اسلام،سائنس اور مسلمان

انسانی زندگی کا وجود چندخواص اور بعض لوازم کا محتاج ہے۔ انسان کا مادی وجود جہاں مختلف اشیاء کا متقاضی ہے وہیں وہ روحانیت کا بھی طلب گارہے۔انسان اپنی بے پناہ ایجادی قوت اور ترقی کے باوجود روحانیت کے بغیر تسکین اور اطمینان نہیں پاسکتا ۔ مادیت اور استعمار کی دوڑ میں آج انسان جس قدر آگے بڑھتا جارہا ہے اسی قدر اس کی روحانی تشنگی میں بھی اضافہ ہوتا جارہاہے۔روحانیت کے متلاشی انسان کا روحانیت کی آڑ میں استحصال آج ایک عام بات ہے۔اسلام جہاں سائنسی اور مادی طاقتوں کے بے اعتدالیوں پر ہمیں لگام کسنے کی حکمت ، طاقت ا ور توانائی فراہم کرتا ہے وہیں ہر اس منطق کا ابطال کرتا ہے جو انسانیت کے اصولوں کے مغائرہیں اور کائنات کی بقاء کے لئے ایک سنگین خطرہ بنتے جارہے ہیں۔سائنس علم،تحقیق ،مشاہدے اور تجربات کا ایک شعبہ ہے جس کی بے اعتدالی اور بے راہ روی کو صرف مذہب(قرآن) کنٹرول کرتا ہے۔اس حقیقت کے تناظر میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سائنس قرآن کا متابع ہے نہ کہ قرآن سائنس کا۔ سائنس کا مذہبی امور میں کوئی دخل نہیں ہے لیکن روحانیت کی ضرورت کے پیش نظر مذہب کا سائنسی معاملات میں عمل دخل ضروری ہے تاکہ انسانیت کی بقاء اور دنیا کو امن وسلامتی کا گہوارہ بنانے میں سائنسی علوم کے ماہرین کی بے اعتدالیوں اور علمی بے راہ روی پر روک لگائی جاسکے۔سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ مذہب اور سائنس دونوں بھی انسانی زندگی کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کوئی اس حقیقت سے سرموئے انحراف کرتا ہے تو وہ انسانی وجود کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھاجائے گا۔ سائنسی علوم کے فروغ کے بعد تین اقسام کے لوگ منظر عام پر ابھر کر آئے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔اگر ان تینوں اقسام کے لوگوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے انانیت۔سائنس اور مذہب میں فرق کرنے والوں کی اکثر تعداد انانیت کا ہی شکار نظر آتی ہے۔مذکورہ تین قسم کے لوگوں میں ایک قسم ان مذہبی حضرات کی ہے جو سائنس کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے اور ایسے لوگ مسلمانو ں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔دوسری قسم کے لوگ صرف سائنس کو اہمیت دیتے ہیں ان لوگوں نے مذہب کو کبھی اہمیت نہیں دی بلکہ یہ مذہب اور خدا کے وجود کے منکر بھی ہیں۔تیسر ی قسم کے لوگ پورے معقول رویوں سے مذہب کی تائید کرتے ہیں اور مذہب کو بھی سائنس کی طرح معقول رویوں اور استدالال کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔جن کے لئے مذہب قابل احترام اور سائنس قابل قبول ہے۔معقولیت ،غور و فکر اور تدبر ان کا خاصہ معلوم ہوتا ہے۔پہلی قسم دوغلے پن کا شکار ہے جو مذہب کو تو اہمیت دیتے ہیں لیکن سائنس کے فروغ اور سائنسی استدالال کے یکسر منکر ہیں۔سائنس کی ایجادات اور سہولتوں سے ہر پل لطف وحظ اور آرام اٹھاتے ہیں لیکن لوگوں کو قانون فطرت پر غور و خوض سے باز رکھنے میں تسکین پاتے ہیں۔دوسری قسم کے لوگ اپنی علمی بے اعتدالی کے باعث سائنسی علوم بلکہ انسانیت کے لئے ننگ نام بنے ہوئے ہیں۔ان لوگوں کی علمی موشگافیوں کی وجہ سے سائنس عوامی برہمی اور مذمت کے نشانے پر ہے۔یہ لوگ علم کے درپردہ منشائے فطرت و قدرت سے بغاوت میں مصروف ہیں۔اس دوسری قسم کے لوگوں کو اگر کانا دجال سے تشبیہہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔یہ لوگ سائنسی علوم کی ایک آنکھ رکھتے ہیں۔دانش و بینش اور عقل و فہم کی دوسری آنکھ سے یہ محروم ہے یاپھر ان کی دوسری آنکھ بند ہے۔سائنس کے فروغ اور ایجادات کے یہ علمبردار تو ہیں لیکن انسانیت ان کی علمی بے راہ روی کی وجہ سے تباہی و بربادی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔تیسر ی قسم کے لوگ سائنس اور مذہب دونوں کی یکجائی کے موئید ہیں اور اس کام میں ہمہ تن جڑے ہوئے بھی ہیں۔تیسری قسم کے افراد کا یہ کام انسانیت کی بقاء اور جذبے بقائے باہم کے فروغ میں بہت معاون بھی ہے۔سائنس کی جتنی بھی علمی حیثیت ہے وہ بجا ہے لیکن اس پر خدا بیزار طبقے نے جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے وہ سائنس کے اختیار کر دہ رویوں کے مغائر ہے۔کیونکہ ایک متعین علم کسی غیر متعین علم کی تعریف ہر گز نہیں کر سکتا ۔
سائنس اور قرآن:۔ سائنسی علوم اورقرآن کے مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ سائنس اور قرآن دونوں بھی دلیل و استدلال کے طلب گار ہیں۔ جہاں سائنس دلیل و حقائق پر مبنی ایک ایسا علم ہے جس میں بغیر دلیل کے کسی کلیے کو شرف قبولیت نہیں بخشا جاتاوہیں قرآن بھی تشکیک و ابہام کو گناہ قراردیتاہے۔اگر سائنس کے اس مزاج کو پرکھاجائے تو یہ عین اسلامی مزاج کے مطابق نظر آتا ہے۔اسلام حق پسندی،صداقت کا علمبردار علم دوست مذہب ہے۔قرآن علم اور صداقت کا حامی ہے۔اسلام روئے زمین پر وہ پہلا مذہب ہے جس نے آفاق و انفس کے مطالعے اور غور و خوض پر لوگوں کو ابھارا ،بلایا بلکہ دنیا کو صداقت اور سچائی کا جویا بنایا۔اسلام کے اسی مشاہدہ بینی اور تحقیقی مزاج نے دنیا کو علم و تحقیق کی جانب مائل و گامزن کیا۔قرآن میں جابجا سائنسی مضامین اور عنوانات کا واضح ثبوت موجود ہے۔قرآن میں اگر سائنسی مضامین کو تلاش کیا جائے تو ہمیں فخر ہوگا کہ قرآن کے مضامین میں حیاتیات(بیالوجی) کے متعلق علوم کا 328،مقامات پر،کیمیاء کے متعلق 37مقامات پر ،ریاضی کے تعلق سے 19،گنتی اور اعداد شماری کا باقاعدہ نظام ،طبیعات (فزکس) کے متعلق قرآن میں 31آیات کی موجودگی سائنسی مضامین کے درس و تدریس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ قرآن ،تدریس سائنس کا شد و مد سے حامی نظرآتا ہے۔قرآن کے بیان کردہ اصولوں کو آج تک سائنس غلط ثابت نہیں کر سکی۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قرآن اور اسلام نے سائنس کے دامن کووسعت اور وقار عطا کیا۔امبریالوجی(Embryology)کے معروف سائنسدان کیتھ ایل مورے(Keith L Moore)نے قرآن میں موجود امبریالوجی کی زیرک نکات پر غور و خوض کرنے کے بعد اسلام اور قرآن کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ڈاکٹر کیتھ ایل مورے اپنے ایک مقالے میں یو ں رقم طراز ہیں’’یہ بات مجھ پر عیاں ہوچکی ہے کہ یہ بیانات(انسانی نشوونما سے متعلق امبریالوجی کے زیرک نکات)محمد ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کئے گئے ہیں ،کیونکہ امبریالوجی کی جن باتوں کی آج ہم توضیح و تشریح کر رہے ہیں انھیں چودہ سو سال قبل قرآن نے پیش کردیا ۔اس سے یہ بات مجھ پر ثابت ہوتی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں‘‘۔قرآن،بائیبل اور سائنس کے مصنف موریس بوکالے(Maurice Buccaille) کااسلام اور قرآن کو سائنسی مزاج کا مذہب اور کتاب تسلیم کرتے ہوئے مسلمان ہونا دنیا کو سائنسی علوم سے لیس کرنے اور فروغ دینے میں قرآن اور اسلام کی خدمات کا ایک اعتراف ہے۔سائنسی علوم کے اکابرین کا بھی اس بات پر اجماع ہے کہ سائنسی ایجادات اور قرآنی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ۔اگر بالفرض کہیں تضاد محسوس بھی کیا جاتا ہے تو یہ تضاد محض قرآنی تعلیمات کی روح تک نارسائی کی وجہ سے ہے یا پھر سائنسی تجربے ،مشاہدے میں پائے جانے والے نقائص اس کا سبب ہیں۔
قرآن کے سائنسی مزاج سے دنیا کو متعار ف کرنے کی ضرورت؛۔کسی بھی شئے کی اہمیت و فضیلت اس کی نفع رسانی پر منحصر ہوتی ہے۔سائنس اپنی نفع بخشی اور ایجادات کی وجہ سے مقبول خاص و عام
ہوچکی ہے۔اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا کہ سائنس آج زمانے کی ضرروت بن چکی ہے۔سائنس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔سائنس کی ہمہ گیریت اور اثر پذیر ی کی وجہ سے قرآنی علوم سے نا آشنا بعض نام نہاد جدید علوم کے ماہرین اسلام سے شاکی نظرآتے ہیں۔قرآن صرف شرعی احکام ،دینی امور ،مراسم عبودیت ،عقائد و احکام کا مرجع نہیں ہے بلکہ قرآن سائنسی علوم کے متعلق ہر پل ہماری رہبری و رہنمائی کرتانظرآتا ہے اور قرآنی آیات کی تشریٖح و تفہیم کے تحت کئی سائنسی مواد پرمباحث ہمیں مطالعے قرآن کے دوران ملتے ہیں۔میری نظر میں سائنسی معلومات سے قرآن فہمی میں بہت زیا دہ مدد ملتی ہے۔مثلاً جدید سائنسی نظریات کی رو سے زندگی کاآغاز پانی سے ہوا۔اس تناظر میں سورۃالانبیاء کی آیت نمبر 30’’ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی ہی سے پیدا کیا ہے‘‘۔ہمارے سائنسی مزاج کو نمو دینے کے لئے کافی ہے کیونکہ نطفہ بھی تو مائع ہی کی ایک شکل ہے اگر ہم اسے مجازًپانی کہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ جہاں اس کا ہر لفظ گنجینہ معنی کا پرتو ہے اور نئے معنی اخذ کرنے کی گنجائشرکھتا ہے وہیں اس کے پرانے مفاہیم کو بھی غلط ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ڈاکٹر حمید اللہ صاحب مورخ اسلام و مفسر قرآن کے مطابق جدید سائنسی نظریات سے متاثر ہوکر قرآنی حقائق کو سائنسی علوم کے مزاج کے مطابق ڈھالنا قطعاًدرست عمل نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ سائنسی علوم ،نظریات و مفروضات دائمی نہیں ہوتے ہیں بلکہ انسانی شعور اور تحقیق کی روشنی میں بدلتے اور ترقی پاتے رہتے ہیں۔علم کی ترقی کے ساتھ سائنسی نظریات اور مفروضات میں تبدیلی اور تغیر پیدا ہونا لازمی ہے۔اس تناظر میں ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے نصوص کو غیر یقینی اور متبدل نظریات پر محمول نہ کریں۔قرآن انسانیت کی رہنما کتا ب ہے۔قرآن زندگی کے سفر میں انسان کو مصائب ،دقتوں اور پریشانیوں سے بچاتا ہے۔قرآن زندگی سے وابستہ ہر شعبہ علم میں انسانیت کو رہبری فراہم کرتا ہے۔اس ضمن میں علامہ سیوطیؒ رقم طراز ہیں’’کتاب خدا وندی ہر چیز کی جامع کتاب ہے،کوئی علم اور مسئلہ ایسا نہیں جس کی اصل و اساس قرآن کریم میں موجو د نہ ہو، قرآن میں عجائب المخلوقات ،آسمان و زمین کی سلطنت اور عالم علوی و سفلی سے متعلق ہر شئے کی تفصیلات موجود ہیں،جن کی شرح و تفصیل کے لئے کئی جلدیں درکار ہیں‘‘۔(تفسیر جلال الدین سیوطیؒ ،جلد 2, سورۃالمومنون آیت نمبر 12،13،14)۔سائنس کائنات ،حیات انسانی کے جن پہلوؤں کو اپنی تحقیق کے ذریعے اجاگر کرتی ہے ان پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے میں قرآن کی آیات ہمار ی مدد کرتی ہیں۔’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی،یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے‘‘۔(حم السجدہ53)۔سائنس مظاہر قدر ت پر غور و خوض میں مصروف ہے اور قرآن انسانوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ انفس اور آفاق کی گتھیوں کو سلمجھانے کے لیے اللہ کی دکھائی گئی نشانیوں کو عبث نہ سمجھیں بلکہ غوو خوض اور تدبر سے کام لیں۔دیگر مذاہب اور ان کی کتابوں میں انسانوں کو غور وخوض اور فکر و تدبر سے روکا گیا ان افکار کے ردعمل میں سائنسی علوم اور سائنسدانوں کا مذہب بیزاری کی جانب مائل ہونا لازمی تھا۔سائنسی علوم کے ماہرین خواہ ان کا تعلق مشرق یا مغرب سے ہو اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب اور قرآن ہی وہ واحد کتا ب ہے جو انسانوں کو غوروفکر اورمشاہدے و تجربے کی جانب راغب کرتی ہے جو کہ سائنس کا اساسی کلیہ ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام اور سائنس کبھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوئے۔اگرسائنس اور اسلام کے تصادم کے حوالے سے چند مسلمانوں کا تذکرہ بھی کیا جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ یہ ان کی رجعت پسندی تھی نہ کہ قرآنی اور اسلامی تعلیمات۔
سائنسی علوم کے فروغ میں نظام تعلیم اور اساتذہ کا کردار؛۔کسی بھی معاشرے کی ترقی و تنزل کا راست تعلق اس کی علمی صلاحیت اور معیار پر منحصر ہوتا ہے۔حصول علم کے اولین مقاصد میں تحقیق ،جستجو،تجربہ ،مشاہدہ، اور حقائق تک پہنچنے کی سعی و کاوش شامل ہوتے ہیں۔تحقیق ،جستجو،تجربہ اور مشاہدے کاجویا اپنے شاگردوں میں پیدا کرنے میں اساتذہ کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔ معاشرے کو اوج کمال تک پہنچانے میں سائنسی انداز فکر اور سائنسی مزاج کا پایا جانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔سائنس کی تحقیق ،ترقی و تنزل کا راست تعلق معاشرے کے نظام تعلیم سے جڑا ہوتا ہے۔کسی بھی ملک و معاشرے کا طرز زندگی اس کے نظام تعلیم کا پرتو ہوتا ہے ۔بچوں کی شخصیت بھی اسی نظام تعلیم کے تحت ڈھلنے لگتی ہے۔تعلیم معاشرے کو فرسودہ بندیشوں سے آزادی فراہم کرنے میں کلیدی کردار نبھاتی ہے اسی لئے مقاصد تعلیم میں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ آیا ہم تعلیم کو معاشرے کی تبدیلی اور جدید کاری کے ایک ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا پرانی فرسودہ اور غیر معقول روایات پر جمے رہتے ہیں۔اسلام روایات شکن مذہب ہے ۔ فرسودہ ، غیر عقلی اور خلاف انسانیت تعلیمی روش کا اسلام نے سد باب کیا ہے۔اسلام نے ہر مسلمان پر غو و خوض اور فکر و تدبر پر زور دیا۔تعلیم کے حصول کو ہر مسلم پر فرض قرار دیا۔تحصیل علم کے متعلق کہا کہ ’’میری بات دوسروں تک پہنچاو اگر چیکہ وہ ایک بات ہی کیوں نہ ہو‘‘۔(حدیث)۔عموماًاساتذہ کے بے پروائی اور عدم توجہ کے باعث سائنس کو طلبہ ایک خشک اور غیر دلچسپ مضمون سمجھنے لگے ہیں۔اساتذہ کی معلمانہ جہالتوں کے باعث مضمون سائنس کا مطالعہ آج طلبہ کے لئے ایک سزا سے کم نہیں ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ سائنس کے اساتذہ ،سائنس کے چند ضابطے(فارمولے) خاکے اور بنیادی معلومات کو بغیر کسی تفہیم و تشریح کے طلبہ کے دماغوں میں ٹھونستے رہتے ہیں۔ایک لائق استاد جانتا ہے کہ جس طرح سے کسی سوراخ والے برتن میں پانی یا کوئی بھی مائع ذخیرہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے بالکل اسی طرح رٹے بازی کا علم بھی دماغ سے ایسے محو ہوجاتا ہے جس طرح سے سوراخ والے برتن سے پانی خارج ہوجاتا ہے۔سائنسی نظریات و ر جحانات سہل تفہیم و تشریح کے بغیربے کیف اور بے جان ہوجاتے ہیں اور یہ مضمون طلبہ کے لئے سوہان روح بن جاتا ہے۔ہمارے روایتی اور فرسودہ طریقہ ہائے تدریس برائے سائنس کی وجہ سے سائنس اپنی اہمیت اور افادیت سے دور ہوتی جارہی ہے۔سائنس کے اساتذہ کو اس جانب توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کو سائنسی مضامین کی جانب راغب کیا جاسکے ۔مسلمانوں کا سائنس سے عدم التفات ہی ان کی معاشی اور دیگر پسماندگیوں کا سبب ہے۔اگر ہماری تعلیم میں سائنس کی معیاری تدریس بھی شامل رہیں گی تو یقیناً ہم غیر شعوری طور پر اپنی عمومی زندگیوں میں بھی سائنسی طرز کو اختیار کرنے لگیں گے۔سائنسی مزاج پیدا ہونے کے بعد یقیناًً آدمی جواز ،ثبوت اور شواہد کا مطالبہ کرے گا۔جب کوئی فرد اپنی بات کو جواز ،ثبوت اور شواہد کے بغیر پیش کرے گا تو پھر ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ان اوصاف کی وجہ سے آدمی غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہے گا ۔اپنی غلطی تسلیم کرئے گا اور بے جا انانیت کا اظہار کرنے سے باز رہے گا۔مسلم معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم بات کی تصدیق اور تحقیق کے بجائے اختلاف اور تضاد کو قیاس آرائیوں پر ہوادینے لگتے ہیں اور باہمی مسائل میں پیچیدگیاں بڑھتی جاتی ہیں۔سائنس ہماری ترقی میں ہی مددگارنہیں ہے بلکہ ہمارے سماجی رویوں کو بدلنے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہماری شخصیت کا جھول ختم ہوجاتا ہے اور ہم معاشرے کے لئے قابل قبول بلکہ قابل تحسین ہوجاتے ہیں۔سائنس صرف ڈاکٹر ،انجینئر یا سائنسدان نہیں پیدا کرتی ہے بلکہ ہماری زندگی کے عام رویوں میں بھی تبدیلی کی نقیب ہوتی ہے۔
عصر حاضر کے مسلمانوں کی سائنس سے عدم توجہ؛۔آج مسلمان سائنسی علوم میں پیچھے رہنے کے باعث مادی اور معاشی ترقی میں بہت پسماند ہ ہوگئے ہیں۔آج زمانے میں جتنی بھی مصنوعات اشیاء خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہوں ان کے ایجادات اور دریافت میں کسی مسلمان کا کوئی عمل دخل اوراعانت شامل نہیں ہے۔آج دنیا میں مسلمانوں کے زیر تصرف 57ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے۔دنیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک ارب 60(ساٹھ )کروڑ پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے لئے بڑی شرمندگی کی بات ہے کہ اب تک صرف تین مسلمانوں نے نوبیل پرائز حاصل کیا
ہے۔دنیا کی پانچ سو (500)یونیورسٹیوں کی لسٹ میں چند مسلم یونیورسٹیز کا نام شامل ضرورہے لیکن دنیا کی 100ٹاپ یونیورسٹیز میں کسی مسلم یونیورسٹی کا نام تک شامل نہیں ہے۔ابھی حال میں کی گئی یونیورسٹیز
کی عالمی درجہ بندی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایشیاء کی ٹاپ10یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے لیکن یہاں بھی سائنس کی تحقیق اور سائنس علوم کی ترویج و فروغ کی سمت کی جانے والی پیش رفت اطمینان بخش نہیں ہے۔عرب ممالک میں سائنس تو کجا نظام تعلیم ہی ا طمینان بخش نہیں ہے۔اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلم جامعات کے عالمی درجے میں کسی قدر اضافہ ضرورہوا ہے لیکن عالمی معیار کی جامعات آج تک ہم قائم نہیں کرسکے۔
کسی بھی چیز کی قبولیت ،فضیلت اس کی نفع رسانی پر منحصر ہوتی ہے۔جاپان میں بد ھ مذہب کا جب اولین دور میں داخلہ ہوا تو اس کے حکمران نے حکم صادر کیا کہ پہلے اس مذہب پر چند لوگوں کو عمل پیرا کیا جائے اگر اس مذہب کے ذریعے ان کے طرز زندگی میں تبدیلی ،معاشی خوشحالی،روحانیت اور پاگیزگی پیدا ہوجائے تو اس کو ہم اپنی پوری مملکت میں نافذ کردیں گے۔یہ قول ہم مسلمانو ں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ نے کے لئے کافی ہے کہ کیا آج مذہب ہماری زندگیوں کو تبدیل کر رہا ہے۔کیا ہم اپنے ہاتھوں مذہب کی تذلیل اورمذہب اسلام کے لئے ننگ نام بنے ہوئے نہیں ہیں۔آج کے ہمارے مزاج اور ہماری طرز زندگی دیکھ کر کوئی اسلام قبول کرسکتا ہے ۔ہمیں آج اس بات پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں