امریکہ کے خلاف ہماری تیاریاں؟

حالات اچھے نہیں اور آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے اس کا اندازہ ہر پاکستانی کو خوب اچھی طرح ہے لیکن اس کے باوجود ہر وہ ادارہ جو اس کا سدباب کر سکتا ہے، حکومت ، سیاسی پارٹیاں، مذہبی گروہ اور ان کے سربراہان کی ایسے نازک وقت میں جو ذمہ داریاں بنتی ہیں یا ہونی چاہییں، ویسا کچھ ہوتا کہیں نظر نہیں آرہا۔ عام لوگوں کی زندگی میں کوئی ہلچل یا خاص افراد میں کسی قسم کا بھونچال نظر نہیں آرہا۔ اگر ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو ہر فرد یہ خیال کر رہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے جو دھمکیاں مل رہی ہیں وہ محض گیدڑ بھپکیاں ہیںیا سمندر کا طوفان ہے جو جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔
ایک جانب ہر روز امریکہ کی جانب سے کوئی نہ کوئی قدم پاکستان کے خلاف اٹھایا جارہا ہے لیکن دوسری جانب ایسا لگ رہا ہے جیسے امریکہ کے اٹھائے جانے والے اقدامات ایک مذاق ہیں اور جونہی صدرِ امریکہ ’’ٹرمپ‘‘ کا موڈ مذاق سے سنجیدگی میں تبدیل ہوگا وہ معذرت خواہانہ اندازمیں ہنستے مسکراتے پاکستان کو اپنے گلے لگا لیں گے اور امداد کیلئے امریکہ کے خزانوں کی ساری چابیاں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیں گے۔
ٹی وی چینلوں پر بیٹھے اینکرز حضرات، ٹاک شوز میں مدعو کئے جانے والے مہمانان گرامی، کالم نگار، مبصریں اور تجزیہ کاروں کی گفتگو اور سیاسی، مذہبی اور حکومتی نمائندوں کی باتیں سنی جائیں تو ہر فرد اس نازک موڑ پر غیرسنجیدہ باتیں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ کی باتیں تو اس لائق ہی نہیں ہوتیں کہ ان کو ہواؤں اور فضاوں کے حوالے کیا جائے۔ سب سے غیر سنجیدہ بات جو محسوس کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ اب تک کی جانے والی باتوں میں مشترک بات یہی ہے کہ امریکہ کی امداد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور ہمیں خود بڑھ کر یہ کہہ دینا چاہیے کہ ہمیں آپ کی امداد نہیں چاہیے۔ یہ بات سننے والوں کے کانوں کو بیشک بہت بھلی لگتیں ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوداری اور غیرت کا یہی تقاضہ ہے کہ اب تک امریکہ نے جتنی بھی رقم ہمیں دی ہے وہ ساری کی ساری ہم اس کے منھ پر دے ماریں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں؟۔ یہ وہی بات ہے جو مرزاغالب نے ایسے ہی حالات میں اپنے لئے کچھ اس طرح کہی تھی کہ
مفت کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اللہ کرے کہ ہم امداد کی بجائے پیٹ پر پتھر باندھنے کو ترجیح دینے کیلئے تیار ہوجائیں اور عزت و وقار کی زندگی گزارنے کا عزم کریں لیکن ایساکچھ دکھائی نہیں دے رہا بلکہ اس کے بر عکس ہم میں سے کوئی بھی اپنی موجودہ حالت میں ذرا بھی تبدیلی لانے اور سنجیدگی اختیار کرنے کیلئے تیار ہی نظر نہیں آتا۔
ٹی وی اور اخبارات میں اس بات پر تو بہت شور سنائی دے رہا ہے کہ ہم اپنا کشکول توڑ دیں لیکن غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کسی ایک کونے سے بھی اس بات پر بحث نہیں کی جارہی کہ اگرہم امریکی امداد لینے سے اپنے آپ کے روک لیں تو کیا امریکہ اپنے ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے سے باز آجائے گا؟۔ کیا امداد لینے سے انکار کی صورت میں امریکہ اس الزام کو واپس لے لے گا کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہیں دیتا ہے، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود ہے، پاکستان اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کرتا ہے اور اقلیتیں یہاں غیر محفوظ ہیں، یہاں آزادی رائے کا احترام پایا جاتا ہے، ہر شخص کو اظہار رائے کا پورا پورا اختیار ہے اور اس کے مطلوب افراد یہاں پناہ لئے ہوئے نہیں؟۔ معاملہ صرف امداد بند کئے جانے یا بحال کئے جانے کا نہیں ’’ڈومور‘‘ کا بھی ہے لیکن پاکستان میں ہر سطح پر ایک ہی بات کی جارہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں امداد نہیں چاہیے اور اگر امریکہ امداد روکنا چاہتا ہے تو روک لے ہم بنا امداد بھی گزارا کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر طاقت اپنی طاقت، طاقت کے استعمال سے قبل طاقت کے استعمال کرنے کا کوئی نہ کوئی معقول بہانا چاہتی ہے۔ پہلے اس بہانے کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرتی ہیں، اپنے لئے فضا بناتی ہے اور میدان تیار کرتی ہے تب کہیں جاکر طاقت کا استعمال عمل میں آتا ہے۔ عراق سے مطالبہ تھا صدام کو ہٹاؤ اور کیمیکل ہتھیار تلف کرو۔ افغانستان سے کہا تھا اسامہ کو ہمارے حوالے کردو اور اب پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کے حوالے سے مطالبات کی ایک طویل فہرست ہے۔ امریکہ ابھی اسی پر کام کررہا ہے، جواز ڈھونڈ رہا ہے، گراونڈ تیار کر رہا ہے اور دنیا کو قائل کرنا چاہ رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں دہشتگرد نہ صرف پناہ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ اس میں پاکستان کی حکومت اور ایجنسیاں بھی ملوث ہیں۔ وہ دنیا کو یہ بھی باور کرانا چاہ رہا ہے کہ بات صرف پناہ لے لئے جانے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ دہشتگرد یہاں منظم ہوکر امریکی مفادات کو افغانستان میں نقصان پہچانے کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ جو امداد ہم پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دیتے ہیں وہ اس کو دہشت گردی کے فرغ کیلئے استعمال کرتا ہے۔ مسلمانوں کا دنیا میں ویسے بھی کون دوست ہے اسی لئے پوری دنیا کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔ ہم چین کو اپنا ہمدرد تصور کئے ہوئے ہیں لیکن کیا وہ اپنے مفادات کے حصول سے آگے بڑھ کربھی کوئی قدم اٹھائے گا؟۔ اگر پوری دنیا میں ہمارا نہایت سنجیدہ کوئی دوست ہے تو وہ صرف ترکی ہے لیکن ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ اس پوزیشن میں ہے کہ عملاً ہمارے لئے بہت آگے تک جا سکے۔
جنگ کسی ملک کیلئے بھی اچھی نہیں ہوتی اور یہ ایک ایسی آزمائش ہے جس کو خود کبھی طلب نہیں کرنا چاہیے البتہ اگر مسلط کردی جائے تو اس کا پامردی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ عسکری امداد بند کیا جانا اور اس کے چند دن بعد سیکیورٹی کی مد پر بھی قدغن لگادینے کا اعلان دباو کو بڑھانے کے علاوہ اور کوئی بات نہیں۔ ان سب پابندیوں کا مقصد آپ سے اپنی بات منوانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
ایک جانب صورت حال یہ ہے کہ ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سنا رہا ہوتا ہے اور چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس سے قبل کہ صورت حال سنگین سے سنگین تر ہوجائے، اس کی جو بھی پیش بندی ہو سکتی ہے کرلی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی صورت حال کا مقابلہ کیا جاسکے لیکن کم از کم مجھے کسی بھی سطح پر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ممکن ہے کہ امریکہ کوئی ایسی کارروائی نہ کرے جس کو جنگی کارروائی سمجھا جائے لیکن کیا ایسا ممکن نہیں؟۔
ٹرمپ نے الیکشن مہم میں قوم کے سامنے جو جو باتیں کی تھیں، الیکشن جیتنے کے فوراً بعد وہ ان باتوں اور وعدوں کے مطابق گامزن ہے اس لئے یہ خیال کرلینا کہ وہ پاکستان کے خلاف کس جنگی کارروائی سے اجتناب کریگا، غلط سوچ ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جب عملاً کچھ غلط ہوجائے تب غور کیا جائے؟۔ عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ گمان کو بھی یقین سمجھ کر ہر اس قدم کو اٹھالیا جائے جو کسی بھی جنگ کیلئے اٹھائے جاسکتے ہوں ورنہ ممکن ہے کہ کسی بھی قسم کے اقدامات اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہوجائے۔
ایک جانب جب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کے عوام ایک قوم بن جائیں، ہم تانگے کے وہ سوار بنے ہوئے ہیں جو منزل کی جانب گامزن تو ہوتے ہیں لیکن منزل سے پشت کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ادارے، حکومت، سیاسی پارٹیاں، مذہبی گروہ اور ان کے رہنما، اس بات کا شور تو مچا رہے ہیں کہ ہمیں ایسے موقعہ پر یک دل یک جان ہوجانا چاہیے لیکن ہو کیا رہا ہے اس پر ایک نظر ڈال لینے میں کوئی حرج نہیں۔
’’بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع۔حکومت سندھ ایک بار پھر آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے متحرک۔لاڈلے کی ضمانت نہیں ہوگی تو پھر کس کی ہوگی۔اگرسیاسی جماعتوں کو توڑنے، سول حکمرانوں کو بر طرف کرنے اور لاڈلوں کو اوپر لانے کا سلسلہ نہیں روکا گیا تو میں سارے راز افشاں کر دونگا۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا جائے۔ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے سے قبل استصواب رائے کے ذریعے وہاں کے عوام سے رائے طلب کی جائے۔پاکستان کی بنیادیں فوجی ڈکٹیٹروں نے کھودکر رکھ دی ہیں، آئی ایس پی آر کا ترجمان سول حکومت پر حملہ آور ہے۔ سعودی عرب سے واپسی پر نواز شریف سیکیورٹی رسک بن گئے ہیں۔جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ۔نواز شریف کے خلاف سعودی شہزادوں نے کرپشن کے ثبوت فراہم کر دیئے‘‘۔
ان سارے بیانات کو سامنے رکھ کر اگر پھر بھی کوئی یہ کہے کہ مشکل وقت میں پاکستان کے سارے عوام، سارے رہبران اورساری سیاسی پارٹیاں موجودہ صورت حال میں سنجیدہ ہیں اور ملک کی سلامتی کیلئے ایک پیج پر موجود ہیں تو یہ بات ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر قسم کی غیر سنجیدگی اور سیاست سے بالاتر ہو کر ملک اور ملک کے دفاع کیلئے سوچا جائے۔ حکومت کو گرانے کی، اس کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششوں کو ترک کرکے آنے والے مشکل اور کٹھن وقت سے نبر آزما ہونے کیلئے قوم کو تیار کیا جائے۔ دشمن صرف ہماری سرحدوں کے پار ہی ہمیں تباہ و برباد کرنے کیلئے دانت تیز کئے نہیں بیٹھا، اندر بھی بیشمار دشمن ہیں جو کسی بھی عدم استحکام پیدا ہونے کی صورت میں نکل کھڑے ہونگے اور اللہ نہ کرے کہ ایسا ہوگیا تو ممکن ہے باہر کے دشمن کو اندر آنے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے۔ وقت پکار پکار کر کہہ رہ رہا ہے کہ ایک ہوجاؤ ورنہ ایک ایک کرکے مار دیئے جاوگے۔ ہر پاکستانی اور پاکستان کے ہر ادارے کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی اناؤں کے بت کو پاش پاش کرکے پورے پاکستان کو لیاقت علی خان کا مکہ بنا دے تاکہ دشمن کے دانت اچھی طرح کھٹے کئے جا سکیں۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں