اب ہمیں آگے بڑھنا چاہئے

مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا اگراڑ نہیں سکتے تو دوڑو، دوڑ نہیں سکتے تو چلواور اگر چل بھی نہیں سکتے تو رینگوغرض یہ کہ کسی بھی طرح حرکت جاری رکھو۔پاکستان نے سن ۲۰۱۸ کے انتظار میں کسی بھی طرح سے پیشقدمی جاری رکھی اور تقریباً پانچ سال گزار لئے ، اس کی اہمیت ہر پاکستانی جانتا ہے اور پا کستان خود جانتا ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی جب ہرے پاسپورٹ والے فرد کو لائن سے ہٹ کر خصوصی تلاشی کیلئے لے جایا جاتا ہے تو کوئی سمجھ بھی نہیں سکتا کہ پاکستان پر کیا بیتتی ہوگی۔۲۰۱۸ میں پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہونے جا رہے ہیں، انتخابات تو ہمیشہ سے ہی اہم ہوتے ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا انتخابات سے قبل کبھی کسی نے سوچا تھا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو جائے گی، انصاف مخصوص طبقے کی قید سے آزاد ہوجائے گا اور کھلی آب و ہوا میں سانس لینا شروع کردیگا۔ چھوٹے اور بڑے کو یکساں انصاف دستیاب ہوجائیگا۔ پاکستان کی آب و ہوا دہشت گردی سے بہت حد تک آزاد ہوچکی ہے ۔ ملک کے ادارے فعل ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ ابھی ایسا مکمل طور پر نہیں ہوا ہے لیکن سال رواں میں ہونے والے انتخابات اور ہمارے ووٹ اس بات کو یقینی بنانے میں قلیدی کردار ادا کرینگے یعنی اگر ہم پاکستان کو دنیا میں کسی مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں تو سب کو آگے بڑھنا چاہئے۔
ہمارے لئے انتہائی خوشی اور اعلی ظرفی کی بات ہے کہ پاکستان میں بغیر کسی ایسی مصیبت کے بغیر ہی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دیتی سنائی دے رہی ہے جیسی کہ گردو نواح میں ایسے ممالک بھی ہیں جنہیں ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے بغاوت کی طرز پر اقدامات کرنے پڑے اور ان اقدامات میں الجھ کر رہے گئے ہیں۔ان ممالک نے دوسروں کی بچھائی ہوئی بساط پر نا صرف اپنی بلکہ اپنے ملک کی سالمیت کو بھی بھرپور طریقے سے نقصان پہچایا اور ابھی تک پہنچ رہا ہے ۔ دنیا کے سازشی ذہنوں نے پاکستان کو بھی ایسی ہی بد امنی میں دھکیلنے کی کوششیں سازشیں کیں مگر یہ ہم سب پر پاکستان پر قدرت کی خاص رحمت ہے کہ ہم ان سب سے صاف صاف بچ کر نکلتے چلے گئے ہیں۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ملکی مسائل پر نجی مسائل کو ترک کردینا چاہئے اور ملک کی خاطر چھوٹی چھوٹی باتوں کو بالائے طاق رکھ دینا چاہئے اوراجتماعی کوشش کرنی چاہئے کہ ملک کو آگے کی جانب کیسے دھکیلا جائے۔
ہمیں ان مسائل کو وقتی طور پر نظر انداز کردینا ہے جن میں ہمارے سیاستدان ہمیں گزشتہ ۷۰ سالوں سے الجھا ئے ہوئے ہیں اور ہمیں محکوم بنائے ہوئے ہیں، یہ لوگ آج تک ہمیں ہماری بنیادی ضروریات نہیں دے سکے ہیں ۔ ہم نے اپنے ووٹ کا صحیح حق ادا کردیا اور ان لوگوں کو ایوانوں تک پہنچا دیا جو درحقیقت ملک میں صرف اور صرف عوام کے نمائندے بن کر وہاں بیٹھینگے اور بدعنوانی ، چوری میں ملوث معززین کو کیفر کردار تک پہنچائنگے۔ دہشتگردی کیخلاف بھرپور جنگ کی ابتداء سے قبل ہماری افواج نے ایک بہت ہی واضح بیانیہ دیا تھا کہ کاروائی صرف دہشتگردوں کیخلاف ہی نہیں بلکہ انکے سہولت کاروں کیخلاف بھی ہوگی اور ان کو بھی نشان عبرت بنادیا جائے گا، اس بیانیے کے بھرپور اثرات مرتب ہوئے اور کامیابی نے ہمارے قدم چومے۔ آج جب بدعنوانی کے خلاف قانون متحرک ہو چکا ہے تو اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ان بدعنوانوں کو بدعنوانیوں تک رسائی دینے والے سہولت کاروں کیساتھ بھی وہی سزائیں دی جائینگی جو ایک بد عنوانی میں ملوث قرار واقع مجرم کو دی جائینگی۔
ہم دنیاسے بھلے ہی شانے سے شانہ ملا کر نہیں چل رہے مگر اس ترقی کی دوڑ میں کہیں بہت دور بھی نہیں ہیں۔ پاکستان میں دنیا کی ہر وہ چیز میسرہے جو دنیا کی تقریباً ایجادات ہیں اور ہمارے ملک کے محنت کش ہر ممکن کوشش میں مشغول رہتے ہیں کہ دنیا میں ہر بننے والی شے پاکستان میں پاکستانیوں کو دستیاب ہو۔ بدقسمتی سے ہم اخلاقی اقدار کھوتے چلے جا رہے ہیں ہم اخلاقیات کی دوڑ میں کہیں پھنس گئے ہیں کسی ایسے ٹریفک کے اژدھام میں جس کا نا کوئی سر ہے اور نا کوئی پیر۔ اس اخلاقیات کی گراوٹ کا نتیجہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل مختلف قسم کے نشوں میں الجھتی جا رہی ہے ۔
گزشتہ ستر سالوں سے ہم پر مسلط حکمرانوں نے عوام کو مختلف جھوٹے وعدوں اور خوف و ہراس کے ماحول سے بھٹکائے رکھا ہے ، ایک دوسرے کیخلاف کر رکھا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ انکا یہ شر یہ ہمیشہ کیلئے پھیل چکا ہے جسکی وجہ سے اب پاکستانی قوم کبھی سر اٹھا کر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ پاکستان میں ہمارے سامنے گردن اور کمرکو خم کئے کھڑے رہینگے اور دنیا کے سامنے ہم انہیں ایسا ہی پیش کرکے مال بناتے رہینگے۔ پاکستان کی سیاست میں سے عوام کی خدمت کا جذبہ نکل چکا ہے اور یقین سے لکھ رہا ہوں کے کتنے سیاستدان تو اس امر سے ہی ناواقف ہونگے کہ وہ سیاست میں کیا کرنے آئے ہیں (سوائے اسکے کہ اپنے آپ کو مستحکم کریں)۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ جمہوریت کی بقاء کیلئے تمام سیاستدان ایکدوسرے کی پشت پناہی کرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔
آج سماجی میڈیا نے بہت سارے معاملات بہت آسان اور سہل طریقوں سے سمجھانے کے مختلف حل پیش کر دئیے ہیں۔ آپ کسی بھی بات کو سمجھنے کیلئے دنیا اور دینوی اعتبار سے سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ کیا آپ واقعی سمجھنے کیلئے تیار ہیں ؟ ہم آج تک لسانیت ، فرقہ واریت اور صوبائیت وغیرہ جیسی تقسیم کا شکار رہے ہیں جسکی وجہ سے پاکستان اپنی حیثیت کھوتا چلا گیا در حقیقت حیثیت پاکستان کی نہیں کوئی ہماری حیثیت کھوگئی ہے دنیا میں پاکستان پاکستانیوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم خود پاکستان کو اس کی کھوئی ہوئی عزت اور شہرت دلوا کر رہینگے۔ بیشک اللہ بھی انہی کی مدد کرتے ہیں جو اپنی مدد کرنے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
ہمارے دشمن نے ہمیں چھوٹی چھوٹی مشکلات میں قید کرکے ہمیں ذہنی طور پر معذور کر دیا ہے اور اب ہم اس ذہنی معذوری سے نجات پانے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں
ہمیں بہت اچھی طرح سے علم ہے کہ خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتی۔ اب تو وہ چہرے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کو کھوکھلا کیا ہے ۔ وقت آن پہنچا ہے ملک انتخابات کے دور میں داخل ہوچکا ہے اب وہ تمام سیاسی جماعتیں جو گزشتہ کئی برسوں سے کہیں تھیں ہی نہیں اب نظر آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ اب فیصلہ اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے کرنا ہے اب فیصلہ پاکستان کے حق میں کرنا ہے ، اب ہمیں پاکستان کو ایک بار پھرآزاد کروانا ہے ۔ خود یقین دلانا شروع کردیں کہ اب ہمیں تمام رنجشیں بھلا کر ، سب نفرتوں سے دامن جھاڑ کر بس اب ہمیں آگے بڑھنا ہے۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔

جواب چھوڑ دیں