یہ دنیا ہمارے بغیر بھی چلے گی!

الیکسزینڈر یونانی نام ہے اور اس نام کے معنی ہیں حفاظت کرنے والا،ہم اس نام سے منسوب جس تاریخی شخصیت سے واقف ہیں اسے ہم سکندر اعظم کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ قدرت جس کسی سے دنیا میں اہمیت دلوانا چاہتی ہے اس کو نام بھی ویسا ہی دیتی ہے اور ان ناموں کو رہتی دنیا تک کیلئے انسانی ذہنوں میں محفوظ کروادیتی ہے۔ یونان کی ایک ریاست مقدونیا سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے دنیا کے ایک وسیع و عریض حصے کو فتح کر کے تاریخ میں اپنے وجود کو امر کروا دیا ۔مورخین نے لکھا ہے کہ سکندر جب دنیا سے رخصت ہونے لگا تو اس نے اپنے تین جرنیلوں کو بلایا اور تین نصحیتیں کیں، جو کہ اس طرح تھیں کہ
میرا تابوت سب سے قابل طبیب اٹھائے گا۔ دوسری یہ کہ راستے میں دولت بکھیرتے ہوئے چلنااور تیسری یہ کہ میرے ہاتھ تابوت سے باہر رکھنا۔
پھر سکندر نے آنے والے حکمرانوں کیلئے ان کی وضاحتیں بھی اپنے جرنیلوں کے سامنے رکھیں پہلی نصحیت کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بتایا کہ جب موت آئے گی تو کوئی قابل سے قابل طبیب بھی تمھیں نہیں بچا سکے گا، دوسری نصیحت کی وضاحت یہ کہ دنیا دیکھ لے کہ دنیا کی دولت دنیا میں ہی رہے گی تیسری اور آخری وصیت کی کیا خوب وضاحت کی کہ دنیا یہ بھی دیکھ لے کہ اتنابڑا حکمران جب دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔
یہ وہ چند وجوہات تھیں جن کی وجہ سے سکندر آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ ایسے حکمرانوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن ایسے چند ہی ہوتے ہیں جنہیں دنیا یاد رکھتی ہے۔ روز ازل سے قدرت کے ہاتھ میں ہے کہ جسد خاکی کے ساتھ نام و نشان بھی دفن کروادیتی مگرقدرت چاہتی ہے کہ گزرے ہوئے دنوں کو بطور حوالہ دیکھ لیا کرو۔ پورا قران اس بات کی گواہی ہے کہ کس نے کیا کیا اور اسکے ساتھ کیا ہوا اور جو کوئی جو کرے گا اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ یعنی قدرت نے تو پرچہ خود ہی آؤٹ کر رکھا ہے لیکن امتحان کی تیاری کرنے کے بجائے ہم لوگ دنیا کے کھیل تماشوں میں مگن ہیں۔
جب میرے والد نے اس دار فانی سے کوچ کیا تو مجھے لگ رہا تھا کہ اب یہ دنیا میرے لئے تو بیکار ہوگئی مگر اسکے اگلے ہی لمحے ہم انکے آخری سفر کی تیار ی میں مشغول ہوگئے اور پتہ ہی نہیں چلا کہ انکی تدفین کا وقت آگیا پھر اس احساس نے دل میں ایک ٹیس سی اٹھائی کہ اب کیا ہوگامگر وقت گزرتا گیا دنیا کے سب کام چلتے رہے اور ہم بھی زندگی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ انسان جیتا ایسے ہے جیسے کہ مرناہی نہیں ہے اور مر ایسے جاتا ہے کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
ہمارے ملک کے موجودہ سیاست دان خصوصی طور پر محترم میاں نواز شریف صاحب اس بات پر بضد دیکھائی دیتے ہیں کہ اس ملک میں میرے علاوہ کوئی اور حکومت کر سکتا ہے ، انکا یہ سمجھنا کہ حکومت یا بادشاہت صرف اور صرف میرے لئے ہی ہے اور انکی باتوں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ پورا کا پورا پاکستان ہی انہیں جاتی امرء سے زیادہ نہیں لگتا اور جاتی امراء میں انکے خادم دراصل پورے پاکستان کی عوام میں دیکھائی دیتے ہیں۔
ہم ذاتی حیثیت میں کچھ بھی کہنے کے مجاز نہیں ہوسکتے ، مگر ملک کی اعلی عدلیہ اور دیگر تحقیقی اداروں کی جانے والی تفتیش کو بھی عوام رد کردیں ۔ ملک و قوم کے محسن ہوتے تو ملک کے وقار کو بحال رکھنے کیلئے ان عدالتوں کے فیصلے مانتے یا نا مانتے مگر اس طرح سے جگ ہنسائی کے اسباب نا پیدا کرتے ۔ اگر جلسے جلوسوں میں لوگوں کو جمع کر کے آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ آپ نے اپنی بیگناہی ثابت کردی ہے تو پھر تھوڑا سا ماضی میں جھانک کر دیکھئے ایم کیوایم کے بانی کا خطاب سننے والوں کے مجمع پر نظر ڈال لیجئے، باقی آپ کہیں بہتر سمجھتے ہیں ان چیزوں کہ آخر آپ اس ملک کے تین دفعہ کے نااہل وزیر اعظم ہیں۔ آپ تو اس قوم کو اٹھتے بیٹھتے سلیوٹ کیجئے کہ اس قوم نے بار بار آپ کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا موقع دیا مگر کیا مجال کہ آپ نے اپنی بادشاہت کے خول سے نکلنے کیلئے کوئی خصوصی اقدامات کئے ہوں۔ آپ جب سڑکوں پر آئے تھے تب ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ قدرت کی پکڑ شروع ہوچکی ہے جو اس طرح سے سڑکوں پر چیخ و پکار کررہا ہوں اور اپنا آپ تماشا بنا رہا ہوں۔
آپ کو چاہئے تھا کہ ان لوگوں کے اقتدار کا مطالعہ کرتے جنہیں انکی عوام نے سر آنکھوں پر بیٹھا رکھا ہے۔ آپ متاثر ہوئے تو بادشاہت سے ہوئے ، آپ یہ بھول گئے کہ جلاوطنی کاٹ رہے تھے لیکن چمک دمک نے جہاں آپکی آنکھیں خیرہ کر رکھی تھیں وہیں آپکا دل و دماغ بھی ماؤف کر رکھا تھا ۔ آپ کی واپسی ان ہی سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہوئی اور آپ نے اسکے حصول کیلئے اس طرح بننے کی جستجو شروع کردی۔ آپ اس تگ و دو میں یہ بھی بھول گئے کہ آپ گن لوگوں کے گھیرے میں آچکے ہیں ، آپ نے اپنے خیرخواہوں کو خیرباد کہہ دیا جو حقیقت شناس لوگ تھے جنہیں معلوم تھا کہ آپ جس سفر پر گامزن ہورہے ہیں وہ کسی اچھی منزل پر لے کر کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا ۔
ابھی جب میں اپنے اس مضمون پر کام کررہا ہوں تو میاں محمد نوازشریف صاحب کے سیاسی تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی گئی ہے ۔ اب اسے تبدیلی کے حصول کیلئے لڑی جانے والی جنگ میں پہلی فتح لکھوں یا کچھ اور سمجھ نہیں آرہا۔ اس فیصلے کو لے کر خدارا جذباتی ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ، ہمیں یہ سوچ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے لئے پاکستان سے بڑھ کر کوئی شخصیت اہم نہیں ہوسکتی اگر میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا ہورہی ہے تو ان کی جماعت تو اہل ہے اسے عوام کے رحم و کرم پر چھوڑدیں انتخابات سر پرکھڑے ہیں فیصلہ جلد ہی آجانا ہے ۔ لیکن ایک سچے اور کھرے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں اور فیصلے پر سر خم تسلیم کریں ۔
اسلام میں تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی کے درمیان تمام تعلقات ہمیشہ کیلئے ختم ہوجاتے ہیں ، ہمیں تو یہ بات سمجھ آجانی چاہئے تھی کے تین بار نا اہل ہوکر وزیر اعظم ہاؤس بے دخل ہونے والے شخص کو تو خود ہی اپنے آپ کو سیاسی میدان سے ہمیشہ کیلئے بیدخل ہونے کا اعلان کردینا چاہئے تھا، لیکن سیاسی غیرت تو ہمارے ملک کے کسی سیاسی کارکن میں ہے ہی نہیں۔ آپ جس ملک کے وزیر اعظم رہے کبھی آپ نے کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کروایا ، کبھی کسی قطار میں کھڑے ہوکر بل جمع کروایا ، کبھی بجلی کے بغیر کیسے رہا جاتا ہے محسوس کیا یا کبھی سرکاری نلکوں میں آنے والا پانی پی کر دیکھا ہے ۔ جس آدمی کو یا جس سیاسی شخصیت کو سوائے اپنے کچھ اور دیکھائی نا دیتا ہے اسے تو نااہلیت کا تمغہ ملنا ہی چاہئے ۔ میاں صاحب آپ نے جو کچھ اس ملک کو دینا تھا دے چکے اب دوسروں کو موقع دیں یہ ملک آپ کے بغیر پہلے بھی چلا ہے اور آگے بھی چلنا ہے ۔
یہ نا اہلیت کا باب یہاں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اب تو فہرستیں بننے کا وقت شروع ہوا ہے ، یہ تو سورج کی وہ پہلی کرن ہے جو کسی تاریک قید خانے میں پڑی ہو اور قیدیوں کیلئے رہائی کی نوید بنی ہو، نظام عدل ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔ ہم دنیاکی آنکھوں میں اس وقت تک آنکھیں نہیں ملا سکتے جب تک ہمارے سیاستدان جو ہمارے حکمران بھی بنتے ہیں عوام کے ساتھ برابری کی زندگیاں نہیں گزراینگے۔ یہی میرے نبی ﷺ کے امتی ہونے کی دلیل ہے اور یہی رب کائنات کا بندہ ہونے کا تکا زہ ہے۔سبق سیکھ لیا جائے تو بہتر ہے ورنہ وقت بہت بے رحمی سے سبق سکھاتا ہے ۔ سب جانتے ہیں یہ دنیا ہمارے بغیر بھی چلتی جائے گی۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔

جواب چھوڑ دیں