیغمبری ہے۔حدیث نبوی ہے ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔اس حدیث نے جہاں کار معلمی کو عظمت عطا کی وہیں کارنبوت سے وابستہ رہنے سے اسے تقدس بھی حاصل ہوگیا ہے۔اس پیشہ کی تقدیس کی حفاظت ہر معلم اور مدرس پر فرض ہے۔
دوران درس و تدریس اساتذہ کے لئے کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط کی برقراری اور طلبہ کے برے برتاؤ اور خراب رویوں پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ طلبہ کے غیر خوش گوار رویوں اور برتاؤ پر قابو پانے کے طریقوں اور مہارتوں سے اساتذہ کی آگہی فن تدریس میں نہایت اہم تصور کی جاتی ہے۔منفی رویوں اور برے برتاؤ پر قابو رکھنے اور قابو پانے کی حکمت عملیوں کا علم ،درس و تدریس کو نافع اور اکتساب کو تاثیر عطا کرتا ہے۔برے برتاؤ پر شکنجہ کسنے کا علم جہاں کمرۂ جماعت کو پرسکون اکتساب کا گہوارہ بنا دیتا ہے وہیں درس و تدریس کو طلبہ کے کسی بھی ناگہانی غیر صحت مند رویے سے محفوظ رکھنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کے برے رویوں اور خراب برتاؤ پر قابو پانے کے اقدامات کی پہلے سے تیاری کرنی ضروری ہوتی ہے۔ بچوں کے خراب رویوں اور برے برتاؤ کا علم کمرہ جماعت کو کسی بھی ناخوش گوار واقع کی آماجگاہ ، نظم و ضبط کے مسائل کا دنگل بننے ، اساتذہ ،درس و تدریس اور اکتساب کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔ درس و تدریس کی انجا م دہی سے قبل کمر ۂ جماعت کی فضا کو درس و تدریس کے لئے ساز گار بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اساتذہ کے لئے بچوں کواکتساب پر آمادہ کرنے کے ساتھ دوارن تدریس کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط پرقابو رکھناضروری ہوتا ہے۔نظم و ضبط کی عدم برقراری کی وجہ سے جہاں کمرۂ جماعت کا اکتسابی ماحول مکدر ہوجاتا ہے وہیں طلبہ کے خراب برتاؤ کی وجہ سے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ بھی اپنی بہترصلاحیتیں پیش کرنے سے چوک جاتے ہیں ۔ کمرۂ جماعت میں طلبہ کے منفی رویے اور برتاؤ سے پوری جماعت اور خاص طور پر تحصیل علم میں سنجیدہ ،باکمال ہنر ور طلبہ کا شدید نقصان ہوتا ہے۔کمرۂ جماعت کی تعلیمی فضا طلبہ کے برے برتاؤ اور خراب رویوں کی وجہ سیتباہ ہوجاتی ہے۔ اساتذہ کے لئے طلبہ کے رویوں اوربرتاؤ کی نفسیات کا علم موثر درس و تدریس اور بہتر اکتساب کے حصول کے لئے ناگزیر ہے۔ تعلیمی اصولوں سے واقف اساتذہطلبہ کے خراب برتاؤ پر دل برداشتہ ہونے کے بجائے طلبہ کو ان کے برے رویوں اور برتاؤ سے ہونے والے شخصی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں درس و تدریس کے اصل دھارے شامل کرنے کی کوشش کریں۔طلبہ کے خراب رویوں اور برتاؤ کا ماہرانہ انداز میں سامنا کرنااور انھیں مثبت رخ دینا ہی پیشہ تدریس کا کما ل ہے۔خراب برتاؤ کے انسداد میں استاد کی ڈانٹ ڈپٹ ،سرزنش و تنبیہہ،ہلکی پھلکی سزا جہاں سود مند ثابت ہوتی ہے وہیں استاد کی شفقت ،محبت آمیز رویہ ہمیشہ طلبہ کے منفی برتاؤ اور رویوں پر نہ صرف قابو پانے میں کامیاب ثابت ہوا ہے بلکہ طلبہ کے برے رویوں کو خوش اخلاقی اور فرمانبرداری میں تبدیل کرنے میں تیر بہدف ہتھیار تسلیم کیا گیا ہے۔
سزاکے برخلاف اپنے شاگردوں کے تئیں استاد کا اخلاص اور محبت آمیز رویہ انھیں حصول علم سے متنفر کرنے سے باز رکھتا ہے۔طلبہ کے معصوم اور شیشہ صفت نازک ذہن استاد کی نفرت اور حقارت کے کبھی بھی متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔استا د کا سخت رویہ او ترش لہجہ بچوں میں استاد ،اکتساب اور علم سے نفرت پیدا کرنے کا نقطہ آغاز بن جاتے ہیں۔استاد سے نفرت کی وجہ سے طلبہ اکتساب سے بھی دور بھاگنے لگتے ہیں۔ بعض مرتبہ کمرۂ جماعت کے عام رویوں کے برخلاف طلبہ سے خراب برتاؤ جیسے معمولی معمولی باتوں پر لڑنا جھگڑنا،دوسروں کی عزت نہ کرنا ،بدتمیزی سے پیش آنا،دوسروں کو پریشان کرنا،کمرۂ جماعت کے اصولوں کی پرواہ نہ کرنا ،کمر ۂ جماعت کے اصولوں کو توڑنا،دوسروں کو اپنے پریشان کن عادات اور ناخوش گوار سرگرمیوں سے نقصان پہنچانا وغیرہ کااظہار ہونے لگتا ہے۔اساتذہ اگر اس قسم کی بدقماشیوں اور برے برتاؤ پر قابو پانے میں ناکام ہوجائیں تب کمرۂ جماعت ابتر نظم و ضبط کا بدترین نمونہ بن جاتا ہے۔اساتذہ کے مشفق اور محبت آمیز رویے سے طلبہ پسندیدہ سماجی اقدار اور رویوں کواپنانے لگتے ہیں۔استاد کے برتاؤ اوراخلاق کا طلبہ عکس اور پرتو ہوتے ہیں۔طلبہ کے رویوں سے استادکی تمیز ، تہذیب اور اخلاقچھلکنے لگتے ہیں۔طلبہ کے بہتر برتاؤ اور اخلاقی عمدگی کی وجہ سے کمرۂ جماعت کارآمد اکتساب کا مرکز بن جاتا ہے۔ استاد کی توجہ اور حکمت سے طلبہ کے علم و آگہی میں اضافے کے علاو ہ خو د انضباطی (Self-Discipline) کی کیفیت اور اپنے برتاؤ پر قابو پانے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ذیل میں چند ایسی حکمتیں اور تکنیک بیان کی جارہی ہیں جنھیں اپناکر اساتذہ طلبہ کے برے برتاؤ پر قابو پانے، کمرۂ جماعت کو منظم و مربوط کرنے اور اکستابی فضا کو پروان چڑھا نے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
(1)کمرۂ جماعت کے مطلوبہ برتاؤا ور رویوں کے متعلق استاد طلبہ کو تفصیلات فراہم کردے۔ بہت زیادہ سختی سے پرہیز کرتے ہوئے طلبہ کوان سے متوقع رویے اور کام کے بارے میں واضح ہدایات فراہم کریں۔طلبہ کو اسکول کے نظم و ضبط کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں۔ اسکول کے ضابطے اخلاق کی پابندی کا مزاج ان میں پروان چڑھائے۔

(2)طلبہ سے جب کبھی خراب برتا ؤ کا مظاہر ہ ہوان سے مدبھیڑ اور بحث تکرار سے گریز کریں۔صورت حال پر قابو پانے کے ساتھ طلبہ کو نارمل برتاؤ کی جانب راغب و مائل کریں۔تنہائی میں بچوں کو خراب برتاؤ کے عواقب و نتائج سے آگاہ کریں اور خراب برتاؤ کو ترک کرنے کی ترغیب دیں۔استاد طلبہ سے وابستہ بہتر برتاؤ کی توقعات کا اظہار کریں تاکہ ان کے برتاؤ میں خوش گوار تبدیلیاں واقع ہوسکے۔
(3) اگر کوئی طالب علم اپنے خراب اور تخریبی برتاؤ سے دوسروں کو پریشان کرتا نظرآئے تب اسے ہر گز نظر انداز نہ کریں۔اس کو اپنے برتاؤ کی اصلاح کی ہدایت اور ترغیب دیں۔اساتذہ اصلاحی طریقے کار کے ذریعہ طلبہ کے منفی رویوں کو مثبت رویوں میں بدل سکتے ہیں۔
(4)اساتذہ کمرۂ جماعت میں کوئی بھی اکتسابی سرگرمی طلبہ کو تفویض کرنے سے قبل واضح ہدایت دیں کہ تفویض کردہ سرگرمی تمام طلبہ کو انجام دینی ہے اور اس سرگرمی میں پوری جماعت کی شرکت ضروری اور لازمی ہے۔تفویض کردہ سرگرمی اور کام کی سخت نگرانی اور محتاط جائزہ ضروری ہے۔
(5) درس و تدریس کے دوران کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط پر قابو کے لئے گفتگو اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے جسمانی اشارات(Body Language)سے کام لیں ۔بیشتر موقعوں پر کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط کی برقراری میں استاد کی باڈی لینگویج موثر اور کارگر ثابت ہوتی ہے۔جسمانی اشارات (باڈی لینگویج ) کے ذریعے اساتذہ وقت کو برباد کیئے بغیر بنا کسی رکاوٹ کے درس و تدریس کے فرائض انجام دے سکتے ہیں اورکمرۂ جماعت کی بد نظمی پر کامیابی سے قابوپاسکتے ہیں۔
(6)طلبہ کے بہتر برتاؤ پر ستائش اور خراب برتاؤ پر سرزنش سے اچھے اور پسندیدہ برتاؤ کو پروان چڑھانے کے ساتھ خراب برتاؤ کا سدباب ہوتا ہے۔
(7)اساتذہ اپنے آپ پر قابو رکھیں ۔طلبہ کے برے برتاؤ اور بدتمیزی پر آپے سے باہر نہ ہوں ۔جسمانی سزاؤں سے اجتناب کریں۔ طلبہ کی تذلیل اور بے عزت نہ کریں۔دوسروں کے آگے ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کریں۔ تنہائی میں طلبہ کی سرزنش کریں۔دوسروں کے سامنے سرزنش اور تنبیہہ سے طلبہ ذلت اور رسوائی محسوس کرتے ہوئے خود کو نقصان پہنچانے یا پھر اور خراب برتاؤ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
(8)کسی بدتمیزی اور خراب برتاؤ کے واقعہ پر اگر ممکن ہوتو طلبہ کو خراب برتاؤ کے نتائج اور مضمرات پر غور وخوض کرنے پر زور دیں ۔اس طرح کے غور وخوض سے طلبہ برے برتاؤ سے پرہیز کرنے لگتے ہیں۔
(9)استاد اگر طلبہ سے بہتر روابط اور تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو طلبہ میں استاد کا احترام اور دوسروں کی عزت کا جذبہ از خود پروان چڑھنے لگتا ہے۔اساتذہ اور طلبہ کے بہتر تعلقات اور روابط کمرۂ جماعت کی فضا کو اکتساب کے لئے سازگار بنادیتے ہیں اور طلبہ کے خراب برتاؤ پر اپنے آپ روک لگ جاتی ہے۔
(10) اگر کمرۂ جماعت میں اساتذہ بچوں کو خراب برتاؤ کا مرتکب پائیں تب وہ ایسے بچوں کو نظم و ضبط کے برقراری میں معاون ذمہ داریاں تفویض کریں۔ ذمہ داریا ں تفویض کرنے سے طلبہ میں احساس ذمہ دار پروان چڑھتا ہے اور وہ دوسروں کے سامنے بہتر اور مثالی برتاؤ کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔
(11)بچوں میں صحت مند برتاؤ کو پروان چڑھانے کے لئے طلبہ کی جانب سے گھروں سے لائی جانے والی اشیاء اور سامان پر بھی سخت نظر رکھیں تاکہ کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط کی برقرار میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے۔طلبہ کی جانب سے لائی جانے والی اشیاء ،کھیل کود کا سامان ،الکٹرانک کھلونے اور دیگر ساز و سامان کی وجہ سے طلبہ کی توجہ مجروح ہوجاتی ہے اور کمرۂ جماعت کا نظم و ضبط بگڑنے کے قوی امکانات پیدا ہوجاتے ہیں ۔
(12)طلبہ کے لئے کمرۂ جماعت کے معمولات کی انجام دہی کے لئے ایک لچکدار ،انتہائی نہیں بلکہ کسی قدر سخت طریقہ کار اپنائیں جس سے طلبہ متنفر نہ ہوں۔کمرۂ جماعت کے معمولات کی انجام دہی کے لئے طریقہ کا رکو وضع کرنے اور اس پر عمل پیرائی کے ذریعے اکتساب کو منظم ،مربوط اور دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔
(13)کسی ایک طالب علم یا چند طلبہ کی شرارت ،خراب برتاؤ کے لئے پوری جماعت کو سزا نہ دیں۔کسی ایک بدتمیز یا چند شریروں کی وجہ سے تمام جماعت کو سزا دینے سے اچھا برتاؤ کرنے والے معصوم طلبہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔
(14)ہوم ورک یا دیگر تعلیمی سرگرمیوں کو کبھی بھی نظم و ضبط کے آلہ کے طور پر استعمال نہ کریں۔ اساتذہ کا یہ اقدام طلبہ کو تعلیم سے متنفر کرتے ہوئے اکتساب سے دور کردیتا ہے۔
(15)کمرۂ جماعت میں طلبہ کو انفرادی اور اجتماعی ،سماجی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لئے راغب کریں ۔اساتذہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم طلبہ کو نظم و ضبط کا پابند پانے کے علاوہ احساس ذمہ داری کو پروان چڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
(16)اکتسابی طور پر کمزور طلبہ کی عزت نفس اور جذبات کا خاص خیال رکھیں۔تعلیمی طور پر کمزور بچوں سے خراب برتاؤ کا ظہور ایک عام بات ہے۔تعلیمی طور پر کمزور بچوں میں اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے ذریعے اساتذہ نہ صرف انھیں تعلیمی ترقی کی راہوں پر گامز ن کرسکتے ہیں بلکہ کمرۂ جماعت میں نظم و ضبط کی فضا کو مستحکم اور مضبوط بنا سکتے ہیں۔
(17) اساتذہ طلبہ کے خراب برتاؤ پر قابو پانے میں اگر خود کو ناکام محسوس کریں تب اپنے ساتھی اساتذہ اور طلبہ کے والدین سے ان مسائل کا تذکرہ کریں تاکہ عاجلانہ حل کے ذریعے طلبہ کے خراب برتاؤ اور برے رویوں پر قابو پایا جاسکے۔
(18)طلبہ کے انفرادی رویوں اور برتاؤ اور فطرت سے آگہی کے ذریعہ اساتذہ ان کی دلچسپی اور میلانات کو مناسب سمتدیتے ہوئے کمرۂ جماعت میں نظم وضبط کی فضا کو ہموار کرسکتے ہیں۔طلبہ کی فطرت اور نفسیات سے آگہی اساتذہ کو کمرۂ جماعت کے موثر اور منظم انتظام و انصرام کا موقع فراہم کرتی ہے۔طلبہ کے منفی رویوں کو مثبت سمت موڑکر ان کی توانائیوں کو کارآمد اور کارگر بنایا جاسکتا ہے۔
(19)کبھی ایسی کسی نظم و ضبط کی کاروائی کا اعلان نہ کریں جس پر عمل پیرائی نہ کی جاسکے یہ اس پر عمل پیرائی مشکل و ناممکن ہو۔طلبہ کو اس کے برے برتاؤ پر جب استاد انتباہ دے تب اس انتباہ پر اس کے لئے عمل کرنا ممکن ہو۔اگر استاد کی جانب سے دیئے گئے انتباہ پر عمل نہ کیا جاسکے تب کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط کے اور ا بتر ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔انتباہ پر عدم عمل آوری کے باعث طلبہ میں استاد کی عزت ،وقار اور دبدبہ ختم ہوجاتا ہے۔استاد کا دبدبہ اور رعب کے خاتمے سے نظم و ضبط کی صورتحال اور بگڑ جاتی ہے۔
(20)کمرۂ جماعت کے تقاضوں کے مطابق استاد کی آواز کازیر و بم اور ارتعاش بھی کمرۂ جماعت کے نظم وضبط کو قابو میں رکھنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔طلبہ استاد کے الفاظ سے زیادہ لہجے اور آواز کی اونچ نیچ پر توجہ دیتے ہیں۔اساتذہ اپنی آواز اور لہجے کی تیزی اور نرمی کے ذریعے کمرۂ جماعت کے نظم و ضبط پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
(21)طلبہ کے ذہنوں میں تمیز،تہذیب اور اچھے اخلاق کی اہمیت کو نقش کرنے کے لئے اساتذہ ،طلبہ کو ا علیٰ اخلاقی کہانیاں اور قصے سنائیں۔مثالی اخلاقی کہانیاں طلبہ کے خراب برتاؤ کو بدلنے میں کارگر ثابت ہوتی ہیں۔
طلبہ کے خراب برتاؤ،برے اور غیر پسندیدہ رویوں کی اصلاح اور اسے پسندیدہ برتاؤ میں تبدیل کرنے کے لئے اساتذہ کو تحمل ،نرم مزاجی اور مستقل مزاجی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔طلبہ سے جب کبھی بدتمیزی ،غیر اخلاقی برتاؤ یا برے رویوں کا اظہار ہو اسی وقت اساتذہ ان کی حکمت و دانائی سے اصلاح کی کوشش کریں۔کسی بھی بدتمیزی کو چھوٹی اور ناقابل توجہ سمجھ کر اگر اساتذہ روگردانی کرنے لگتے ہیں تب یہ غیر اہم اور چھوٹی بدتمیزو بگڑا رویہ جڑ پکڑنے لگتا ہے اور طلبہ برائی کی جانب غیر محسوس طریقے سے قدم بڑھانے لگتے ہیں۔اساتذہ ،طلبہ میں جب اخلاقی اقدار منتقل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ نہ صرف کارآمد اور موثر اکتساب کو پروان چڑھاتے ہیں بلکہ ایک مہذب ،حساس ،ذمہ دار اور انسانیت سے مملو معاشرے کی تشکیل کو یقینی بناتے ہیں۔طلبہ کی اخلاقی تربیت میں اساتذہ کو بہت حکمت و دانائی سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے اساتذہ کی ذرا سی غفلت ،بے جا نرمی اور حد سے زیادہ سختی معصوم ذہنوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برائی اور جہالتوں کی ظلمتوں میں غرق کردیتی ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا !!

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں