صحت مند عادتوں کی تشکیل اور فروغ میں اساتذہ کا کردار

تعلیم اور تربیت معاشرے کا ایک جزو لاینفک ہے ۔تمام انسانی تمدن کی بنیادیں تعلیم و تربیت پر ہی ٹکی ہوتی ہیں۔تعلیم و تربیت میں فلسفہ کی جو بھی اہمیت ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن نفسیات کے اعتبار سے تعلیم و تربیت کا مقصد انسانوں میں خاطر خواہ مفید تبدیلیوں کو جا گزیں کر نا ہوتا ہے۔بچپن انسانی زندگی کا ایک اہم دورہو تا ہے جہا ں ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ابتدائی عمر میں اگر بہتر تعلیم و تربیت کے مواقع بچوں کو فراہم کئے جائیں تو وہ ایک باوقار اور کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بن جا تے ہیں۔برخلاف اس کے نا قص تعلیم و تربیت،اور غیر صحت مند عادتیں اور مشاغل کی بنا ء بچوں کی زندگی تباہی کے دہانے تک پہنچ جا تی ہے اور ان کی کامیابی کے امکانا ت بھی موہوم ہوجا تے ہیں۔
اسکول بچے کی معاشرتی نشوو نما میں ایک کلیدی حیثیت کا حامل ادارہ ہوتا ہے جہاں بچہ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے عادات و اطوار کو نہ صرف قبول کر تا ہے بلکہ یہ وہ مقدس مقام ہے جہا ں مردم سازی کا کام انجام دیا جا تا ہے۔صحت مند عادات و طور طریقوں کی بنیادیں چھ تا بارہ بر س کی عمر میں استوار کی جا تی ہیں۔ اسی لئے اس عمر میں بچوں کو صحت مند ماحول کی فراہمی اشد لازمی تصور کی جاتی ہے۔چھ سے بارہ سال کی نوخیز عمر میں بچوں میں اکثر کاہلی،خودغرضی،نافرمانی،خطرناک شرارتیں،حیلے و بہانے بازی،جیسی عادات کے جڑ پکڑنے کے قوی امکانات پائے جا تے ہیں۔اس عمر میں اکثر بچے اسکول ،جماعت اور محلے کے چند مخصوص ساتھیوں کا انتخاب کر لیتے ہیں اور ان کی صحبت میں طرح طرح کی شرارتوں سے لطف حاصل کر تے ہیں تعلیم کو سخت بوجھ سمجھتے ہیں اور اس سے فرار کا راستہ تلاش کر تے ہیں کیونکہ ان کو پڑھائی میں تکلیف اور کھیل و تفریح میں لذت حا صل ہوتی ہے۔بچپن کی یہ معصوم گروہ بندیا ں بعض اوقات خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہیں اور مجرمانہ افعال کی انجام دہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔اسی لئے والدین خاص طور پر اساتذہ پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ میں گروہ بندی جیسے مہلک عادت کے سدباب کے لئے ان پر کڑی نظر رکھیں اور مناسب تربیت کا اہتمام کر یں۔اساتذہ کو چاہئے کہ وہ درس و تدریس کے علاوہ باضابطہ غیر نصابی سرگرمیوں جیسے کھیل کود ادبی بحث و مباحث کا انعقاد عمل میں لائیں جس سے بچوں میں دوسروں کے افکار و دلائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات پیش کر نے اور ان میں مناسب ترمیم و اصلاح کا سلیقہ پیدا ہوگا۔
بچے اس عمر میں کئی ایسی عادتیں سیکھ لیتے ہیں جو اگر غلط راہ پا جائے تو بعد میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔بچہ ہر اس حرکت کو دہرا تا ہے جس سے اس کو لذت حاصل ہو۔لذت کا یہی احساس عادت کی بنیاد بنتا ہے۔اسی لئے اساتذہ کی یہ قوی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسا ما حول فراہم کر یں جن میں بچوں کو اچھا کام کر نے میں خوشی اور ہر بر ی عادت پر کوفت محسوس ہو۔ ماہرین نفسیات نے عادات و جذبات کی عمومی تربیت کے لئے تصعید ،ضبط جذبات اور مصروفیات جیسی اصطلاحات کا استعمال کیا ہے۔
تصعیدکسی بھی فطری رجحان کو منفی جذبات سے بلند مقاصد کی جانب مبذول کروانے کا نا م ہے۔مثلا بچے کا غصہ ہونا ایک فطری امر ہے لیکن اس توانائی کو فتنہ و فساد کے بجائے تعمیر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جس کو ماہرین نفسیات نے تصعید سے تعبیر کیا ہے ۔اسی طر ح ایک کامیاب اور متوازن زندگی کے لئے بچوں میں ضبط جذبات کی تربیت بہت ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔انسانی مصروفیت سے اس کے حال اور مستقبل کا بخوبی اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔جب انسان کو فارغ وقت میسر آتا ہے عموما اس وقت جذبات شور و غوغا مچاتے ہیں۔اسی لئے بچوں کو جذباتی ہیجان یا فتنہ و فساد سے محفوظ رکھنے کے لئے انہیں فارغ اوقات میں دلچسپ اور تعمیر ی مشاغل میں منہمک رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ایک استاد پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدین سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے نے استاد کو صرف ایک ادنی اقتصادی اور معاشرتی مقام دے کر انتہائی ظلم کیا ہے۔لیکن ایک فرض شناس استاد اپنی زیادتی کا بدلہ اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت سے غفلت برت کر نہیں لے سکتا کیونکہ یہ ایک نہایت سنگین اخلاقی جر م ہے۔ بچوں میں وقت کی تنظیم اور قدر شناسی کی عادت کو فروغ دینا ضروری ہوتا ہے تا کہ وہ اپنے افعال کو وقت پر انجام دینے کے قابل ہوسکیں نشست و بر خاست کے طریقے سونے جاگنے کی بنیادی جسمانی عادتیں بچے کو زندگی چند مہینوں میں ہی پڑجاتی ہیں آگے صرف ان عادتوں کو مستحکم کر نا ہوتا ہے۔ان امور کی تربیت کے دوران یہ خیال رکھناضروری ہوتا ہے کہ بچے اس تربیت سے کسی قسم کا بوجھ دباؤ یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہونے پائیں کیونکہ بچوں کی آئندہ ذہنی اور جسمانی صحت کا انحصار انہی اولین عادات کے مناسب نشوو نما پر منحصر ہوتا ہے۔اگر بچہ ایسے ماحول میں پرورش پاتا ہے جہاں وقت کی پابندی اساتذہ اور والدین کے نرمی سے سمجھانے کے طریقے اور مناسب کام کو مناسب انداز میں انجام دینے کا رواج ہو تو بچوں کے بر ی عادتوں میں گرفتار ہونے کا اندیشہ بہت کم ہوجاتا ہے۔بہت زیادہ نگرانی ،ہرکام میں بچوں کی بیجا مدد کرنے اور ہر خواہش کو پورا کردینے سے بھی بچوں کی عادتیں خراب ہوجاتی ہیں۔بری عادتوں کی اصلاح کا مناسب وقت بچپن ہی کا زمانہ ہے عادت اگرپختہ ہوجائے تو اس کا چھو ڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اسی لئے بہت احتیاط برتنی چاہئے کہ بچے اچھی عادتیں سکھیں اگر وہ بری عادتوں کے چنگل میں پھنس بھی جا ئیں تو اصلاحی فرائض سے غفلت یا اصلاح کے غلط طریقے اختیار کر نے کے بجائے پیار و محبت سے بچوں کو سمجھانا چاہیئے۔عادات میں جب حسن پیدا ہوتا ہے تو زندگی میں رفتہ رفتہ اعتدال آتا ہے توازن کی منزل ملتی ہے مقصد حیات سے آشنائی ہوجاتی ہے مقصد سے آشنائی منزل کا شعور ہی نہیں بخشتی ہے بلکہ منزل تک پہنچا بھی دیتی ہے۔درحقیقت عادات و اطوار ہی وہ قوت ہیں جو تقدیر کے سربستہ راز کو منکشف کر سکتے ہیں اور زندگی کے لمحہء گزراں کو ابدیت عطاکر سکتے ہیں۔
اساتذہ صرف طلبہ کی تعلیمی اکتساب کی منصوبہ بندی پر اکتفاء نہ کریں بلکہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ان میں ایسی عادتوں اور استعداددوں کو فروغ دیں جو ان کے مستقبل میں مدد گار ثابت ہوں۔ صحت مند عادات کی استواری سے نہ صرف تعلیمی اور اکتسابی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتاہے بلکہ بچوں میں نا مساعد حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔انسان فطری طور پر مختلف عادتوں کا خوگر ہوتا ہے اور جب آدمی کسی بھی کام کو مسلسل انجام دیتا ہے تو وہ کام اس کے لئے بہت ہی آسان اور سہل ہوجاتا ہے جسے کر نے سے اس کو دقت اور پریشانی کے بجائے ایک گوناگوں خوشی اور آسودگی حا صل ہوتی ہے۔کسی کام کو لگاتار کرتے رہنے سے انسان کے لئے اس کام کو کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ اچھی عادتوں کی تشکیل کے ذریعہ انسان کی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں تعلیم کا بنیادی وصف بھی یہی ہے کہ طلبہ میں پسندیدہ اور اچھی عادتوں کو فروغ دیا جا ئے جو ان کی زندگی کو خوش گوار اور آرام دہ بنادے۔عادتیں وہ شعوری فیصلوں اور افعال کے مجموعہ کا نام ہے جو ایک دوسرے سے باہم مل کر انسانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ آسودگی وہ بنیادی عنصر ہے جو عادت کو زندگی کا جزولاینفک بنادیتا ہے۔ مضر نا پسندیدہ نقصاندہ عادتوں کو لگاتار سعی و کاوش کے ذریعہ تبدیل کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعہ زندگی معتبر اور با مقصد اور با وقار انداز میں بسر کی جا سکتی ہے۔مدرسہ وہ ادارہ ہوتا ہے جہاں طلباء کو ان کی آنیوالی زندگی سے روشناس کروانے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جا تا ہے۔ ان سنگ بستہ عمارات میں اساتذہ کے دم سے زندگی دوڑتی پھرتی نظر آتی ہے ۔جہاں صرف لفظیات شناسی کا کام انجام دیا جا تا ہے اس کو مدرسہ نہیں کہا جاسکتاہے ۔مدرسہ تو طلباء کو علم سے بہرور کر نے کے علاوہ تعلیم و تربیت کے جو ہر سے متصف کر تے والا ادارہ ہوتا ہے جو ادارہ یہ اوصاف اپنے میں نہیں رکھتا وہ مدرسہ کہلانے کاحق بھی نہیں رکھتا ۔
مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر نے کے اہل نہیں ہوتے اور ان کو اچھائی اور برائی کا بھی علم نہیں ہوتا ہے۔ اساتذہ طلبہ کو اچھائی اور برائی میں امتیاز کر نے کے لائق بناتے ہیں دراصل یہی خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت کردار کی کسوٹی قرار پاتی ہے۔ در حقیقت کردار مجموعی طورپر عادتوں کے مجموعہ کا نام ہے انسان میں اچھی اور بر ی ددنوں بھی عادتیں پائی جا تی ہیں۔ اچھے کردار کے معنی یہ نہیں ہے کہ بری عادتیں انسان میں مفقود ہوگئی ہیں یا بالکل معدوم ہوچکی ہیں بلکہ بر ی عادتوں پر اچھی عادتوں کے غلبہ کو بہتر کردار سے تعبیر کیا جا تا ہے۔اساتذہ کا کام طلبہ کی تعلیمی منصوبہ بندی کے علاوہ اچھی عادتوں کی تشکیل کے لئے اساس فراہم کر نا بھی ہو تا ہے۔طلبہ میں اکثر عادتیں اور برتاؤ کی تبدیلی کا موجب صحبت اور ماحول ہو تا ہے۔ ایک لائق استاد ان عناصر کا علم رکھتے ہوئے اسکول میں پسندیدہ ما حول جو کہ اچھی عادات کے فروغ میں ممدو معاون ہو فراہم کر ے اور ایسے ما حول کے لئے ساز گار فضاء ہموار کر ے تا کہ طلبہ میں اچھی پسندیدہ عادتوں کی تشکیل انجام پائے اور وہ اپنی زندگی با وقار انداز میں گزارنے کے قابل بن سکے۔
طلبہ میں پا ئے جا نے والی اچھی عادتوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے ان کو پائیدار بنانے کے لئے Habit fostering strategies کو بروئے کار لانا اشد ضروری ہوتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر عادتیں بچپن میں بنتی ہیں اسی لئے اسکول اور اساتذہ کے کندھوں پر اہم ذمہ داری عا ئد ہو تی ہے کہ وہ طلبہ میں اچھی عادتوں کی تشکیل اورفروغ میں مددگار بنیں۔اساتذہ پر بچوں میں اچھی عادت سازی کی ذمہ داری اس لئے بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ
( 1)طلبہ پسندیدہ اور غیر پسندیدہ عادتوں کے درمیان تمیزی صلاحیت نہیں رکھتے ۔
(2)طلبہ اچھی عادتوں کی آگہی نہیں رکھتے اور عادتوں کے فروغ کے عمل سے بھی نا واقف ہوتے ہیں۔
(3)طلبہ عادات کی تشکیل اور اس کے فروغ کی مہارتوں سے بھی نا واقف ہوتے ہیں اسی لئے ان امور میں اساتذہ کی رہبری رہنمائی اور تربیت طلباء کے لئے ایک نعمت کا درجہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے اساتذہ کی اہمیت و عظمت اور بڑھ جا تی ہے۔
ٍ طلبہ میں عادتوں کی تشکیل اور فروغ کے لئے اساتذہ کو صبر و استقلال سے کام لینا ضروری ہوتا ہے۔عادتیں کیسے تشکیل پا تی ہیں اور بری عادتوں سے کس طرح بچایا جا سکتا ہے اور پسندیدہ عادتوں کو کس طرح سے فروغ دیا جا سکتاہے ان علوم اور مہارتوں سے اساتذہ کا متصف ہوناضروری ہو تا ہے تاکہ طلبہ کی رہبری و رہنمائی کے فرائض وہ بہتر طریقے سے انجام دے سکے۔اچھی اور پسندیدہ عادتوں کو اپنانے سے طلبہ کی شخصیت نکھر جا تی ہے۔اور ان کی کامیابی کا فیصدبڑھ جاتا ہے۔طلبہ کا برتاؤ عادتوں کے بننے میں مددگار ہوتا ہے ۔پسندیدہ عادتوں کے فروغ کے لئے در سی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عادات سازی کی منصوبہ بندی بھی اساتذہ کے لئے لازمی ہوتی ہے ۔بعض عادتیں ابتدائی مراحل میں مخفی رہتی ہیں لیکن جب تک وہ ظاہر ہوتی ہیں تب تک وہ راسخ ہو جاتی ہیں اور اس کا علم بھی جب ہوتا ہے جب یہ جڑ پکڑ لیتی ہے۔غیر پسندیدہ برتاؤ یا عادت کی تبدیلی کے لئے طلبہ میں اندورنی محرکہ پیدا کرنا لازمی ہو تا ہے اسی وجہ سے استاد کاطلبہ باہمی تال میل، دلچسپی، طریقہ کار اور مثبت رہنمائی طلبہ کی ذہن سازی اور کردار سازی میں کلیدی کردار انجام دیتی ہیں۔ طلبہ کو مناسب ماحول و مواقع فراہم کیئے بغیر صرف خراب اور بری عادتوں کے متعلق اطلاعات فراہم کر نا بے سود ہوتا ہے۔ بر ی عادتوں کی تبدیلی کے لئے سازگار ماحول اور عملی تربیت لازمی ہوتی ہے۔پسندیدہ اور اچھی عادتوں کو اس طرح سے جمایا جا ئے کہ بر ی عادتیں اپنے آپ ہی طلبہ سے رخصت ہوجائے۔اساتذہ اچھی عادتوں کی عملی تربیت کو دلچسپ اور آسان بنائیں تا کہ طلبہ بر ی عادتوں میں دلچسپی لینے اور ان کو اپنانے میں بے چینی و اضطراب محسوس کریں۔ایک استاد اپنی حکمت عملی کے ذریعہ کئی بری عادتوں کو باآسانی طلبہ کی ذات سے نکال پھینکنے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ جذبات پر عدم قابو ناقص رہنمائی اور خراب ماحول وغیرہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے طلباء میں خراب اور نا پسندیدہ عادتیں قائم ہوجاتی ہیں ۔
زندگی کے لئے سود مند عادات کو طلبہ کے ذہنوں میں پیوست کر نے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں فکر و تدبر (سوچنے کی صلاحیت) ،تجزیہ نگاری،اچھی سماعت اور خود کار مطالعہ کی عادت کو فروغ دیں ۔یہ اوصاف طلبہ کی نہ صرف تعلیمی کارکردگی کوپر اثر بنائیں گے بلکہ ان میں خود انضباط (Selfdisciplin) کی کیفیت اپنے آپ پیداہوجائے گی۔طلبہ کی ترقی،صحت ،مہارت اور سکون و اطمینان فی الحققیت وقت کے ساتھ ساتھ قائم ہونے والی عادات پر منحصر ہوتا ہے۔عادتیں شخصیت کی غماز ہوتی ہیں اسی لئے اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ عادتوں کی تشکیل اور اس کے اپنانے میں طلباء میں لازمی شعور پیدا کریں تاکہ طلبہ کی شخصیت مجروح نہ ہوں اور وہ ملک و قوم کے لئے ایک بوجھ نہ بن پائیں۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں