انسان ، انسانیت کی تلاش میں ہے

اللہ رب العزت نے یہ دنیااپنی مخلوق کے لیے بنائی اور مخلوقات میں سے انسان کو اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کردیا ، انسانوں کو رہن سہن کے طور طریقے بھی سمجھائے ،جسم کے مردہ ہونے جانے کی صورت میں دفنانے کا طریقہ بھی اپنی کسی اور تخلیق کے توسط سے سمجھایا۔ قدرت نے آہستہ آہستہ اختیار منتقل کرنا شروع کیا ، جیسے جیسے انسان کو دنیا میں رہنے کی سمجھ آتی گئی اس نے خود کو ہی مالک سمجھنا شروع کردیا۔ ہر انسان میں کسی نا کسی درجہ انا یا میں کا عنصر موجود ہوتا ہے (اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا)۔ انااور میں کا تعلق انسان نے حسب نسب اور رتبے سے پختہ کیا اور نسل در نسل معلومات میں اضافے کی بنیاد پر بڑھتا ہی چلا گیا۔ ایسے لوگوں نے اپنے اپنے طور سے علم اور معلومات کو قید کرنا شروع کیا ، قیدسے مراد جاننے کیلئے حسب نسب کا ہونا ضروری قرار پایہ ، یعنی قدرت سے ملنی والی نعمتوں پر بھی پابندیاں اور حدیں تعین کر دی گئیں۔ اس سے بڑھ کراور کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ جو اناج اگاتا ہے وہی اناج کے عدم دستیابھی کی وجہ سے بھوکا مرتا ہے۔ دنیا ترقی کرتی جارہی ہے اورانسان اپنی طاقت میں بیش بہا اضافہ کئے جا رہا ہے
یہ انسان کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہی تو ہے کہ کوئی نہتے اور کمزور انسانوں پر بمباری کر کر انسانیت ڈھوننے کی کوشش میں کررہا ہے ، کوئی مجمع پر گولیا ں چلاکر نا حق خون بہاکر انسانیت تلاش کر رہا ہے ، کو ئی معصوم ادکھلے گلابوں کو مسخ کر کے انسانیت کا درس دے رہا ہے ۔ آج انسان ،انسانیت کو تہہ و بالا کر کے انسانیت تلاش کر نے کی کوشش کر رہا ہے ۔ آج ساری دنیا کے انسان اپنی اپنی انسانیت ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہر طرف افسوس ہے ، ہر طرف خون ہی خون ہے زمین اپنا رنگ بھولتی جا رہی ہے مگر آج انسان کو انسانیت مل کر نہیں دے رہی۔ ہر فرد دوسرے فرد کو یہ کہہ کر ماردینا چاہتا ہے کہ اسے جینے کا کوئی حق نہیں ہے، اس میں انسانیت نہیں ہے ، مگر کوئی اس مارنے والے سے تو پوچھے کہ جو تم کر رہے ہو اسے انسانیت کہہ سکتے ہیں۔ اقتدار و اختیار کی ہوس نے انسانوں کو انسانوں کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے کہیں مذہب کے نام پر شب خون مارا جا رہا ہے تو کہیں مال و دولت کیلئے سر تن سے جدا کئے جا رہے ہیں کہیں عزتیں پامال ہو رہی ہیں تو کہیں معصوم بچے معاشرتی غلاظت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ بات سب کے سب انسانیت کی کر رہے ہیں۔
آج کسی فرد کو خدا بننے کیلئے فرعون جیسا اقتدار نہیں چاہئے ، آج تو کرائے کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی حضرت انسان پیدل چلنے والے بندہ خدا کو انسان کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ حقیت تلخ تو ہمیشہ سے ہی تھی مگر آج تلخ ترین ہوتی جا رہی ہے یہاں تک کہ ایک انسان دوسرے انسان کو اسکی حقیقت بتانے پر قتل بھی کر سکتا ہے ۔ آج معاشرہ اپنی روح سے عاری ہوچکا ہے قدرت نے دلوں سے تو روحیں پہلے ہی صلب کر لیں تھیں اب معاشرے کی روح بھی آہستہ آہستہ کھینچی جا رہی ہے پھر یہ دنیا مصنوعی ہوکر رہ جائے گی۔
اس مضمون کو لے کر بہت سارے اختلافات سامنے آسکتے ہیں مگر جیسا کہ بتا یا گیا ہے کہ حقیقت تلخ ہوتی ہے اوراب تو تلخ ترین ہوچکی ہے ، آپ خود فیصلہ کر لیجئے اپنا احتساب کرلیجئے کیا آپ انصاف کے متمنی ہیں کیا آپ چاہتے ہیں تمام کام سہولت سے ہوں جس کیلئے آپ کو مختلف لائنوں میں لگنا پڑے گا، کیا آپ بغیر رشوت دئیے کام کروانے کیلئے تیار ہیں ۔ آپ یہ بھی کہیں گے کہ لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں لوگ ایک دوسرے کے ہر ممکن کام آرہے ہیں لیکن پھر بھی دنیا کی بدامنی میں کوئی فرق نہیں پڑرہا، دنیا کو چھوڑ دیں آپ اپنے چھوٹے سے علاقے کو لے لیجئے ، آپ اپنے اپنے گھروں کو لے لیجئے۔ مان لیجئے کہ سب کچھ مصنوعی ہے اب یہ دنیا مصنوعی انسانیت پر چل رہی ہے، بلکل ایسے ہی جیسے ہمارے ہسپتال والے کسی مرتے ہوئے مریض کے اہل خانہ کو وقتی تسلی دینے کیلئے مصنوعی تنفس پر منتقل کردیتے ہیں اور ایک طے شدہ وقت کے بعد موت کی تصدیق کردیتے ہیں۔ آج دنیا میں جو کچھ چل رہا ہے لوگ اپنی اپنی جان چھڑا تے محسوس ہوتے ہیں ، جیسے وقت کو گزارنے کیلئے اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں ہوسکتا ،دنیا اپنے انجام کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے یہ بات کے لاشعور میں اجاگر ہرچکی ہے جبھی تو سب اپنی اپنی عاقبت سدھارنے کیلئے مصنوعی طریقوں پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ بھیک کیوں دی جارہی ہے کیا آپ معاشرے کے اس فرد کو معذور نہیں کر رہے جسکے ہاتھ پاؤں سلامت ہونے کے باوجود بھیک مانگ رہے ہیں۔کہیں ہم ثواب کے نام پر اپنے رب کو خوش کرنے کے نام پر اسے ناراض تو نہیں کر رہے اسکے بندوں کو معذور بنا رہے ہیں اسکے بندوں کا ایمان بانٹ رہے ہیں۔ آج تو جو انصاف کی بات کرتا ہے ، عدل کی بات کرتا ہے اسے دھمکیاں ملنا شروع ہوجاتی ہیں اس پر اسکے خاندان پر زندگی تنگ کردی جاتی ہے پھر یا تو اسے انصاف ترک کرنا پڑتا ہے یا پھر جینا ترک کرنا پڑتا ہے ۔
انسان کتنا ہی دولت مند کیوں نا ہوجائے کتنا ہی صحت مند کیوں نا ہو کر رہے وہ اپنے ساتھ ایک ایسا دائمی سچ لئے گھومتا رہتا ہے جو کسی بھی وقت اس سے وہ تمام حیثیتیں اور تمام طاقت صلب کر لیتا ہے اور دنیا کو یہ باور کرادیتا ہے کہ انسان کی حقیقت یہی ہے ۔انسان مرتے رہتے ہیں مگر انسانیت زندہ رہتی تھی مگر اب تو انسان جیتے جی مردہ ہے اور انسانیت اپنا سب کچھ سمیٹ کر دارِ فانی سے کوچ کرچکی ہے۔ اگر انسان کے دل سے خداخوفی ختم ہوجائے یا پھر آب حیات نامی شے ہاتھ لگ جائے تو پھر انسان اپنا وہ روپ دیکھائے کہ ہلاکو خان جیسے بھی شرما جائیں۔ آج دنیا میں بہت بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں نے انسانیت کی خدمت کیلئے ادارے بنائے ہیں اور یہ ادارے بہت قابل تعریف کام کر رہے ہیں مگر جو لوگ انسانیت کوبرباد کرنے کا کام کر رہے ہیں وہ بہت کم ہیں لیکن جب اچھائی خاموش رہتی ہے تو برائی چاہے کتنی ہی قلیل کیوں نا ہو وہ سب کچھ برا کرکے دیکھاتی چلی جاتی ہے ۔
انسان ہی انسانیت کو مٹانے کے درپے ہیں اور انسان ہی انسانیت کے دفاع پر بھی ہیں مگر جو دفاع کرنا چاہتے ہیں انہیں ہی انسانیت کو مٹانے والے انسان تصور کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ وقت ایک لامتناہی فاصلہ طے کر کے واپسی کی جانب بہت تیزی سے سفر کر رہا ہے اور حساب کتاب تو سب نے دینا ہے ، آپ کیوں اس عارضی ٹھکانے کو مستقل ٹحکانہ سمجھ بیٹھے ہو۔ آج دنیا میں ہر شے بہت با آسانی دستیاب ہے مگر سب سے زیادہ انمول اور نایاب انسانیت ہے۔ ہم سب نے مل کر انسانیت کا قتل کیا پھر اسے دفنانا بھول گئے آج انسانیت کی لاش تلاش کرنے میں بے تہکان انسانوں کا خون بہائے جا رہے ہیں۔ زمین پر ناحق خون بہہ رہا ہے کہیں زمین اناج دینا نا بند کردے ، کہیں زمین پانی دینا نا بند کردے کہیں درختوں پر پھل اگنا نا بھول جائیں۔ وقت ہے یا نہیں یہ کسی کو معلوم نہیں ہے قدرت انتقام لے گی تو کوئی مذہب کوئی علم اسے راستے کو روکنے کا اہل نہیں ہوگا۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔

جواب چھوڑ دیں