زندہ و متحرک کمرۂ جماعت

روئے زمین پر ہوا،پانی اور غذا کی طرح تعلیم بھی انسانی زندگی کے لئے بے حد اہم ہے۔تعلیم کے ذریعے انسان معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے لائق ہوتا ہے۔اکتساب اور آموزش میں ماحول کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔تعلیمی اداروں(اسکولس) کا طلبہ کی نفسیات پر بہت گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔طلبہ کی شخصیت کی تعمیر میٖں اسکول کا ماحول،اساتذہ کا رویہ اور نصاب تعلیم اہم کردار انجام دیتے ہیں۔ طلبہ میں اکتسابی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اسکول اور بالخصوص کمرۂ جماعت کا اکتسابی ماحول کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔بڑی حد تک طلبہ کی اکتسابی کامیابی کا دارومدار کمرۂ جماعت کے تعلیمی ماحول پر منحصر ہوتا ہے۔درس و تدریس کے جذبے سے سرشاراساتذہ،موثر اکتساب کے فروغ کے لئے کمرۂ جماعت کے اکتسابی ماحول کو اپنے تبحر علمی،تدریسی تجربات اور مہارتوں کے ذریعے پرکیف اور زندہ بنادیتے ہیں۔ اکثر اساتذہ اور ،ذمہ داران مدارس تعلیمی نصاب کی تکمیل کے تعاقب میں کمرۂ جماعت کے اکتسابی ماحول کو زندہ،دلچسپ اور تخلیقیت سے بھر پور بنانے میں بہت کم وقت صرف کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے ایک کارآمد اور کامیاب اکتساب پروان چڑھنے سے قاصر رہتا ہے۔کمرۂ جماعت میں بہتر اور مثالی اکتسابی ماحول کی عدم موجودگی کے باعث طلبہ بے چینی ، اضطراب اور عدم دلچسپی کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اکتسابی صلاحیتیں ٹھٹھر کر رہ جاتی ہیں۔کمرۂ جماعت کے غیر آرام دہ، غیر فطر ی اور غیر اکتسابی ماحول کی وجہ سے طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ان میں اکتساب کی نمو و شرح گرنے لگتی ہے۔کمرۂ جماعت کا غیر اکتسابی ماحول طلبہ کی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھنے نہیں دیتا ۔کمرۂ جماعت کا غیر فطری ماحول طلبہ کی اکتسابی صلاحیتوں کی نمومیں تحدیدی کردار ادا کرتا ہے۔جب طلبہ کمرۂ جماعت کے ماحول کو غیر آرام دہ اور غیر دلچسپ محسوس کرنے لگتے ہیں تب انھیں اکتساب کی جانب گامزن رکھنے والا ان کا فطری تجسس ختم ہوجاتا ہے اور تحریک و رغبت کا جذبہ بھی سرد پڑجاتا ہے۔اپنے پیشے سے لگاؤ رکھنے والا استادسازگار اکتسابی ماحول کے زیر اثربہتر تدریسی مواد اور طلبہ کے درمیان ربط باہم پیدا کرتے ہوئے زندگی بھر جاری رہنے والے اکتساب کی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔
تعلیمی شعبے کے سب سے بڑے شراکت دار (Stake Holder) طلبہ ہوتے ہیں۔لیکن تعلیمی شعبے میں سب سے زیادہ نظرانداز کئے جانے والے بھی طلبہ ہی ہیں۔ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ کے میلانات ،رجحانات ،مزاج اور تعلیمی و اکتسابی ضرورتوں کا کوئی خاص خیال نہیں رکھاجاتا۔شرارتی اور سست روطلبہ کے لئے ہمارے اسکولوں کا دامن نہایت ہی تنگ ہے بلکہ ہماراتعلیمی نظام ایسے طلبہ کو قبول کرنے تک کا متحمل نہیں ہے۔ہمارے اسکولوں کا ذہانت اور پھسڈی پن پر مبنی طلبہ کی تقسیم کا کلیہ نہایت ہی ظالمانہ معلوم ہوتا ہے۔پڑھنے لکھنے میں خاص طور پر ریاضی میں مہارت کے حامل طالب علم کو ذہین قرار دیا جاتا ہے جب کہ ریاضی کے برخلاف دیگر مضامین میں قابلیت کے حامل ،لکھنے پڑھنے میں کسی قدر کمزور طالب علم کو کند ذہن کہاجاتا ہے۔ذہانت کی تعریف کا یہ کلیہ اپنی تنگ نظری کے باعث ماہرین تعلیم کے نزدیک آج تکقبولیت کادرجہ حاصل نہیں کر سکا۔ہمارے اسکول اور کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب ایسی ہوتی ہے جہاں دل کش و پرکیف اکتساب اور موثر درس و تدریس بہت ہی مشکل ہے۔ موثر اکتساب کی فراہمی آج اساتذہ کی ترجیح اس لئے بھی نہیں رہی کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا پیمانہ نمبر اور گریڈبن گئے ہیں۔اسکول اور کمرۂ جماعت کا ماحول موثر اکتساب اور تخلیقی جذبے کو پروان چڑھانے میں مانع ہے۔کمرۂ جماعت کا بھدا،بھونڈا اور بے رونق پیڑن (ترتیب ) پراثر و پر کیف تعلیمی ماحولپیدا کرنے میں یکسر ناکام ہوگیا ہے۔
اسکولز تعلیم و تربیت اور درس واکتساب کی فراہمی کے دعویدار ادارے ہیں اسی لئے ان پر بچوں کی ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے۔ بچوں کی تربیت ، ترسیل علم و اکتساب میں اسکول خاص طور پر کمرۂ جماعت کا بڑا عمل دخل ہوتاہے۔ا سکول کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کی اکتسابی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون اکتسابی ماحول کو اپنے ادار ے اور ہر کمرۂ جماعت کا لازمی حصہ بنائیں۔ذمہ داران و منتظمین مدارس اسکول اور کمرۂ جماعت کے ماحول کو طلبہ کی فطرت سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کریں۔اکتساب کی شرح ہر طالب علم میں کم اور زیادہ پائی جاتی ہے اور اکتساب کا راست تعلق ماحول ،اساتذہ اور تدریسی مواد سے جڑا ہوتا ہے۔غیرتعلیمی ماحول میں طلبہ اپنے اکتساب کو برقرار نہیں رکھ پاتے ۔طلبہ میں اکتساب کی برقراری کے لئے سب سے پہلے اسکول اور کمرۂ جماعت کے ماحول کو دلچسپ اور تخلیقی نوعیت کا بنانا ضروری ہوتا ہے۔ موثر کارآمد اور نتیجہ خیز اکتساب کے لئے کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ دوست ہونا چاہئے جہاں طلبہ بلا خوف و خطراپنے اکتساب کو پروان چڑھا سکیں۔ طلبہ مرکوز کمرۂ جماعت کی چند خصوصیات کو ذیل میں پیش کیا گیا ہے جو موثر اکتساب کے فروغ میں نہایت کارگرثابت ہوئی ہیں۔
(1 کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ میں اکتساب سے رغبت و تحریک پیدا کرنے کے ساتھ اکتساب کو دلچسپ اور پرکیف بنادیتا ہے۔طلبہ اکتسا ب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
(2)کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ میں ایسی اکتسابی مہارتوں کے فروغ کا باعث بنتا ہے جس کے زیر اثر اکتساب (سیکھنا ) ان کے لئے آسان اور نہایت ہی مسرت انگیز عملبن جاتا ہے۔
(3) طلبہ مرکوزکمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ کو اکتسابی (سیکھنے)وقت کی قدردانی کا خوگر بناتا ہے۔کمرۂ جماعت کا صحت مند تدریسی ماحول طلبہ کو اکستابی اوقات کونفع بخش اور کارآمد بنانے پر مائل کرتا ہے۔
(4)طلبہ مرکوز کمرۂ جماعت طلبہ میں اکتساب( سیکھنے) کا احساس پیدا کرتے ہوئے انھیں سخت محنت اور اطمینان بخش تجربات کی روشنی میں اکتساب کو جاری رکھنے کی ترغیب فراہم کرتا ہے۔
(5)طلبہ مرکوز کمرۂ جماعت طلبہ کو اپنے تدریسی مواد کو ایک دوسرے سے شیئرکر تے ہوئے اجتماعی اکتساب( مل جھل کر سیکھنے)کا جذبہ و تحریک پیدا کرتا ہے۔
(6) مرۂ جماعت کا ماحول کنٹرول نظم و ضبط کو فروغ دیتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ میں احساس تحفظ و طمانیت کی کیفیت پروان چڑھتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوران اکتساب آزادانہ طور پر سوال و جواب اور گفت و شنید کی روش اختیار کرنے لگتے ہیں۔
(7)کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ کو درس و اکتساب میں فعال شمولیت کا موقع فراہم کرنے علاوہ مقرر کردہ اہداف کی سمت پیش قدمی اور ان کے حصول کو یقینی بناتا ہے۔
طلبہ میں اکتساب و ان کی اکتسابی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے اساتذہ اپنا قیمتی وقت نکالیں ، منصوبہ بندی اور حکمت عملیاں وضع کریں تاکہ ایک جامع موثر اور جاندار کمرۂ جماعت کو وجود میں لاسکیں۔ذیل میں چند ایسی تدابیر بیان کی جارہی ہیں جنھیں اپنا کر اساتذ ہ کمرۂ جماعت میں درس و تدریس کے لئے ساز گار اور کمرۂ جماعت میں اکتساب کے لئے مددگار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔
(1)اساتذ ہ طلبہ سے ایسا تعلق رکھیں جو ان میں اعتماد کی فضا پیدا کرے اور ان کے حوصلوں کو جلادے۔اساتذہ کا یہ عمل طلبہ میں نہ صرف ان کی توقیر و عزت افزائی کا باعث بنے گا بلکہ وہ استاد کے درس اور پند
و نصائح کو کان لگاکر سنیں گے اور عمل کرنے پر مائل ہوں گے۔
(2)منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور پروگرامس پر عمل آوری میں تمام طلبہ کی فعال شرکت کو اساتذہ یقینی بنائیں۔طلبہ کی آرا و تجاویز کی قدردانی سے نہ صرف وہ گرم جوشی سے تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے بلکہ ان کے برتاؤ اور اخلاق میں خوش گوار تبدیلیاں واقع ہوں گی اور کمرۂ جماعت میں وہ تخلیقی اور اختراعی آرا کی پیش کش میں تذبذ ب کا شکار نہیں ہوں گے۔
(3)طلبہ کو ان کے بہتر اکتساب کے لئے شعوری طور پر غور و فکر کرنے اور اکتسابی صلاحیتوں کو مہمیزکرنے والی مہارتوں کو سیکھنے کا گر سکھائیں تاکہ طلبہ کمرۂ جماعت میں بہترین اکتسا ب و تعلیم کو حاصل کرسکیں۔
(4)دوران تدریس طلبہ کو ان کی تعلیمی ترقی کے مظاہرہ کا موقع فراہم کریں۔اساتذہ کی جانب سے دوران تدریس طلبہ کی تعلیمی و اکتسابی ترقی کے اظہار کے لئے فراہم کردہ موقعوں سے طلبہ نہ صرف اپنی ترقی اور تعلیمی حالت سے واقف رہتے ہیں بلکہ اعلیٰ اہداف کے تعین میں انھیں مدد بھی ملتی ہے۔
(5)طلبہ میں پائے جانے والے انفرادی اکتسابی تفاوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اساتذہ ایسے تدابیر اختیار کریں جو طلبہ کی اکتسابی ضرورتو ں کی تکمیل میں معاون ہونے کہ ساتھ لچکدار ہو ں اور مختلف النوع تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کو ممکنبنا سکیں۔ طلبہ میں پائے جانے والے انفرادی تفاوت و تعلیمی صلاحیتوں کے حساب سے ان کی اکتسابی ضرروتوں کی تکمیل کی جاسکے۔
(6)طلبہ کو ذہنی طور پر نظم و ضبط کا عادی بنائیں تاکہ ان کے برتاؤ اور رویوں سے شائشتہ اور مہذب پن ظاہر ہو۔سماجی اقدار کے فروغ کے باعث طلبہ دوسروں کی قدر اور فکرمندی کے عادی ہوجاتے ہیں۔طلبہ میں تفریق پیدا کرنے والے عوامل و عناصر سے پرہیز کریں۔صرف مسابقتی جذبے کے فروغ کے لئے بچوں میں صحت مند مسابقت کو رواج دیں تاکہ ان کے مظاہروں میں بہتری پیدا کی جاسکے۔
(7)طلبہ کے اکتسابی جذبے کو فروغ دینے کے لئے ان کو مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہونے پر ابھاریں۔طلبہ کو کمرۂ جماعت میں تدریسی سرگرمیوں کی انجا م دہی کے دوران ان کو اپنا تعاون تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی ترغیب و تحریک کے ساتھ مناسب مواقع بھی فراہم کریں۔
(8)طلبہ کی نشستوں کو اس طرح ترتیب دیں کہ انھیں سیکھنے ،دیکھنے اور اپنا جواب و ردعمل پیش کرنے میں کوئی دقت نہ پیش آئے۔نشستوں کی ترتیب نہ صرف طلبہ کو آرام فراہم کرتی ہے بلکہ اکتساب کی نمو میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
(9)اساتذہ اپنے درس و تدریس اور منصوبہ سبق کو موثر اور دلچسپ بنائیں۔اساتذہ کی جانب سے استعمال کردہ طریقے تدریس اور تخلیقی و اختراعی تکنیک طلبہ میں اکتساب کے فروغ اور دلچسپی کی برقراری میں نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔خشک اور طلبہ کو افتادگی کی جانب مائل کرنے والے طریقے تدریس سے اجتناب کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
(10)اساتذہ طلبہ کی ہر مثبت سرگرمی کی ستائش کرتے ہوئے ان میں تحریک و رغبت کو پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔طلبہ کی تعریف ستائش سے ان میں احساس طمانیت پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی اکتسابی سرگرمیوں کو اور تیز کردیتے ہیں۔ استاد کاطلبہ کے بارے میں اپنی فکر مندی کا اظہار بھی ان میں تحریک و جذبہ پیدا کرتا ہے۔
(11)ہر طالب علم کو مخصوص تعلیمی سرگرمیاں تفویض کرتے ہوئے ان کے تعلیمی و اکتسابی مظاہرے کو مہمیز کیا جاسکتا ہے۔طلبہ کی تعلیمی و اکتسابی سرگرمیوں کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی سے وہ اپنے نقائص پر قابو پانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اکتساب کے بہتر طریقے اختیارکرنے لگتے ہیں۔
(12)استاد کی جانب سے کسی بھی قسم کی جانب داری اور طرفداری کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔ اساتذہ اپنے برتاؤ اور رویوں سے طلبہ میں مساوات اور برابری کے جذبے کو فروغ دیں۔
(13) طلبہ میں ایک دوسری کی مدد اور اشتراک سے جذبہ اکتساب کو فروغ دینے کی اساتذہ کوشش کریں۔خود غرضی اور مفاد پرستی کی خرابیوں کو اجاگر کریں۔جذبہ اتحاد باہمی اور تعاون کے فروغ کے لیئے طلبہ کو راغب کریں۔اساتذہ طلبہ میں گروہی سرگرمیوں کے ذریعہ اجتماعی اور مشترکہ اکتسابی ماحول کو فروغ دیں۔
اساتذہ ہر پل یہ بات یاد رکھیں کہ دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے۔اگر نئی نسل تخلیقی صلاحیتوں سے عاری ہوگی تب دنیا اسے روند کر گزر جائے گئی۔زمانے میں عزت و وقار کے لئے طلبہ کو علم و ہنر سے آراستہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہر طالب علم کے اکتساب کی شرح دوسرے طالب علم سے مختلف اور جداگانہ ہوتی ہے۔طلبہ میں پائے جانے والے تفاوت و تفریق کا لحاظ کرتے ہوئے اساتذہ اور منتظمین مدارس تدریسی سرگرمیوں کی انجام دہی کو ممکن بنائیں۔ اساتذہ معاشرے کے فریم کو گزند پہنچائے بغیر طلبہ کو زندگی بسر کرنے کے گر سکھائیں۔ دنیا کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ہی اپنی سرگرمیوں اور زندگی گزارنے کی تعلیم و تربیت نہ صرف طلبہ بلکہ معاشرے کے لئے سود مند ہوتی ہے۔ طلبہ کی شخصیت کی تعمیر اورمعاشرے کی تعمیر و ترقی میں یہ حکمت عملی و اصول نہایت کارگر تصور کیا جاتا ہے۔دنیا کے فریم ورک کے احترام سے معاشرہ بھی صحت مند خطوط پر گامزن رہتا ہے۔اساتذہ مروجہ نظام تعلیم کی قباحتوں اور خرابیوں پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔وسائل کی کمی اور تنگی کا گلہ کرنے سے بہتر ہے کہ
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
بچوں کی نفسیات اس بات کی غماز ہے کہ بچے ماحول سے بہت جلد مانوس ہوجاتے ہیں۔ذمہ داران مدارس اور اساتذہ طلبہ کو کمرۂ جماعت میں ایسا ماحول فراہم کریں جو انھیں خود کار اکتساب پر ابھارے سوال کرنے کی جسارت و جذبہ پیدا کرے۔کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ کے جذبہ تجسس اور اکتساب کو مہمیز کرتا ہے۔اساتذہ جب طلبہ پر بندش لگاتے ہیں،روکنے ٹوکنے لگ جاتے ہیں،سوالات کرنے سے باز رکھتے ہیں تب طلبہ کی تخلیقی صلاحیتں ماند پڑنے لگتی ہے اور سیکھنے کا جذبہ بھی کمرۂ جماعت کے غیر موافق ماحول کی وجہ سے دم توڑنے لگتا ہے۔طلبہ کی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے انھیں موافق ماحول فراہم کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔طلبہ کو ایسا اکتسابی و تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جس کے زیر اثر ان کی اکتسابی اور تخلیقی صلاحیتں جلا پا سکے۔اساتذہ کمرۂ جماعت میں طلبہ کو ایسی سرگرمیوں میں مصروف کریں جس کے ذریعہ نہ صرف خود کار اکتساب کی راہ ہموار ہو بلکہ ان کا تخلیقی ذہن بھی ترقی کرپائے۔والدین اور اساتذہ بچوں میں مطالعہ اور کام سے لگن پیدا کرنے کی سعی و جستجو کریں۔اسکول کے علاوہ گھر کاعمدہ ماحول بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردارانجام دیتا ہے۔ اسکول اور گھر بچوں کے منفی رویوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کرنے والا صحت مند ماحول فراہم کریں۔اساتذہ والدین اور ذمہ داران مدارس و محکمہ تعلیم کے ارباب مجاز پر تعلیمی ماحول کی تبدیلی پر انحصار کرنے کے بجائے طلبہ کی اکتسابی وتخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے اپنے سے جو کچھ ہوسکتا ہے کریں۔کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھیں ۔ کمرۂ جماعت میں نصاب ،درسی کتب اور امتحانات کو طلبہ کی تعلیمی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ بنائیں اور اس میں لچک و ندرت پیدا کریں۔اساتذہ کمرۂ جماعت میں ایسا اکتسابی ماحول پیدا کریں جوطلبہ کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہو۔ان کی اکستابی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکتا ہوں ۔ طلبہ کی مختلف ذہنی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ہو اورطلبہ کی تعلیمی ضرویات کی تکمیل کا متحمل ہو۔اساتذہ کمرۂ جماعت میں اکتساب کے فروغ اور طلبہ کی شخصیت سازی کے لئے موافق ماحول کی تخلیق کو ممکن بنائیں۔کمرۂ جماعت کو بچوں کی خیالی دنیا کی طرح رنگین اور جاذب و دل کش ہونا چاہئے۔کمرۂ جماعت کا ماحول روکھا،پھیکا،ساکن و جامد اور بے کیف نہ ہو۔اساتذہ روایتی طریقے تدریس کے بجائے ایسے غیر روایتی تدریسی طریقوں کو اپنائے جو طلبہ کی فطرت سے مطابقت رکھتے ہوں اور ان میں اکتسابی دلچسپی پیدا کرتے ہوں۔اسکولز اور اساتذہ بچوں کو تعلیم و تربیت فراہم کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کرتے ہیں اسی لئے ان پر زائد ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ وہ بچوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کمرۂ جماعت کا ماحول اور اکتسابی
حکمت عملیا ں وضع و اختیار کریں۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں